ہم جنریشن زی کو سمجھنے میں غلطی کررہے ہیں؟

اصطلاحاً جنریشن زی سے مراد وہ نسل ہے جو 1997ء سے 2012ء تک پیدا ہوئی ہے۔ اس کے بعد والے الفا جنریشن کہلاتے ہیں۔ یعنی جو لڑکے اس وقت 18، 19سال سے لے کر 27، 28تک ہیں، یہ سب جنریشن زی ہیں۔ اگر ہم پاکستانی پس منظر میں بات کریں تو اس کا مطلب یہ ہوا پاکستان کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ کالجوں، یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات جنریشن زی ہیں۔ تمام نوجوان ڈاکٹرز، انجینئرز، سافٹ ویئر انجینئرنگ، آئی ٹی، بینکنگ، لا، اکاؤنٹس، آرکیٹیکچر، فائن آرٹس، بزنس ایڈمنسٹریشن، شیف، ٹیکنیشن، نرسنگ اسٹوڈنٹس غرض ان تمام شعبوں کو سیکھنے والے، تعلیم حاصل کر کے مارکیٹ میں آنے والے سب ہی جین زی ہیں۔ صرف یہی نہیں پاکستان کے تمام دینی مدارس میں پڑھنے والے کئی ملین طلبہ وطالبات بھی جنریشن زی ہیں۔ ہمارے دائیں بائیں، گلی محلے، بازاروں میں مختلف نوعیت کے ٹیکنیکل کام یعنی پلمبر، الیکٹریشن، کارپینٹر، موٹرسائیکل مکینک وغیرہ کو سیکھنے والے بھی جنریشن زی ہیں۔ تھوڑا غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ میری نسل (50 سال کے لگ بھگ) کے تمام لوگوں کے بچے جنریشن زی ہیں یا پھر الفا جنریشن۔ تھوڑا سا مزید وسیع کریں تو یہ سمجھ لیں کہ میرے، ہمارے، آپ کے ٹین ایجر بچوں کے ہونے والے ممکنہ لائف پارٹنرز (بہو، داماد) بھی جنریشن زی ہیں۔ میری عمر کے لوگ اپنی بیٹی کے لیے جو داماد ڈھونڈیں گے، اپنے بیٹوں کے لیے جو بہو لائیں گے وہ بھی خیر سے جنریشن زی ہوگی یا بمشکل دو تین سال پہلے ہی اس فیز سے نکلی ہوگی۔

اس کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا یہ مطلب ہوا حضور والا کہ میری، آپ کی، ہماری، ہم سب کی زندگیوں کا دارومدار اسی جنریشن زی پر ہے۔ ہم اپنے کام کاج، علاج معالجے، ہر دنیاوی اور دینی مسئلے کے حل کے لیے انہی نوجوانوں کے محتاج ہیں۔ ہسپتال جائیں گے تو نرس سے لے کر میڈیکل ٹیکنیشن اور پھر علاج کے لیے ڈاکٹر سے ڈسپنسر اور پھر میڈیکل اسٹور میں دوائیاں دینے والا بھی جنریشن زی ہے۔ یہی سب کچھ آپ آرام سے باقی تمام شعبوں پر بھی فٹ کر دیں۔

جنریشن زی بمقابلہ بومرز کا معاملہ کیا ہے؟
اصطلاح کے مطابق ”بومرز” سے مراد وہ لوگ ہیں جو دوسری جنگ عظیم یعنی 1946ء سے 1964ء تک پیدا ہوئے۔ یعنی 50کے عشرے اور 60کے عشرے کے وسط تک پیدا ہونے والے۔ اس اصطلاح پر غور فرمائیں تو پاکستان میں شرح وفات دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بومرز کی بڑی تعداد تو دنیا سے رخصت ہی ہو چکی ہے۔ ان کا نصف سے کم حصہ ہی بچا ہے جو کہ اس وقت 65سے 75برس تک ہے۔ یعنی تکنیکی طور پر یہ تمام لوگ ہر قسم کی سرکاری، پرائیویٹ ملازمتوں سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 70، 75سال کے کسی بوڑھے، ریٹائر، بیمار بزرگ سے کسی نوجوان کو کیا پرخاش ہو سکتی ہے؟ آج کے لڑکے یا لڑکیاں اپنے والد ہی نہیں بلکہ دادا، نانا کی عمر کے بزرگوں پر کیوں برہم یا ناراض ہوں گے؟ اصل میں بومرز ایک مائنڈ سیٹ کا نام بھی ہے۔ اس کا تعلق عمر سے تو ہے ہی مگر یہ ذہنی اپروچ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک ساٹھ 65، 75یا 80برس کا شخص کشادہ ذہن اور عوام دوست خیالات کا حامل ہو۔ جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک 20، 22سالہ نوجوان اپنے گلے سڑے خیالات، ازکار رفتہ سوچ، فکری غلامانہ طبعیت کی وجہ سے بومرز کا حصہ ہو۔ مسئلہ جنریشن زی یا بومرز کی لڑائی کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کون غلط جگہ اور غلط سمت پر کھڑا ہے۔ البتہ یہ ہے کہ پاکستان میں کئی غلط چیزیں پچھلے 50، 60برسوں سے ہو رہی ہیں۔ جیسے حب الوطنی کو بطور ہتھیار اور اموشنل بلیک میلنگ استعمال کرنا۔ جو سوال اٹھائے اسے غدار کہہ دینا۔ مختلف لسانی، قومیتی کارڈز کھیلنا وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے بومرز نے بھی فیس کیں، میری جنریشن ایکس نے بھی انہیں سہا جبکہ اس کے بعد والی جنریشن ملینیئلز بھی کسی نہ کسی طرح انہیں برداشت کرتی رہی۔ جنریشن زی کے پاس البتہ اس حوالے سے زیرو ٹالرینس ہے۔ ہمارے بچے ان باتوں پر بے وقوف بننے کو ہرگز تیار نہیں۔ وہ انہیں ذرا بھر بھی اہمیت نہیں دیتے اور فوری رد کر دیتے ہیں۔ اس احتجاجی باغیانہ طرز فکر اور طرزعمل کو آپ چاہیں تو اینٹی بومرز کہہ لیں، درحقیقت یہ ان پرانے، گھسے پٹے حربوں کے خلاف ابھرتی سوچ ہے۔

میری دیانت دارانہ رائے میں یہ کہنا غلط ہے کہ نوجوان نسل بے وقوف، کم پڑھی لکھی، کم سمجھدار ہے۔ جنریشن زی کتابیں نہیں پڑھتی، سوچتی نہیں، ان میں فکری گہرائی نہیں جیسی باتیں بھی درست نہیں۔ ہر نسل میں پڑھنے والے اور نالائق دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ کتابی کیڑے اور کتابوں سے بیزار بھی۔ ایسا نہیں کہ بومرز میں سب کتابیں پڑھنے والے، لائق فائق جینئس تھے۔ ایسا بھی ہرگز نہیں تھا کہ ہماری نسل جنریشن ایکس یعنی جو لوگ آج 40سے 55کے ہیں، یہ کتابیں سرہانے رکھ کر سوتے ہیں، رات کو اٹھ کر شعر کہتے اور نوٹ بک میں لکھ ڈالتے ہیں۔ نہیں بھائی ہم بھی اتنے ہی گئے گزرے ہیں جتنے ہم سے پہلے والے تھے۔ ہر دور میں چند ہزار لوگ یا لاکھ دو لاکھ کہہ لیں، صرف اتنے ہی کتابیں پڑھنے والے، بحث مباحثے کرنے والے ہوتے ہیں۔ باقی عظیم اکثریت ان تمام فکری مباحث سے بے نیاز رہتی ہے۔ کتابیں 50سال پہلے بھی کم ہی پڑھی جاتی تھیں، آج بھی وہی حال ہے۔ غالب، میر، اقبال، فیض پر لکھی کتاب کا ایک ہزار کا ایڈیشن 50کے عشرے میں نہیں بکتا تھا، 70، 80، 90اور آج کے زمانے میں بھی کم وبیش وہی حال ہے۔ سیاسی شعور بھی ملا جلا ہی رہا ہے۔ ووٹ بیچنے والے 40، 50سال پہلے بھی پیسے لے کر ووٹ بیچ دیتے تھے، آج بھی وہ پیسے پکڑ لیتے ہوں گے۔

البتہ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ پچھلے الیکشن میں لوگوں نے قیمے والے نان، بریانی وغیرہ سے بے نیاز ہوکر ووٹ ڈالے۔ غیر معروف، الٹ سلٹ سے انتخابی نشان ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان پر مہریں لگائیں۔ ایسا کرنے والوں میں بومرز بھی تھے، جنریشن ایکس، ملینیئلز اور جنریش زی سب ہی شامل رہے۔ آج کے نوجوانوں کا سٹائل اور طریقہ مختلف ہے۔ ہماری نسل کے لوگ بھی نوجوانی میں کسی قدر جارح اور باغی تھے۔ آج کا نوجوان اس حوالے سے دو ہاتھ آگے ہے۔ اس کا اظہار کا اپنا ہی ایک طریقہ کار ہے جس سے ہم اختلاف تو کرسکتے ہیں مگر بہرحال اسے قبول کرکے گزارا ہی کرنا پڑے گا۔ یہ یاد رکھیں کہ ہم جنریشن زی کے ساتھ انٹرایکشن کرکے، بات کرکے، ان سے مکالمہ کرکے اپنی بات انہیں سمجھا سکتے ہیں۔ ان کے موقف کو کچھ نرم اور منطقی بناسکتے ہیں۔ ان میں توازن لانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ یہ سب مگر حکمت اور سلیقے سے کرنا ہوگا۔ انہیں رد کر کے، پرے دھکیلنے کے بجائے، پیار سے، نرمی سے محبت سے ان کے دل جیتنا ہوں گے۔ اس سے پہلے مگر پوری غیرجانبداری سے، کھلے دل و دماغ کے ساتھ کسی تعصب کے بغیر ان کی بات سننا ہوگی۔ یہ بات ہمارے فیصلہ سازوں اور اشرافیہ کو جتنا جلد سمجھ آ جائے، اتنا ہی ملک و قوم اور ہم سب کے لیے اچھا ہوگا۔ ورنہ اپنے بچوں سے لڑی گئی جنگ جیت کر بھی ہم شکست خوردہ اور لوزر ہی رہیں گے۔