سازشی عناصر اب بھی عمران کولانے کی کوشش کر رہے ہیں،خواجہ آصف

سیالکوٹ:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کچھ سازشی عناصر اب بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا فیض حمید بانی پی ٹی آئی پروجیکٹ کے انچارج تھے، فیض حمید جب کور کمانڈر پشاور تھے اس وقت انہوں نے عمران خان کی سیاست کو تقویت پہنچائی، دھاندلی کے ذریعے فیض حمید کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا گیا، پروجیکٹ بانی پی ٹی آئی کو لانے کے لیے اور بھی شخصیات کام کرتی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ 4 سال بانی پی ٹی آئی نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا، فیض اور بانی پی ٹی آئی اس کے ذمہ دار ہیں، عوام جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے کتنا ڈیلیور کیا، ان کے دور میں پارلیمنٹ کو آئی ایس آئی کا ذیلی ادارہ بنا دیاگیا تھا، فیض حمید کا پراجیکٹ آہستہ آہستہ بے نقاب ہونا شروع ہو گیا۔

بانی پی ٹی آئی کے لیے 9 مئی برپا کیا گیا، اس کے پیچھے بھی فیض کا دماغ تھا، پلاننگ اسی کی تھی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا تمام مخالفین کو فیض حمید کے ذریعے جیل میں ڈالا گیا، فیض حمید ملک کے ساتھ نہایت بھیانک کھیل کھیلتے رہے، تمام سازشوں کے پیچھے فیض حمید تھا۔

فیض اور بانی پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ قائم رہتا تو پتا نہیں کتنا نقصان ہو جاتا، ان لوگوں نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی ہے ان کو انجام تک پہچانا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا احتساب ان کا بھی ہوگا جو بیورو کریسی سمیت دیگر اداروں میں چھپے ہوئے ہیں، فوج نے خود فیض حمید کا ٹرائل کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نئی تاریخ مئی میں رقم ہوئی، ہمیں اس تاریخ پر فخر ہے۔ان کا کہنا تھا فیض حمید کو سزا کے خلاف اپیل کا حق ہے لیکن نواز شریف کو ایسی کوئی سہولت میسر نہیں تھی، شہباز شریف نے ملک کو برے حالات سے نکالا، فوج کی قیادت نے سویلین حکومت کی مدد کی ہے۔

دریں اثناء ایک انٹرویو میںوزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ جنرل باجوہ نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے شدید مزاحمت کی تھی میں اور ایازصادق 8 سے9 دن تک ان کے پاس جاتے رہے۔ہمیں دھمکیاں دیں اور لالچ بھی دیا گیا کہا کہ اگر توسیع نہ دی تو اقتدار پر قبضہ کرلیں گے، یہ لالچ بھی دی کہ مجھے رکھ لو تو سیٹ اپ کرکے دے دوں گا۔

جنرل باجوہ کی کوشش تھی کہ فیض حمید آرمی چیف بن جائے، جس کیلئے ایک شخصیت کو نوازشریف کے پاس بھی بھیجا تھا۔وزیردفاع نے بتایا کہ جنرل باجوہ نے دھمکیاں دے کر ایکسٹینشن لی تھی۔