پاکستان بدل رہا ہے!

ہم اس وقت پاکستان میں اپنی سالانہ چھٹی گزار رہے ہیں۔ پردیس میں رہتے ہوئے وطن کی یاد ہمیشہ دل کے کسی نہ کسی گوشے میں زندہ رہتی ہے، مگر جب ڈیڑھ برس بعد زمین پر قدم پڑے اور آنکھوں کے سامنے سب کچھ بدلا بدلا دکھائی دے تو احساس محض یاد کا نہیں رہتا، بلکہ ایک خاموش حیرت میں بدل جاتا ہے۔ یہی کیفیت اس وقت اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مجھے لاحق ہے۔

اسلام آباد میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا تاثر سڑکوں کا ہے۔ کشادہ، نسبتاً ہموار اور بہتر نظم و ضبط کے ساتھ۔ کچھ سال پہلے تک جن مقامات پر ٹریفک جام معمول کی بات تھی، آج وہاں گاڑیاں بہ آسانی رواں دواں نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر ٹی چوک فلائی اوور ایک نمایاں مثال ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے صرف 77دنوں میں مکمل کیا گیا ہے۔ یہ محض کنکریٹ اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں وقت کی بچت، اعصاب کے سکون اور شہری نظم کی ایک جھلک ہے۔ فلائی اوور کے نیچے یا اوپر سے گزرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شہر اب سانس کچھ آسانی سے لے رہا ہے۔

راولپنڈی کی بات کریں تو یہ شہر ہمیشہ سے زندگی، شور اور ہجوم کی علامت رہا ہے۔ مگر اب یہاں بھی تبدیلی صاف دکھائی دیتی ہے۔ خاص کر صدر میں گھومتے ہوئے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی پرانا صدر ہے۔ خریداروں کو گھمانے کے لیے الیکٹرانک کاروں کی فری سروس، سڑکوں کی مرمت، سگنلز کی بہتری اور ٹریفک پولیس کی نسبتا فعال موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ شہری مسائل کو اب مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، مگر سمت درست محسوس ہوتی ہے۔

اسی تسلسل میں لاہور کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہتی ہے۔ اگرچہ وقت کی کمی کے باعث وہاں جا تو نہیں سکے ہیں لیکن حال ہی میں ایک دوست سے گفتگو ہوئی جو عمرہ ادا کر کے واپس آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا شہر ریاض، جو کبھی ترقی اور نظم و ضبط کی مثال سمجھا جاتا تھا، اب لاہور کے سامنے کچھ خاص نہیں لگتا۔ ان کے بقول لاہور میں سڑکوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور شہری انفراسٹرکچر کے حوالے سے جو ترقی ہوئی ہے، وہ حیران کن ہے۔ یہ بات سن کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ شہر جسے ہم اکثر بدنظمی اور ٹریفک کے طعنوں کے ساتھ یاد کرتے تھے، آج خطے کے بڑے شہروں سے تقابل میں لایا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ تاثر حتمی حقیقت نہیں، مگر یہ اس بات کی علامت ضرور ہے کہ لاہور بھی خاموشی سے بدل رہا ہے۔

ان تبدیلیوں میں ایک خوش آئند اضافہ اسلام آباد، راولپنڈی اور مضافات میں سستی بسوں کا اجرا ہے۔ کئی جگہوں پر دیکھا کہ بزرگ، طلبہ، خواتین اور محنت کش طبقے کے افراد ان بسوں میں باوقار انداز میں سفر کر رہے ہیں۔ یہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل نہیں کر رہیں بلکہ عام آدمی کو یہ احساس بھی دے رہی ہیں کہ ریاست اسے دیکھ رہی ہے، اس کی روزمرہ مشکلات سے آگاہ ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب ایندھن کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، ایسی سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔

شہر کے چہروں کے ساتھ ساتھ رویوں میں بھی کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے سلسلے میں متعلقہ دفاتر جانا ہوا تو کافی بہتری محسوس کی۔ سرکاری دفاتر میں اگرچہ روایتی سستی ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی، مگر بعض مقامات پر نظام میں شفافیت اور جواب دہی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ آن لائن سروسز کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے۔ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر کاغذی معاملات اب نسبتاً کم وقت میں اور کم دفتری چکروں کے ساتھ مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ وہ انتظامی تبدیلیاں ہیں جو براہِ راست شہری کی زندگی کو آسان بناتی ہیں۔

عدالتوں سے اللہ تعالیٰ دور رکھیں۔ سنا ہے انصاف کی راہ ابھی بھی طویل اور کٹھن ہے، البتہ یہ شعور ضرور پیدا ہوا ہے کہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ صفائی کے حوالے سے بھی کچھ بہتری دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر اسلام آباد کے سیکٹرز میں۔ کوڑا کرکٹ کے ڈبے، کچرے کی باقاعدہ صفائی اور گرین بیلٹس کی دیکھ بھال اس بات کی علامت ہیں کہ شہری خوبصورتی کو اب کسی حد تک اہمیت دی جا رہی ہے۔

تاہم تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے جس سے آنکھیں چرانا دیانت داری نہیں۔ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں سے آنے والے دوستوں سے بارہا سننے کو ملا کہ وہاں حالات اس کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نام کی کوئی مؤثر شے دکھائی نہیں دیتی۔ ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہری سہولیات زبوں حالی کا شکار ہیں، اور بعض معاملات میں حالات مزید بگڑ چکے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ہی ملک میں دو مختلف رفتاروں سے زندگی چل رہی ہو: کچھ شہر آگے بڑھ رہے ہیں اور کچھ علاقے اب بھی توجہ کے منتظر ہیں۔ یقینا گزشتہ دو تین برسوں میں موجودہ حکومت کی کارکردگی سے عوام بخوبی واقف ہیں۔ کامیابیاں بھی ہیں، ناکامیاں بھی۔ مسائل اب بھی موجود ہیں: مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے۔ مگر اس کے باوجود یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کچھ شعبوں میں کام ہوا ہے، اور کچھ سمتوں میں قدم آگے بڑھے ہیں۔

پاکستان واقعی بدل رہا ہے آہستہ سہی، مگر بدل رہا ہے۔ یہ تبدیلی مکمل نہیں، یہ سفر ابھی جاری ہے، مگر جب ایک مسافر کی حیثیت سے میں یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں تو دل میں ایک دھیمی سی امید جاگ اٹھتی ہے۔ اور شاید یہی امید کسی بھی قوم کے زندہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا اسے اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ اس بنیاد پر ہم ہر اس صاحب منصب کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جس نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور کسی بھی اعتبار سے ملک کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کیا۔ بہت بہت شکریہ۔