اہلِ بیت اور اہلِ سنت

دوسری قسط:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دُرود شریف منقول ہیں ان میں عام طور پر تو اہل اطہار کو شریک فرمایا گیا ہے۔ جیسے دُرود ابراہیمی’ ‘ اللّٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ آلہ” لیکن بعض دُرودوں میں آپ کی اولاد اطہار کے ساتھ ساتھ ازواج مطہرات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جیسے : اللّٰھم صل علیٰ محمد و ازواجہ و ذریتہ۔ (بخاری عن ابی حمید ساعدی )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں براہِ راست جو حضرات شامل تھے، حضرت عائشہ کی روایت میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم تھے۔ (مسلم) نیز حضرت عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ جب آپ علیہ السلام پر اہل بیت سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : اِنما یرِید اللہ لِیذہِب عنکم الرِجس اہل البیتِ و یطہِرکم تطہِیرا۔ (الاحزاب) تو آپ نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلایا، ان کو ایک کپڑا اوڑھایا اور اپنے پیچھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو رکھا اور ان کو بھی کپڑا اوڑھایا اور دعا فرمائی: اے اللہ! یہی میرے اہل بیت ہیں، ان سے گندگی کو دور فرما دیجئے اور انھیں پاک کر دیجئے۔ اُم المومنین حضرت ام سلمہ نے عرض کیا : میں بھی ان کے ساتھ آجاؤں اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی جگہ پر رہواور تم بھی خیر پر ہو۔ (ترمذی عن عمر بن ابی سلمہ) یہی روایت حضرت سعد بن ا بی وقاص سے بھی منقول ہے اور اس میں بھی ہے کہ آپ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کے بارے میں ارشاد فرمایا : یہی ہیں میرے اہل بیت۔ (ترمذی) اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ امہات المومنین کا درجہ بھی بہت اونچا ہے لیکن آپ کے اصل اہل بیت یہ حضرات ہیں۔

شاید اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحب زادیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کی وفات ہو چکی ہوگی، ورنہ آپ نے ان کو بھی اس شرف میں شامل رکھا ہوتا۔ جو لوگ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت اُم کلثوم کے صاحب زادیِ رسول ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ان کی نسبت حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر کی طرف کرتے ہیں، وہ یقینا غلطی پر ہیں۔ خود قرآن مجید میں آپ کی صاحبزادیوں کا ذکر جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے: قل لازواجک و بناتک۔ (الاحزاب) مسلم شریف میں حضرت زینب کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے صراحتاً آپ کے بنتِ رسول ہونے کا ذکر موجود ہے۔ ماتت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (مسلم ) حضرت رقیہ کے بارے میں بھی حضرت عثمان غنی کے غزوہ بدر میں عدم شرکت کا سبب بیان کرتے ہوئے اس کا ذکر ہے۔ (بخاری) خود شیعہ عالم علامہ مجلسی نے ام المومنین حضرت خدیجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت فاطمہ کے علاوہ حضرت زینب، حضرت رقیہ اورحضرت ام کلثوم کا بھی ذکر کیا ہے۔ (حیات القلوب)

ان اہل بیت اطہار کے لئے فرداً فرداً الگ سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت بیان فرمائی، آپ نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا کہ ان سے محبت ایمان اور نفاق کا معیار ہے۔ جو مؤمن ہوگا وہ ان سے محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا، وہ منافق ہوگا۔ (مسلم) ایک موقع پر آپ علیہ السلام نے صحابہ کے مجمع میں فرمایا : جو میرا دوست ہے وہ علی کا دوست ہے، اے اللہ ! جو علی سے محبت اور دوستی رکھے آپ بھی اس سے محبت فرما ئیے اور جو علی سے عداوت رکھے آپ بھی اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرمائیے۔ (مسند احمد) حضرت فاطمہ زہرا کے مقام بلند کا حال یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ مومن خواتین یافرما یا: اِس امت کی تمام خواتین میں تم سردار بنائی گئی ہو۔ (بخاری)ایک موقع پرام المومنین حضرت عائشہ ہی نے حضرت فاطمہ سے فرمایا : کیا میں تم کو خوش خبری نہیں دوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ چار عورتیں خواتین جنت کی سردار ہیں : حضرت مریم علیہا السلام، حضرت فاطمہ، ام المومنین حضرت خدیجہ اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ۔ (مستدرک عن عائشہ)

آپ علیہ السلام نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نوجوانان جنت کا سردار قرار دیا، (ترمذی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین سے بے حد محبت فرماتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو دونوں مونڈھوں پر بٹھائے ہوئے تھے، اور کبھی ایک کا اور کبھی دوسرے کا بوسہ لے رہے تھے، اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی طرف تشریف لائے، ایک صحابی نے دریافت کر لیا کہ آپۖ اِن دنوں سے پیار کرتے ہیں؟ شاید انھوں نے سمجھا کہ بچوں سے پیار کرنا مقام نبوت کے شایان شان نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ان کے سامنے حضرات حسنین سے محبت کا اظہار فرمایا؛ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ جس نے ان دونوں سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اورجس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مسند احمد) (جاری ہے)