وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فیض حمید کا سیاست میں عمل دخل ثابت ہو گیا، فوج کا اندرونی احتساب کا نظام مضبوط ہے، فیض حمید کا ساتھ دینے والوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہئے۔فیض حمید کو سزا سنائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیض حمید اپنی سرکاری اورعسکری حیثیت کا ناجائز استعمال کرتے رہے، میرے خلاف مقدمے میں بھی فیض حمید براہ راست ملوث تھے، سزا پر خوشی کااظہار نہیں کررہا،فوج جیسے ادارے کی بہت اہمیت ہے۔
فوج میں احتساب اورڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن کا مضبوط نظام موجود ہے، فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں ملوث تھے تو وہ اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے تھے، کوئی سیاستدان ساتھ تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آ ئی قیادت ساتھ دے رہی تھی، جو سیاستدان شامل تھے ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، فیض حمید کی 9مئی واقعہ میں ملوث ہونے کی افواہیں بہت دیر سے موجود ہیں، جو ان کے ساتھ لوگ ملوث تھے ان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں چل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج کی صورت میں حکومت عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے، بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لیکن عمران خان نے پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جاسکتا، ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی لیکن عمران خان کے اپنے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہوئی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھاکہ پی ٹی آ ئی کو چاہیے کہ اڈیالہ کے باہر امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ کریں، اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کریں گے تو اس صورت میں حکومت عمران خان کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

