اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میںاووربلنگ کی مد میں آٹھ ارب سے زائد ریونیو جمع کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔
شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت اجلاس میںآڈٹ حکام نے کہا کہ استعمال شدہ یونٹس سے زیادہ اووربلنگ کرکے صارفین کو آٹھ ارب سے زائد کا نقصان ہوا، ایک ہزار سے زائد فیڈرز پر ڈسٹری بیوٹرز کمپنیز نے اووربلنگ کی۔
اجلاس کے دوران پی اے سی کے ریکوزیشن اجلاس کے موقع پر اتفاق رائے سے طے پایا کہ جب تک چیئرمین پی اے سی جنید اکبر واپس نہیں آتے کمیٹی کی سربراہی تمام پارٹیاں کریں گی، ہر اجلاس میں کمیٹی سربراہ تبدیل ہو گا۔
کمیٹی کی سربراہی روٹیشن پر تبدیل کرنے کی تجویز ایم کیو ایم کے امین الحق نے دی۔پاور ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ 24ـ2023ء کا جائزہ لیتے ہوئے آڈٹ حکام نے پاور ڈویژن میں مجموعی طور پر 8727 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ آڈٹ رپورٹ میں سے 9 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری ہو چکی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق چار ڈسکوز کے صارفین کو 9 ارب 14 کروڑ روپے کا غیر مجاز ری فنڈ دینے کا انکشاف کیا گیا۔
آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ دو لاکھ 93 ہزار 572 صارفین کو سلیب یا ٹیرف ریلیف دیا گیا۔ صارفین کو 2018ء سے 2023ء تک یہ ریلیف فراہم کیا گیا۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ آڈٹ کے وقت بیشتر ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ تمام ڈسکوز کو اب بتا دیا ہے کہ ہر معاملے میں ریکارڈ بروقت فراہم کیا جائے۔
رکن پی اے سی سید حسین طارق نے کہا کہ غلط بلنگ کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، ریکوری کتنی ہوئی۔ سی ای او لیسکو نے کہا کہ ہم نے معاملہ پر انٹرنل آڈٹ رپورٹ جمع کروادی ہے۔آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ڈسکوز نے یہ ریلیف رننگ صارفین کودیا، صرف ڈس کنیکٹڈ صارفین کو دینے کی اجازت تھی۔ میٹر ریڈر ریڈنگ کیلئے جاتے ہی نہیں۔
سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ اب میٹر ریڈنگ کی تصاویر تمام ڈسکوز کے بلوں پر آویزاں کی جاتی ہیں۔ اب صارفین خود بھی موبائل ایپ کے ذریعے اپنی میٹر ریڈنگ اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔سید حسین طارق نے کہا کہ مستقبل کی بات کو چھوڑیں اس کیس میں 9 ارب روپے کا کیا کرنا ہے؟۔
سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ پی اے سی ریکارڈ کی تصدیق کیلئے وقت دے۔آڈٹ حکام نے کہا کہ سب سے زیادہ ری فنڈ لیسکو نے دیا۔ لیسکو نے صارفین کو ساڑھے سات ارب روپے کا ری فنڈ دیا۔سی ای او میپکو نے کہا کہ معاملہ میں ملوث 43 میپکو اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ آج میں نہیں لایا جس پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا اور آڈٹ اعتراض موخرکردیا۔
پی اے سی نے سیکرٹری پاور ڈویژن کو ریکارڈ کی تصدیق جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔سی او پیسکو نے کہا کہ پیسکو میں میٹر ریڈرز کی کمی ہے۔سوات سمیت کئی شہروں کے دشوار گزار علاقوں میں دو ماہ بعد ریڈنگ لی جاتی ہے۔

