چانکیہ، میکاولی کی شاطرانہ اور ”سدا بہار” ہدایات

چانکیہ ایک ہوشیار، عیار اور ذہین ترین شخص تھا۔ وقتاً فوقتاً حکمران کو اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے گر اور فارمولے بتاتا رہتا تھا۔ حاکمِ وقت ان پر عمل پیرا ہوکر اقتدار کے ہزاروں مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے باوجود تخت سے چمٹے رہتے تھے۔ اس وقت کے فرمانروا ”چندر گپت موریہ” کے حکم پر چانکیہ نے ”ارتھ شاستر” نامی کتاب بھی لکھ ڈالی۔ یاد رہے کہ چندر گپت موریہ نے ہندوستان میں ”موریہ” خاندان کی ایک طویل و عریض سلطنت قائم کی تھی۔ اس کی سرحدیں کابل سے مدراس تک پھیلی ہوئی تھیں۔ چانکیہ نے اپنی کتاب میں ایسے گر اور فارمولے بتائے جن کے بغیر لمبی حکومت کرنا ناممکن ہے۔ چانکیہ کی ”ارتھ شاستر” نامی اس کتاب میں سفارت کاری پر پورا ایک باب ہے۔ چانکیہ کی سفارت کاری ”دشمن کا دشمن دوست” اور ”ہمسائے کا ہمسایہ دوست” جیسے اُصولوں پر مبنی ہے۔ مثلاً یہ کہ ”اگر کسی دشمن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کے دشمنوں کو اپنا دوست بنا لیں۔ وہ نفسیاتی طورپر ختم ہو جائے گا۔ ریاست کے ہمسائے ہمیشہ آپ کے دشمن ہوتے ہیں۔ ان کو دوست بنانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ وہ کبھی آپ کے دوست نہیں بن سکیں گے۔ ہمسایوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کو دوست بنائیں، آپ کا ہمسایہ دشمن نفسیاتی اور ذہنی طورپر تباہ ہو جائے گا۔ چانکیہ کی تعلیمات میں وعدہ خلافی، جھوٹ، مکروفریب اور دھوکا دہی سے کام لے کر اپنے مخالف کو زیر کرنا بے حد ضروری ہے۔”

ان جیسے درجنوں ”سنہری اُصول” تھے جن پر چندر گپت موریہ نے پوری زندگی عملدرآمد کیا اور نتیجے میں وہ ہندوستان کے ایک وسیع علاقے پر حکومت کرتا رہا۔ چانکیہ کے فلسفے سے اتفاق کرتے ہوئے بعد کے بھی کئی حکمران اس پر عمل کرتے آرہے ہیں بلکہ اب تو ان کے فلسفے کو عالمی شہرت مل چکی ہے۔ ہٹلر کی طرح اس کا بھی کہنا تھا: جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ یقین کرنے لگیں۔ شاید انہیں فلسفوں کو مشعلِ راہ مان کر ہمارے حکمران بھی اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ بعض اوقات خود بھی شرما جاتے ہیں اور قوم سے معذرت کرنا پڑتی ہے۔

اسی طرح جب اٹلی اپنے بدترین دور سے گزر رہا تھا۔ ملک اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی صورتِ حال انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ عوام ظلم کی چکی میں پس رہے تھے تو ایسے حالات میں ”میکاولی” اٹلی کے لیے ”نجات دہندہ” بن کر آیا۔ یہ اٹلی کے شہر ”فلورنس” کا باشندہ تھا۔ اس نے بھی وقت کے بادشاہ کو بہت ہی قیمتی مشورے دیے اور بعدازاں بادشاہ کے حکم پر The Prince نامی کتاب لکھی جسے بہت شہرت ملی۔ اس کے چند گر اور اصول یہ ہیں: ”اپنے ذاتی اغراض ومقاصد کو اولین ترجیح دو اور ان کا حصول سرفہرست رکھو۔ طاقت ور حکمران کو کمزور عوام پر ڈرانے، دھمکانے والے قوانین نافذ کرنے چاہییں تاکہ ان کی سرکشی اور بغاوت کو کچلا جا سکے۔ بے رحمی، سفاکیت اور ظالمانہ روش وہ لازمی اوصاف ہیں جن کے بغیر کسی اچھی حکمرانی کا تصور بھی محال ہے۔ خوف وہراس کی فضا انتہائی ضروری ہے تاکہ ریاست کی حکمرانی موثر انداز سے عمل پذیر ہوتی رہے۔ دبدبہ، ڈر اور رُعب سے متاثر کرنے کے مواقع سے فائدہ اُٹھائو۔ ایک اچھے حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اُتار دے اور اگر ضرورت سمجھے تو دوستوں کو بھی مار دینا چاہیے۔ خاص کر اپنے رشتہ داروں سے بے حد چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ قرابت داری کی آڑ میں اس کا خون ہی نہ کر دیں۔ بادشاہ کو نیک بننے کی ضرورت نہیں البتہ نیکی کا ڈھونگ رچانے میں کوئی حرج نہیں۔ اچھا بننے کی کوشش حکمرانی کے لیے زبردست خطرہ ہے کیونکہ اس سے عوام جری، دلیر اور بے خوف ہو جاتے ہیں۔ البتہ اچھا بننے کی ایکٹنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ بھی درحقیقت ظلم وسفاکیت کے ہتھیار ہوتے ہیں۔ لہٰذا حاکم کو چاہیے کہ زبان پر تو رحم وشفقت کے بول ہوں البتہ دل میں فقط سفاکیت اور سنگ دلی ہو۔ ایک اچھے بادشاہ کو کنجوس، لالچی اور بخیل ہونا چاہیے۔ اپنے عوام کی دولت بے دریغ نہیں لٹانی چاہیے البتہ دوسرے ممالک کی دولت لوٹنے میں بے حد ماہر اور طاق ہونا چاہیے۔ کسی کی عزت وتکریم نہیں کرنی چاہیے بلکہ صرف اور صرف اپنی عزت اور تکریم کو مقدم رکھنا چاہیے۔ ایک بہترین حکمران میں دوسرے کو برداشت نہ کرنے کا عزم بدرجہ اتم ہونا چاہیے۔ دھوکہ دہی اور فریب بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ ایسے موقع روز روز نہیں آتے اور نادان بعد میں کفِ افسوس ملتے ہیں۔ حکمران کو دوسرے کے حقوق کی فکر میں ہرگز ہلکان نہیں ہونا چاہیے۔ بالخصوص غیرملکیوں کے نام نہاد حقوق کا تو بالکل خیال نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ ان سے حکومت کو بغاوت کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ البتہ ان پر بھاری بھرکم ٹیکس عائد کرنے چاہییں تاکہ ان کو خوب لوٹا جا سکے اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ حکمران کو تمام فوائد اور سہولیات پر قدرت ودسترس ہونی چاہیے مگر یہ فوائد وسہولیات کسی دوسرے کو ہرگز نہیں عطا کرنے چاہییں۔ جب تم اپنے دشمن پر غلبہ حاصل کرلو تو اس کے خاندان اور عزیز واقارب کا نشان مٹا دو ورنہ اس کے کچھ رشتہ دار کسی زمانے میں قوت حاصل کر کے تم سے تمہاری غلط کاریوں کا انتقام لے سکتے ہیں۔”

چانکیہ اور میکاولی کی یہ ”سدا بہار” ہدایات اور اصول مجھے ایسے ہی اپنے حکمرانوں کے خوشنما بیانات، عوام کے لیے سنہرے خواب پر مشتمل اشتہارات اور خصوصی ایڈیشنوں سے یاد آئے۔ ہم نے وطن عزیز پاکستان اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور خلافت راشدہ کی روایات کو زندہ کرنے کے لیے حاصل کیا تھا اور ہمارا آئین بھی قرآن و سنت کی بالادستی کی ضمانت دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے اس مملکت خداداد کو تاحال مجموعی طور پر چانکیہ اور میکاولی کی ہدایات اور اصولوں کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو اگر حقیقی فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہمیں اسلام کی ارفع تعلیمات کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری نجات اور فلاح ہے۔