پاکستان ریلوے مختلف اسٹیشنوں کو اپ گریڈ کرنے کی مہم شروع کیے ہوئے ہے، وزیر ریلوے کے مطابق اب روہڑی اسٹیشن کی باری آئی ہے، جون 2026ء تک اس اسٹیشن کی نوک پلک سنوار دی جائے گی، خوبصورت بنا دیا جائے گا، انتظامات اچھے ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ بقول وزیر ریلوے اخراجات میں پچاس فیصد سندھ حکومت بھی شامل کرے گی۔ اس سخاوت پر سندھ حکومت کا ہماری جانب سے خصوصی شکریہ۔ وزیر ریلوے کی محنت اللہ تعالیٰ بھی قبول فرمائیں او ر عوام بھی انھیں پسند کریں، اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن اچھی بلکہ بہت اچھی بات ہے۔ وزیر ریلوے وقتا فوقتا اپنے پروگرام اور منصوبے بتاتے رہتے ہیں۔ اسٹیشنوں کی خوبصورتی اپنی جگہ اہم ہے، البتہ گاڑیوں کی تاخیر سے آمد اور روانگی سے جو بے تحاشا رش ہوتا ہے وہ اس خوبصورتی کو کتنا وقت چلنے دے گا، اس پر بھی نظر رکھنی چاہیے، سب سے زیادہ عوامی ضرورت ریل گاڑی میں عوام کو بہترین سہولتیں دینا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت، سگنل کا نظام بہترین کرنا ہے۔
٭٭٭
جن اسٹیشنوں پر انجن تبدیل ہوتا ہے، جہاں گاڑی میں پانی ڈالا جاتا ہے، جہاں نئے ڈبے لگتے یا کٹتے ہیں، وہاں کا نظا م بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ گاڑی پہنچنے سے پہلے متعلقہ حضرات اور افراد تیار ہوں، تاکہ گاڑی مقررہ وقت پر روانہ ہو، اب تک دیکھا یہی گیا ہے کہ ہر ایسے موقع پر گاڑی مقررہ وقت سے پندرہ بیس منٹ سے لے کر آدھ پونا گھنٹا اضافی وقت لیتی ہے۔ جس سے سفر کا دورانیہ بڑھتا رہتا ہے۔ گاڑی لاہور پہنچنے کے قریب ہوتی ہے اور انتظامیہ کو اس کی بالکل فکر نہیں ہوتی کہ کس پلیٹ فارم پر گاڑی آئے، سگنل بند ہوتا ہے ڈرائیور اسٹیشن کے قریب گاڑی کھڑی کر دیتا ہے، پھر شاید میٹنگ ہوتی ہے اور اسٹیشن ماسٹر ان کا عملہ طے کرتا ہے کہ فلاں پلیٹ فار م پہ گاڑی آئے، پتا چلتا ہے وہاں تو کوئی دوسری گاڑی کھڑی ہے، پھر اس کو ہٹانے کا بندو بست ہوتا ہے۔ اس طرح ہزاروں مسافر اسٹیشن پہنچنے کے انتظار میں ہوتے ہیں، سفر کا دورانیہ بڑھتا رہتا ہے۔
٭٭٭
ہر حکومت کوئی نہ کوئی نئی ریل گاڑی چلانا اپنے اوپر فرض عین سمجھتی ہے اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے پرانی گاڑیوں میں سے کسی ایک کو کھڈے لائن لگانا بھی اپنا فرض ہی سمجھتی ہے۔ اگر پرانی گاڑیوں پر توجہ دینے کو مستحب کا درجہ بھی دے تو نظام خاصا بہتر ہو سکتا ہے۔ یقینا نئی گاڑی چلانا بھی اچھا ہے، آبادی بڑھ رہی ہے، گاڑیوں میں اضافہ بھی اچھی بات ہے، ڈبوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے لیکن پرانی گاڑیوں کو ریلوے کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں پانی نہیں ہوتا، روشنی کے لیے بلب اور ہوا کے لیے پنکھے نہیں ہوتے، کھڑکیوں کے پٹ خراب ہوتے ہیں، شیشے یا تو کھلتے نہیں یا بند نہیں ہوتے، مسافر کے نام بیچ کی برتھ بک ہو جاتی ہے لیکن کبھی برتھ کھلتی نہیں کبھی بند نہیں ہوتی۔ دروازے خراب ہوتے ہیں۔ بیت الخلا میں چٹخنی اور کنڈی نہیں ہوتی، پانی لیک ہورہا ہوتا ہے۔ صفائی کا انتظام تو خیر سے بالکل نہیں ہوتا۔ وزیر سے لے کر ریلوے کا ہر شخص ساری توجہ نئی گاڑی کو دیتا ہے، پرانی گاڑیاں بھی پاکستان ریلوے ہی کے تحت چلتی ہیں، مسافر بھی پاکستانی شہری ہوتے ہیں، کرایہ بھی پورا بھرتے ہیں لیکن سفر اذیت ناک ہو جاتا ہے۔
٭٭٭
ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ریل گاڑی میں بکنگ بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے اور تمام ڈبوں کی تمام سیٹیں بک۔ اب مسافر کیا کریں، ہنگامی ضرورت کے تحت سفر کرنے والے پریشان ہوتے ہیں، کچھ ریلوے کی راہداری اور پائیدان پر سفر کرتے ہیں، کچھ بسوں کی طرف بھاگتے ہیں، اس لیے ہر گاڑی میں کم از کم دو ڈبے ایسے ہونے چاہئیں جن میں بکنگ ایک دن پہلے اور کچھ گھنٹے پہلے ہونی چاہیے، اس سے رش میں کمی ہوگی اور مسافروں کو سیٹیں میسر آئیں گی۔ اگر سیٹیں بھری ہوں گی تو مسافر لامحالہ راہداریوں میں بیٹھے اور کھڑے ہوں گے۔ خواتین، بیماروں اور بچوں کو بیت الخلا جانے آنے، اتر نے چڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔ راہداریوں میں بیٹھنے والے بیت الخلا کا دروازہ پکا کر دیتے ہیں، سامنے لمبی تان لیتے ہیں، اب اگر پانی ہے یا نہیں، بیت الخلا صاف ہے یا نہیں، لوٹا ہے یا نہیں کوئی جا نہیں سکتا۔ اس لیے دروازوں کے آس پا س، راہداریوں میں رش نہیں ہونا چاہیے، ریلوے اس کا اچھی طرح انتظام کر سکتا ہے لیکن فکر اور توجہ ہو تو۔
٭٭٭
بلوچستان کا تو خیر سے باوا آدم ہی نرالا ہے، وہاں تو ریلوے کی حالت ویسے ہی اتنی خراب ہے، ریل گاڑی جاتے ہوئے ڈرتی، گھبراتی ہے اور مسافر کانپتے، لرزتے ہیں، روز بروز بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوتی جارہی ہے۔ کے پی میں بھی پاکستان ریلوے کا نظام بہت بوسیدہ ہے۔ نئی لائن تو خیر سے پاکستان ریلوے کی شاید کبھی ترجیح نہیں رہی، سندھ میں پٹری موجود ہے، اسٹیشن بنے ہوئے ہیں لیکن سگنل کا نظام انتہائی خراب، چیک اینڈ بیلنس بالکل نہیں، گاڑی وقت پر آتے آتے جوں ہی سندھ میں داخل ہوتی ہے، اس کو بریک لگ جاتے ہیں۔ رفتارگدھا گاڑی جیسی ہو جاتی ہے۔ اس پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔
٭٭٭
ریلوے کی ایپ ہے، شکل صورت کے لحاظ سے وہ اپد گریڈ ہوتی ہے، لیکن ٹکٹوں کی بکنگ ایپ سے ہونا تو خوش قسمت لوگوں کو ملتا ہے اور ٹکٹ واپس کرنا پڑجائیں تو ایپ سے یہ کرنا بھی کسی بڑے معرکے سے کم نہیں، اس پر بھی توجہ ہونی چاہیے لیکن اسٹیشنوں اور ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کے نظام کو ایپ پر ایسا بہترین ہونا چاہیے کہ مسافر استفادہ کر سکیں، اس پر اشتہارات بالکل نہیں ہونا چاہئیں۔ یہ اشتہارات سوائے عوام کو پریشان کرنے کے اور کسی کام نہیں آتے۔ اشتہارات کے لیے اور بہترین طریقے موجود ہیں، جن سے ریلوے کی آمدن میں اچھا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایپ کو صاف ستھرا رکھیں۔ غلط یا ناقص اپڈیٹ آرہی ہوتی ہے۔ اگر ایک چیز شروع ہو گئی اور وہ وقت کی ضرورت ہر مسافر کا تقاضا ہے تو اس پر خصوصی توجہ پاکستان ریلوے کو ہی دینا ہوگی۔ ریلوے میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے اور بہت زیادہ ضرورت بھی۔ پاکستان ریلوے خود کر لے تو بہت اچھا ورنہ یہ کام چین، جاپان والوں کے ذمے لگا دیں، وہ چیں پیں کر کے کچھ اچھا ہی کر دیں گے اور لوگوں کی دعائیں لیں گے۔

