غزہ/تل ابیب/واشنگٹن/بیروت:غزہ سے جبری بے دخلی کا نیا منصوبہ تیار، حملوں میں4شہید،اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ادارے شِن بیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے غزہ میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں حماس کی رفح بریگیڈ کے عسکری سیکورٹی شعبے کے سربراہ اسماعیل مصری کو نشانہ بنایا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گزشتہ منگل کو خفیہ ادارے شن بیٹ کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی۔
ترجمان اسرائیلی نے بتایا کہ اسماعیل مصری کی لاش کی باقیات کے ایک حصے کو اسرائیل لایا گیا اور فرانزک لیب میں تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ حملے میں نشانہ بننے والے اسماعیل مصری ہی تھے۔حماس کی جانب سے اسرائیلی دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اسماعیل مصری کی شہادت کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔
ادھرغزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلاح میں پیر کے روز اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین شہری شہید ہو گئے۔مقامی ذرائع کے مطابق صبح سویرے دیر البلاح کے علاقے البرکہ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں4 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
شہداء کی شناخت 8 سالہ بچے مالک وائل ابو شاوش اور شہریوں علی فائز اسبیطان اور حسن سلمان الحناجرہ کے ناموں سے ہوئی جبکہ ایک کا نام معلون نہیں ہوسکا۔مقامی ذرائع کے مطابق قابض افواج نے خان یونس کے شمال مشرق میں کم از کم چار عمارتوں کو دھماکوں سے اڑایا اس کے ساتھ ساتھ شہر کے مشرقی حصوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
قابض فورسز نے نصیرات اور بریج کیمپوں کے شمال میں اور وادیِ غزہ کے پل کے قریب بھی شدید فائرنگ کی۔فلسطینی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1041 جبکہ زخمیوں کی تعداد 3372 تک پہنچ چکی ہے، اس کے علاوہ 786 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
دریں اثناء درجنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیل کے زیر کنٹرول باب المغاربہ کے راستے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بول دیا۔ صبح کے اوقات میں 99 یہودی آباد کاروں نے قابض فوج اور ان کی خصوصی مسلح فورسز کی سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دراندازی کی۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ یہودی آباد کاروں نے گروہوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں گھوم پھر کر اشتعال انگیز کارروائیاں کیں اور تلمودی رسومات ادا کیں۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیلی افواج نے پیر کی صبح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فلسطینی شہریوں جن میں محنت کش بھی شامل ہیں کو گرفتار کر لیا۔بیت لحم میں قابض فوج نے شہر میں داخل ہو کر وسطی شہر کے شارع الصف سے 22 سالہ ابراہیم محمد دعامسہ اور شمال میں واقع عیدہ کیمپ سے 32 سالہ صامد نمر العتیق کو ان کے گھروں پر دھاوا بول کر گرفتار کر لیا۔
قابض فوج نے شہر کے شمالی القدس میں واقع قصبے حزما میں چھاپے کے دوران متعدد نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ اسی طرح الرام قصبے میں قابض فورسز نے فلسطینی گاڑیوں پر اشک آور گیس کے گولے داغے۔
رام اللہ میں قابض فوج نے شہر کے شمال میں واقع الجلزون کیمپ میں دو نوجوانوں، 20 سالہ باسل نایف ابراہیم النجار اور 18 سالہ محمد نادر الغلیظ کو گھروں کی تلاشی کے بعد گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں صہیونی فوج نے بڑی تعداد میں کمک کے ساتھ بیرزیت یونیورسٹی میں داخل ہو کر یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ 40 سالہ بشیر زعلول الخطیب پر تشدد کیا اور اسپورٹس کالج کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی۔
ادھرکلب برائے اسیران نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کے حکام مقبوضہ مغربی کنارے میں طلبا کو ہدف بنانے کے سلسلے کو تیز کر رہے ہیں۔ہائی اسکول کے امتحانات کے دوران چار طلبا کو گرفتارکیا گیاہے۔
کلب برائے اسیران نے پیر کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ قابض افواج نے رواں سال کے آغاز سے اب تک ہائی اسکول کے 65 طلبا اور طالبات کو گرفتار کیا ہے جو طلبا کو ان کے تعلیمی حق سے محروم کرنے کی ظالمانہ پالیسی کا تسلسل ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل 13 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی اور سیکورٹی عہدیداران نے بین الاقوامی خدشات کے درمیان غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے منصوبوں کے حوالے سے ”رضاکارانہ ہجرت” کی اصطلاح کو ”فری موومنٹ پلان” سے بدل دیا۔
چینل 13 نے نام ظاہر نہ کرنے والے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں بشمول سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ قابلِ قبول سمجھی جانے والی زبان میں دوبارہ متعارف کرایا جائے۔
چینل نے مزید کہا کہ وہ ذرائع جو متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطوں میں تھے اس امید کا اظہار کر رہے تھے کہ اصطلاح کی یہ تبدیلی ان ممالک کی پوزیشن بدلنے اور پہلے کی ناکامیوں کے بعد منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے اعتراف کیا کہ حماس غزہ میں ابھی بھی موجود ہے اور اسرائیل کوشش کر رہا ہے کہ جتنا زیادہ ممکن ہو اتنے فلسطینی غزہ سے نکالے جائیں۔
ادھرامریکا کے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ میں سیکشن 224 کی شمولیت کا بِل منظور ہونے کے بعد امریکا نے اسرائیل کے ساتھ عسکری تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکشن 224 دونوں ممالک کے درمیان کئی جدید فوجی شعبوں میں دفاعی اور تکنیکی تعاون کو وسعت دیتا ہے۔
اس سیکشن کا مقصد مصنوعی ذہانت، سائبرسیکورٹی، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈرونز اور جدید دفاعی نظاموں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔ مزید برآں یہ فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجیز کے لیے مشترکہ تحقیق، ترقی اور پیداواری پروگراموں کی حمایت کرتا ہے۔
اسرائیلی نواز امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ اقدام فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرے گا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔
دوسری جانب لبنان اسرائیل فریم ورک معاہدہ طے ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک بارپھر حملہ کرتے ہوئے حزب اللہ کے زیر زمین فوجی مرکز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 200 میٹر طویل سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق زیر زمین تنصیب میں سینکڑوں ہتھیار اور متعدد میزائل سائلوز موجود تھے، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ا سرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گائوں میں حزب اللہ کا زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حملے سے قبل امر یکا کو آگاہ کر دیا تھا۔ادھرلبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والا فریم ورک معاہدہ متضاد اور ناقابل عمل ہے۔
لبنانی کی پارلیمینٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا یہ معاہدہ اپنی موجودہ شکل میں منظور ہوگا اور نہ ہی نافذ کیا جا سکے گا۔عبرانی میڈیا کے مطابق پیر کے روز جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل کی فوج کے ایک فیلڈ ہیڈکوارٹر کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں قابض اسرائیل کے دو فوجی زخمی ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بم نے قابض فوج کے کمانڈو بریگیڈ کے نائب کمانڈر کے ایڈوانس کمانڈ ہیڈکوارٹر کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ذرائع نے مزید کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا اور ہدف بنائے گئے مقام کے گرد موجود فوجیوں اور محافظوں کو براہِ راست چوٹیں آئیں۔
میڈیا نے وضاحت کی کہ زخمی ہونے والے دو فوجیوں میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جبکہ دوسرے فوجی کی حالت درمیانے درجے کی بتائی گئی ہے۔دریں اثنا اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں یکے بعد دیگرے 2 کار بم دھماکے ہوئے، مشتبہ قاتلانہ حملے میں 2 افراد ہلاک اور ایک اسرائیلی زخمی ہوگیا

