اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں ایس ایم ایز کی ترقی سے برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے سمیڈاکے بزنس پلان کے حوالے سے اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے آئندہ 3 سال کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے قابل عمل اور مؤثر پلان تشکیل دینے پر معاون خصوصی ہارون اختر اور سمیڈا کے نو منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پذیرائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی ترقی سے ملکی برآمدات میں اضافے کی بھرپور استعداد موجود ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بینکوں اور دیگر مالی اداروں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔
اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو درپیش مسائل، ان مسائل کے سدباب کے لیے لائحہ عمل، ایس ایم ایز کو ملکی برآمدات میں شامل کرنے کے لیے حکمت عملی اور بزنس پلان میں شامل دیگر اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو پاکستان کے ایس ایم ایز سیکٹر کو عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنیادوں پر متعارف کرانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ جاری تعاون کو مزید بڑھانے کے حوالے سے جاری اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ملاقات کی جس میں پارلیمانی امور، تحریک انصاف سے ممکنہ مذاکرات، اپوزیشن لیڈر کی تقرری اور اسپیکر کے حالیہ دور ہ بنگلہ دیش سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں قومی و علاقائی سفارتی پیش رفت اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ بنگلہ دیش پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ دورہ سفارتی لحاظ سے نہایت مثبت اور انتہائی کارآمد ثابت ہوا۔
ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ہونے والی مختصر اور غیر رسمی ملاقات پر بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو بنگلہ دیش کے کامیاب اور مثبت دورے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر سے ان کی ملاقاتیں ہمیشہ خوشگوار رہی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کا فروغ ناگزیر ہے۔ ملاقات میں وزیراعظم نے اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سیاسی استحکام کے لیے پارلیمانی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔

