پاکستان کے خلاف نیا جنگی محاذ!

بین الاقوامی سیاست میں بعض جنگیں توپوں اور ٹینکوں سے نہیںبلکہ سفارت کاری، معیشت، میڈیا، پراکسی، خفیہ سرگرمیوں اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔ آج اگر ہم مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ہونے والی حالیہ ہلچل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی یلغار صرف ایران تک محدود نہیں تھی بلکہ اس پورے منظرنامے میں پاکستان بھی اہم نشانہ تھا۔ گزشتہ برس پاک بھارت جنگ کے بعد ایران پر اسرائیلی و امریکی یلغار کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا نشان صرف ایران نہیں تھا بلکہ پاکستان بھی اس جنگ کا اہم حصہ تھا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ایران کے خلاف جنگ شاید رک جائے، جنگ بندی بھی ہو جائے لیکن پاکستان کے خلاف جنگ نہیں رکے گی بلکہ پاکستان کے خلاف اب بھی ایک کثیرالجہتی اور کئی محاذوں پر مشتمل جنگ جاری ہے۔

چند دن قبل سوئٹزرلینڈ سے پاکستانی سفارتی وفد نے ابھی اڑان بھری ہی تھی کہ بھارت میں تعینات امریکی سفیر نے ایک نئی دفاعی ڈیل کا اعلان کردیاتھا۔ اس ڈیل کے تحت بھارت کو جدید توپیں فراہم کی جائیں گی جو چالیس کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے، جدید جنگوں میں لانگ رینج آرٹلری فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح امریکا اور نیٹو کی فراہم کردہ جدید آرٹلری نے روس کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان براہموس میزائل کی خریداری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ براہموس دنیا کے تیز ترین سپرسونک کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے جس کی رفتار آواز کی رفتار سے تین گنا زیادہ ہے۔ یہی براہموس بھارت گزشتہ برس پاکستان کے خلاف استعمال کر چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اسٹریٹجک ڈیفنس کمانڈ کا وفد بھی بھارت پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مزید دفاعی تعاون اور نئی دفاعی ڈیلز پر گفتگو ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اسرائیل کے دورے کے دوران ان معاملات پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو مزید فعال کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان ممالک کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی میں امریکا اور اسرائیل کی مختلف سطحوں پر حمایت کی تھی۔ ان ممالک میں کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خطے میں نئے اتحاد اور نئی صف بندیاں تشکیل پارہی ہیں اور یہ سب کچھ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

جنگ کا ایک اور میدان بھی ہے اور شاید یہی میدان سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ میدان ہے پراکسی وار کا ہے۔ پاکستان گزشتہ چالیس برسوں سے پراکسی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ سوویت افغان جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک پاکستان نے تقریباً اسی ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے جبکہ مختلف اندازوں کے مطابق پاکستانی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑاہے۔ اب ایک مرتبہ پھر مغربی سرحد پر خطرات بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی تنظیم نو کے حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق القاعدہ سے وابستہ 5000 عناصر کو منظم کیا جا رہا ہے اور ان کی پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بھی قابل توجہ ہے کہ گزشتہ دنوں افغانستان کو بھارت کی جانب سے میڈیسن اور انسانی امداد کے نام پر سامان بھیجا گیا اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد خیبر، قلعہ عبداللہ اور چاغی کے علاقوں میں ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں مبینہ طور پردہشت گردوں کی طرف سے لیزر گنزکے استعمال کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان تمام حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر بیک وقت دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ انڈیا کی طرف سے برسات کے موسم سے قبل یا بعد کوئی بڑی عسکری کارروائی کی جائی اور اس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

اس پورے منظرنامے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور شاید یہی رخ پاکستان کے لیے امید کی کرن ہے۔ جس وقت سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے، اسی وقت پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈار مصر میں چار ملکی مذاکرات میں شریک تھے۔ یہ چار ممالک ہیں: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر۔ بعض مبصرین کے مطابق مستقبل میں قطر، عمان اور ایران بھی اس تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مسلم دنیا میں ایک نئے سفارتی اور اقتصادی بلاک کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ اسلام آبادبھی اہم تھا۔ ایرانی قیادت عام طور پر عاشورہ کے ایام میں بیرونی دوروں سے اجتناب کرتی ہے لیکن وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر ایرانی صدر کا فوری آمادگی ظاہر کرنا اس دورے کی غیرمعمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے دوروں اور ان کی تیاریوں کی غیرمعمولی اہمیت ہوتی ہے۔

آنے والے مہینے پاکستان، خطے اور پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر سازش سے محفوظ رکھے۔ ہمارے حکمرانوں اور اداروں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو اتحاد اور استحکام نصیب فرمائے۔ جیت ان شاء اللہ حق، پاکستان اور امت مسلمہ کی ہوگی۔