اہلِ بیت اور اہلِ سنت

اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے اور گناہ کے کاموں میں مددگار بننے سے منع فرمایا ہے۔ (المائدہ) نیکی کے کام میں تعاون کی صورتوں میں ایک نہایت ہی اہم صورت یہ ہے کہ داعیان حق کا ساتھ دیاجائے ، کیونکہ اگر خیر و بھلائی کی دعوت میں بہت سے لوگ شریک ہو جائیں تو اس کا نتیجہ خیز اور ثمرآور ہونا آسان ہو جاتا ہے اور دعوت کا کام ایک انفرادی عمل سے بڑھ کر تحریک بن جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے لوگوں نے خیر و صلاح کی دعوت دی ہے ان میں سب سے برگزیدہ ہستیاں وہ تھیں جن کے سروں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا تھا ۔ ان ہی ہستیوں کو ہم نبی کہتے ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام کا کام بہت دشوار ہوا کرتا تھا کیونکہ وہ اس دور میں مبعوث کئے جاتے تھے جب سماج میں بگاڑ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا تھا اور عمل کے بگاڑ کے ساتھ انسان کی سوچ بھی بگڑ جاتی تھی، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھی بات، تاریکی کو روشنی اور رات کو دن سمجھنے لگتے تھے ۔ ان کو اس غلط موقف سے ہٹانے اور صحیح راستہ پر لانے کے لئے بڑی محنتوں اور ریاضتوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ علمی بصیرت ، کردار کی پاکیزگی ، تفہیم کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر خیر خواہی اور درد مندی کا غیر معمولی جذبہ، یہ سب مل کر حالات کو بدلتے تھے۔ اسی لیے انبیاء کے رفقائے عالی مقام کا بڑا اونچا مقام ہے۔

قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں، حضرت یوشع علیہ السلام کے فرماںبردار سپاہیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت قدم حواریوں کا اسی حیثیت سے ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چونکہ سلسلۂ نبوت ختم کردیا گیا ،آپ کی نبوت کسی ایک گروہ ، علاقہ، نسل اور خاندان کے لئے نہیں تھی بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے لیے تھی، اس لئے آپ کو نسبتاً زیادہ مخلص، جاںنثار، صاحب ِبصیرت ، عالی حوصلہ ، جذبۂ ایمانی سے سرشار ، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آگ سے گزرنے اور طوفان سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھنے والے معاونین وانصار عطا فرمائے گئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں ان کی تعریف وتوصیف فرمائی، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ حق ترجمان سے ان کے لئے مژدۂ حق سنایا گیا ، رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔

نبی کے علاوہ کسی کی شخصیت معصوم نہیں ہوتی، اس میں صحابہ اور اہل بیت بھی شامل ہیں بلکہ یہ بھی ہوا کہ جس بات کا ارتکاب نبی کے شایان شان نہیں تھا من جانب اللہ صحابہ سے اس کا ارتکاب کرایا گیا تاکہ اُمت جن واقعات سے دو چار ہوسکتی ہو اُس کا حل اس کے سامنے آجائے ۔ اسی لئے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس شخص نے بھی بحالت ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا اور ایمان ہی پر اس کی موت ہوئی وہ صحابی ہے اور ہر صحابی عادل اور عنداللہ مغفور ہے۔صحابہ کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، ان سے محبت میری محبت کی دلیل ہے اور ان سے بغض مجھ سے بغض رکھنا ہے۔ (ترمذی) بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے تمام صحابہ کو ستاروں کے مماثل قرار دیا ہے۔ (جمع الفوائد) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر صحابی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خوبیوں کے اعتبار سے اْمت کے لیے مشعل راہ بنایا ہے۔ اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے حد درجہ ضعیف ہے بلکہ بعض حضرات نے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے لیکن بعض اہل فن جیسے امام احمد کے نزدیک دوسری روایات سے مطابقت کی وجہ سے مضمون کے اعتبار سے اس کو معتبر مانا گیا ہے۔ (المعتبر فی تخریج احادیث المنہاج والمختصر)

پھر یوں تو تمام ہی صحابہ آپ کے برگزیدہ رفقاء اور اُمت کے لئے مرکز محبت اورلائق احترام ہیں لیکن صحابہ میں بھی فرق مراتب ہے ۔ خلفاء راشدین سب سے افضل ہیں یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے حضرت ابو بکر وعمر کی فضیلت کے قائل ہونے اور حضرت عثمان و علی سے محبت رکھنے کو اہل سنت والجماعت کا شعار قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایمان لانے کے اعتبار سے جن لوگوں نے شرفِ سبقت حاصل کیا، ان لوگوں کا خصوصی درجہ ہے، جن کو قرآن نے ‘السابقون الاولون’ (التوبہ) کہا ہے ۔ان میں اُم المومنین حضرت خدیجہ ، حضرت ابو بکر، حضرت عثمان غنی ، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ پھر وہ صحابہ ہیں جو مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے مشرف بہ ایمان ہوئے ، ان ہی میں مہاجرین حبشہ بھی ہیں ، پھر بدری صحابہ ہیں جنھوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر حق وباطل کے اس پہلے معرکہ میں شرکت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا : یہ بارگاہ ربانی کے وہ مقبول بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : آج کے بعد تم سب مغفور ہو۔ (بخاری) اس کے بعد ان صحابہ کا نمبر آتا ہے جو ٦ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع سے بیعت رضوان میں شریک ہوئے ۔ اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے اگر جنگ ہوتی تو ان میں سے کوئی فرد شاید بچ نہیں پاتا، اسی لئے بعض صحابہ نے اس بیعت کو موت پر بیعت قرارد دیا ہے۔ (بخاری) اس واقعہ کے دو سال بعد فتح مکہ کا معرکہ پیش آیا اور جوق درجوق لوگ ایمان لائے، بحیثیت مجموعی ان کو آخری درجے میں رکھا گیا ہے۔

بعض دوسری حیثیتوں سے بھی صحابہ کے درمیان فرق مراتب پایاجاتا ہے جیسے اُمور قضاء میں حضرت علی کو ، فقہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کو ، تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس کو اور حدیث میں حضرت ابوہریرہ کو خصوصی مقام حاصل ہے اور اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ تو علوم اسلامی کے تمام ہی میدانوں میں نمایاں حیثیت کی حامل ہیں۔ بعض صحابہ کو مخصوص اخلاقی اوصاف میں خصوصی مقام حاصل تھا۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق امت کے ساتھ رحم اورفتنہ ارتداد کے مقابلہ میں ، حضرت عمر جوش حق اور معاملہ فہمی میں ، حضرت عثمان غنی حیا اورانفاق میں ، حضرت ابوذر غفاری زہد میں ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ جذبۂ جہاد میں ، حضرت سلمان فارسی دعوتِ اسلام میں ، اور شعراء بارگاہِ نبوی حضرت حسان بن ثابت اورحضرت عبداللہ بن رواحہ وغیرہ شعروادب کے ذریعہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے دفاع میں۔ اگرچہ ان اوصاف میں دوسرے صحابہ بھی شریک تھے لیکن ان کو امتیازی حیثیت حاصل تھی۔

اسی طرح فضیلت کا ایک اہم سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت ہے۔ یوں تو مکہ کے اکثر خاندانوں میں آپ کی رشتہ داریاں تھیں اور بنواُمیہ اور بنوہاشم دو بڑے قبائل تھے جن میں باہم کافی رشتہ داریاں تھیں۔ خود آپ کے دو داماد حضرت عثمان غنی اور حضرت ابوالعاص بنواُمیہ سے تھے لیکن بنوہاشم اور بنومطلب سے آپ کی قربت سب سے بڑھ کر تھی۔ انھوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی نصرت و حمایت میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور دین حق کے لئے سب سے زیادہ آزمائشوں اور ابتلاؤں کو برداشت کیا ، یہاں تک کہ بنوہاشم جب دامن اسلام میں نہیں آئے تھے ، اس وقت بھی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پشت پناہی کی ، شعب ابی طالب میں بائیکاٹ کا جو تکلیف دہ واقعہ پیش آیا ، اس میں بھی بنوہاشم آپ کے ساتھ رہے اور آپ کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہ بھی اس آزمائش سے دوچار کئے گئے۔ اللہ کا جو فیصلہ ہو وہ تو پورا ہوکر ہی رہتا ہے لیکن ظاہری اسباب کے لحاظ سے اگر بنوہاشم مشکلات اور مصیبت کی ان گھڑیوں میں آپ کے ساتھ نہیں ہوتے تو آپ کا تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں قیام کرنا دشوار ہوتا ۔ اس لئے بحیثیت قبیلہ وخاندان بنوہاشم کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ چنانچہ حضرت واصلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو ، کنانہ میں سے قریش کو ، قریش میں سے بنوہاشم کو اور بنوہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔” (مسلم عن ابی عمار )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بعض لوگوں کی کچھ بات پہنچی جو آپ کو ناگوار گزری ، آپ منبر پر چڑھے ، دریافت فرمایا : میں کون ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا : میں عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا محمد ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا ۔ قبائل کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، ان کو مختلف گھروں میں بانٹا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں رکھا ، تو میں گھرانے کے اعتبار سے بھی اور اپنی ذات کے اعتبار سے بھی تم سب میں بہتر ہوں: انا خیر کم بیتاً وخیرکم نفساً ۔ (مسنداحمد عن عباد) اس لیے بنوہاشم کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے اور انھیں بعض خصوصیات نبوی میں شامل کیا گیا ہے ، جیسے انبیاء کے لئے صدقہ حرام ہے اور بنوہاشم کے لیے بھی آپ علیہ السلام نے صدقہ کو منع فرمادیا ۔ پھر بنوہاشم میں آپ کی اولاد اطہار اور ازواج مطہرات کا خاص درجہ ہے ۔ ازواج مطہرات کی آپ سے قربت اور آپ کے مشن کو کامیاب کرنے کے لئے ان کی قربانیاں نیز آپ کے علوم کی نشر و اشاعت میں ان کا حصہ محتاج بیان نہیں ہے ، وہ پوری اُمت کی مائیں ہیں ، خود ارشاد خداوندی ہے کہ نبی اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں اورنبی کی تمام ازواج مطہرات پوری اْمت کی واجب الاحترام مائیں ہیں۔ (الاحزاب) (جاری ہے)