غزہ کی بابت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد

(حصہ اول)
نوٹ: ہمیں اصطلاحی انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کا ملکہ اور مہارتِ تامّہ نہیں ہے، ہم نے مصنوعی ذہانت (AI)سے ترجمہ کرایا، مگر وہ بھی تحتَ اللّفظ ہے، غیر مربوط ہے، مختلف ٹکڑوں میں ہے، مبتدا خبر کا پتا چلتا ہے نہ جملۂ تامّہ بنتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ AIکو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق بامحاورہ ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے، ہم اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اس کی بابت صاحبانِ علم ہی بتا سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے دس ہزار چھیالیسویں اجلاس میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2803(2025)کا متن حسبِ ذیل ہے:
”سیکورٹی کونسل 29ستمبر 2025کوغزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کا خیر مقدم کرتی ہے اور ان ممالک کی تحسین کرتی ہے جنھوں نے اس پر دستخط کیے ہیں، قبول کیا ہے اور توثیق کی ہے۔ 13اکتوبر 2025کو پائیدار امن اور خوش حالی کے لیے ٹرمپ کے تاریخی اعلامیے اور امریکا، قطر، عرب جمہوریۂ مصر اور جمہوریۂ ترکیے کے اُس تعمیری کردار کا خیر مقدم کرتی ہے جس کے تحت غزہ کی پٹی میں جنگ بندی ہوئی۔ کونسل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو صورتِ حال تھی، وہ علاقائی امن اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ تھی، سلامتی کونسل مسئلۂ فلسطین سمیت اُن تمام متعلقہ قراردادوں کی توثیق کرتی ہے جو شرقِ اَوسط کی صورتِ حال سے متعلق تھیں۔

(1)سلامتی کونسل جامع منصوبے کی توثیق کرتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ متعلقہ فریقوں نے اسے قبول کرلیا ہے اور تمام فریقوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اور کسی تاخیر کے بغیر اس منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کریں، (2) سلامتی کونسل عبوری انتظامیہ کے طور پر ”بین الاقوامی شخصِ قانونی” مجلسِ امن ( Board of Peace)کے قیام کو خوش آمدید کہتی ہے جو غزہ کی بحالی کے لیے ایک طریقۂ کار وضع کرے گی اور جامع منصوبے کی متابعت میں غزہ کی بحالی کی خاطر مالی وسائل جمع کرنے کے لیے اس طرح رابطۂ کارکا کام انجام دے گی کہ وہ بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق ہو، یہ مجلسِ امن اس وقت تک قائم رہے گی، جب تک فلسطینی اتھارٹی بشمول صدر ٹرمپ کے امن منصوبے اور سعودی فرانسیسی تجاویزکے اطمینان بخش طریقے سے اپنا اصلاحاتی لائحۂ عمل طے کرے اور متعدد تجاویز کی نشاندہی کرے اور مؤثر اور محفوظ طریقے سے غزہ کا کنٹرول واپس لے سکے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اصلاحاتی پروگرام کو دیانت داری سے روبہ عمل لانے اور غزہ کی بحالی پر قابلِ اعتماد پیش رفت کے بعد آخر کار فلسطینی خود مختاری اور ریاست کے قیام کے لیے حالات با اعتماد طریقے سے سازگار ہوجائیں گے۔ اس موقع پرپرامن اور خوش حال بقائے باہمی کے لیے امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کے لیے ایک مکالمے کا انعقاد کرے گا۔

(3)سلامتی کونسل اس پر زور دیتی ہے کہ مجلسِ امن (BOP)کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کو اس طریقے سے منظّم کیا جائے جو بین الاقوامی قانونی اصولوں کو شامل ہو اور اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور ہلالِ احمر سمیت ہم مقصد تنظیموں کے ساتھ مربوط ہو، نیز اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ امداد مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہوگی اور مسلّح گروہوں کی طرف اس کا رخ نہیں موڑا جائے گا، (4) یہ قراردادمجلسِ امن (BOP)اور مجلسِ امن میں شرکت کرنے والے ممالک کو مندرجہ ذیل امور کی اجازت دیتی ہے: (الف) جامع منصوبے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حسبِ ضرورت وہ ایسے معاہدات میں شامل ہوں جو ذیل میں پیراگراف 7(الف) اور 7(ب) کے تحت قائم کردہ فورس کے اہلکاروں کے استحقاق اور استثناء ات سے متعلق ہوں، (ب) بین الاقوامی قانونی شخصیت (International LegalPersonality ) اور عبوری انتظامیہ کے اشتراک سے حسبِ ضرورت ایسے اداروں کا قیام جو اس کی کارکردگی کو عمل میں لائیں، ان میں یہ امور شامل ہیں: (الف) عبوری حکومتی انتظامیہ کا قیام جسے غزہ پٹی میں رہنے والے فلسطینی فنی ماہرین اور غیر سیاسی فلسطینیوں کی معاون اور نگراں باصلاحیت کمیٹی کا تعاون حاصل ہو، نیز اسے عرب لیگ کی بھی حمایت حاصل ہو، یہ غزہ کے روز مرہ انتظامی معاملات، سول سروس اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گی، (ب) یہ غزہ کی تعمیرِنو اور اقتصادی بحالی کے منصوبے تجویز کرے گی، (ج) یہ غزہ میں عوامی خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی میں رابطۂ کار اور معاونت کے فرائض انجام دے گی، (د) یہ غزہ کے اندر آنے اور باہرجانے والے افراد کی نقل وحرکت کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے گی جو جامع منصوبے کے مطابق ہو، (ہ) جامع منصوبے کے نفاذ کے لیے یہ ایسے اضافی اقدامات بھی کرسکے گی جو ضروری ہوںاور اس کے لیے مُمِدّومعاون ہوں۔

(5) اس قرارداد سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیراگراف 4میں جن آپریشنل اداروں کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ عبوری انتظامیہ اور مجلسِ امن (BOP) کی نگرانی میں مصروفِ عمل ہوں گے، انھیں رضاکارانہ عطیہ دہندگان اور مجلسِ امن (BOP) کی عطا کردہ گاڑیوں اور حکومتوں کے عطیات سے مالی مدد دی جائے گی، (6)یہ قرارداد ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور ترقیاتی کاموں کے لیے مالی وسائل فراہم کریں، اس مقصد کے لیے عطیات پر مشتمل ایک وقف فنڈ قائم کیا جائے گا جسے عطیہ دہندگان کنٹرول کریں گے۔

(7)یہ قرارداد مجلسِ امن (BOP) اور اس کے ساتھ کام کرنے والے رکن ممالک کو غزہ میں متحدہ کمان کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے، جو مجلسِ امن (BOP) کے لیے قابلِ قبول ہو، یہ فورس عرب جمہوریۂ مصر اور اسرائیل کی مشاور ت اور تعاون سے شریک ممالک کی طرف سے فراہم کی جائے گی۔ یہ اپنے تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی جو بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کے تابع ہوں۔ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کرکام کرے گی، اس کاان کے موجودہ معاہدات کے ساتھ کوئی متعصبانہ رویہ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں ان کے ساتھ فلسطینی پولس کی تربیت یافتہ نفری بھی شامل ہوگی، جس کی پہلے سے جانچ پڑتال کرلی گئی ہوگی۔ اس فورس کے مقاصد میں سرحدی علاقوں کی حفاظت، نیز غزہ میں سلامتی کے ماحول کا استحکام اور غزہ کی پٹی کو غیر مسلّح کرنا ہوگا اور پہلے سے قائم فوجی تنصیبات کو تباہ کرنا اور نئے مسلّح گروہوں کے قیام، غیر ریاستی عناصر کی جتھّا بندی اور دہشت گردی کو روکنا ہوگا، نیز عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کو تحفظ دینا ہوگا۔ جونہی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) غزہ میں اپنا کنٹرول قائم کرتی ہے اور اُسے استحکام ملتا ہے تو اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) غزہ کی پٹی سے انخلا کریں گی اور یہ مسلّمہ بنیادوں اور معیارات پر ہوگا، نیز خطے کو غیر مسلّح کرنے کے لیے ایک لائحۂ عمل دینا ہوگا، جس پر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) اور بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کا اتفاق ہواور ضامن قوتیں اور امریکا ایسی سلامتی اور موجودگی کی ضمانت دیں گے جو اُس وقت تک غزّہ میں مقیم رہیں گے کہ لوگوں کی جائدادیں برباد ہونے، دوبارہ فساد برپاہونے یا دہشت گردی پیدا ہونے کے خطرات سے محفوظ ہو۔

بین الاقوامی استحکام فورس (ISF)غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کرنے میں مجلس امن (BOP) کوتعاون فراہم کرے گی تاکہ جامع پلان کو حاصل کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جاسکیں اور انھیں مجلسِ امن (BOP) کی تزویراتی رہنمائی میں نافذ کیا جاسکے اور ان تمام انتظامات کے لیے عطیہ دہندگان سے رضاکارانہ عطیات لیے جائیں گے اور مجلسِ امن (BOP ) اور حکومتوں کی ٹرانسپورٹ سہولتوں سے فائدہ اٹھایاجائے گا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ محنت ہم نے اس لیے کی کہ کسی قومی اخبار میں ہمیں یہ پورا متن نہیں ملا، اگلی قسط میں اس قرارداد کا بقیہ حصہ اور پھر پوری قرارداد پر ہمارا تبصرہ شامل ہوگا۔

(حصہ دوم)
(8) اس قرارداد کے ذریعے مجلسِ امن اور بین الاقوامی سول اور سلامتی کے اداروں کی بااختیار موجودگی 31دسمبر2027 تک رہے گی، نیز مصر، اسرائیل اور رکن ممالک کے تعاون اور کونسل کی منظوری سے بین الاقوامی استحکام فورس کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی(9) یہ قرارداد تمام رکن ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ مجلسِ امن کے ساتھ مل کر کام کریں اور اس امر کا تعیّن کریں کہ بین الاقوامی استحکام فورس اور دیگر تنظیموں کواپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے افرادی قوت، سازوسامان، تمام ذرائع اور مالی وسائل دستیاب ہوں اور انھیں فنی ماہرین کی اعانت بھی حاصل ہو، نیز ان کی دستاویزات کو مکمل منظوری حاصل ہو(10)یہ قرارداد مجلسِ امن سے درخواست کرتی ہے کہ ہر چھ ماہ بعد مندرجہ بالا امور پر پیش رفت کی رپورٹ سلامتی کونسل میں جمع کرتی رہے (11) یہ قرارداد مندرجہ بالا امور کو باضابطہ کنٹرول کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔

یہ قراردادامریکا کی پیش کردہ ہے اور اسرائیل کے حق میں ہے، اس میں اسرائیل کے مفادات کا پورا تحفظ کیا گیا ہے۔ پندرہ میں سے پاکستان سمیت تیرہ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا، چین اور روس نے اس کی مخالفت کی اور نہ اس کا حصہ بنے۔ اگر وہ مخالفت کرتے تو قرارداد ویٹو ہوجاتی۔ اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے وضاحت کی :”یہ قرادادواشنگٹن کے وعدوں کی بنیاد پر امریکی اقدام کی توثیق ہے اور غزہ پرمجلسِ امن کو مکمل کنٹرول دیتی ہے، جبکہ اس کی ساخت، ارکان اور شرائط کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، یہ دوریاستی حل سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس میں فلسطینی انتظامیہ کو غزہ کا کنٹرول منتقل کرنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے واضح طور پر کسی وقت کا تعین نہیں ہے، اسے مبہم رکھا گیا ہے ”۔ چین نے بھی جنگ بندی کی حمایت کی، لیکن قرارداد کی یکطرفہ نوعیت پر تنقید کی، چین کے سفیر نے اس قراداد کو فلسطین کی خودمختاری اور ملکیت سے خالی قراردیا اور کہاکہ اس میں فلسطینی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل امریکا کے ہاتھوں یرغمال ہے، اس کی مرضی کے بغیر کوئی قرارداد منظور نہیں ہوسکتی حتیٰ کہ ماضیِ قریب میں امریکا جنگ بندی کی چھ قراردادوں کو ویٹو کرچکا ہے۔ جن ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا، انھوں نے یہی سوچا ہوگا کہ کم از کم فلسطینیوں کی نسل کشی تو رک جائے گی، حالانکہ اس کے حملے تو وقتاً فوقتاً اب بھی جاری ہیں۔ اس قرارداد میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی، صرف قرارداد کی شِق نمبر2میں فلسطینی ریاست کے لیے کمزور ترین الفاظ میں ایک لولی پاپ تھمادیا گیا ہے، وہ الفاظ یہ ہیں: ”آخر کار فلسطینی خود مختاری اور ریاست کے قیام کے لیے حالات با اعتماد طریقے سے سازگار ہوجائیں گے”۔ اس میں آزاد فلسطینی ریاست کی کوئی صریح ضمانت ہے اور نہ اس کے لیے کسی مدت کا تعین ہے۔ اس میں پاکستان کا ذکر نہیں ہے، بلکہ امریکا، قطر، سعودی عرب، مصر اور ترکیے کا ذکر ہے اور اس میں بڑا کردار اسرائیل اور مصر کو دیا گیا ہے، جبکہ مصر سمیت پڑوسی ممالک حماس کو ناپسند کرتے ہیں۔

اس قضیے کا اصل فریق حماس ہے، لیکن اُسے ادنیٰ درجے میں بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، بلکہ اُسے اشارتاً دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور اُسے غیرمسلّح کرنے کی شرط بھی اس قرارداد میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ حماس نے اس قرارداد کو ردّ کیا ہے۔ مزید یہ کہ اُسے بین الاقوامی استحکام فورس کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور یہ بہت بڑی قربانیوں کے باوجود حماس کی اہانت کے مترادف ہے۔ اس قرارداد کی شق 3کی ذیلی شق 1میں کہا گیا ہے: ”عبوری حکومتی انتظامیہ کا قیام جسے غزہ پٹی میں رہنے والے فلسطینی فنی ماہرین اور فلسطینیوں کی غیر سیاسی معاون اور نگراں باصلاحیت کمیٹی کا تعاون حاصل ہو، نیز اسے عرب لیگ کی بھی حمایت حاصل ہو، یہ غزہ کے روز مرہ انتظامی معاملات، سول سروس اور انتظامیہ کے امور کی نگرانی کرے گی”۔ اس کی رو سے عبوری حکومتی انتظامیہ میں فلسطینی فنی ماہرین اور فلسطینیوں کی غیر سیاسی معاون اور قابلِ اعتماد نگراںکمیٹی کا تعاون حاصل کرنے کی بات تو کی ہے، لیکن انھیں بھی مجلسِ امن اور بین الاقوامی استحکام فورس کے تابع رہنا ہوگا۔ نیز اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ ISFمیں کون سے ممالک شامل ہوں گے اور ان افواج کی قیادت کس کے پاس ہوگی، بلکہ شق 7سے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہISFمصر اور اسرائیل کی مرضی سے کام کرسکے گی۔ اگرچہ اس قرار داد میں صراحتاً تو شامل نہیں ہے، لیکن ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ مجوّزہ مجلسِ امن کے سربراہ ہوں گے۔ اس قرارداد میں آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کو اختیارات کی منتقلی کا کوئی معیّن وقت نہیں دیا گیا، بلکہ سلامتی کونسل کی منظوری سے مجلسِ امن کے کنٹرول میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

اسرائیل کا اس قرارداد کو تسلیم کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اس کے مفاد میں ہے اور وہ اس کی دفعات کی من پسند تشریح کرتا رہے گا۔ اس نے آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے تصور کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا، نیز کسی مرحلے پر فلسطینیوں کو اقتدار کی منتقلی کی مُبہم سی بات توکی گئی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ فلسطینیوں کی وہ مقتدرہ کس طرح وجود میں آئے گی جسے اقتدار منتقل کیا جاسکے گا، کیونکہ اس منصوبے میں بین الاقوامی نگرانی میں آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ جس میں حماس کو بھی برابر کی سطح پر حصہ لینے کا حق حاصل ہو۔ اسی طرح وقف فنڈ کی بات تو کی گئی ہے اورامریکا نے اُس کی سربراہی کا حق اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، لیکن بحالی کے فنڈ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوئی بات کی ہے اور نہ عطیہ دہندگان کا کوئی اقرارنامہ شامل ہے۔ ورلڈ بنک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو متوجہ کرنے کی بات کی ہے، لیکن یہ عالمی مالیاتی ادارے آسان شرائط پر قرض فراہم کرتے ہیں اور اس کے لیے اس پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ ان کے قرض کی واپسی کی ضمانت کیا ہوگی۔ اس قرارداد میں ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ بین الاقوامی فلاحی ادارے آزادانہ طور پر غزہ کی پٹی میں اپنا نیٹ ورک قائم کرکے اپنی نگرانی میں بحالی کا کام کرسکیں گے۔ اس سے پہلے بعض مسلم ممالک نے غزہ کی تعمیر میں حصہ لیا تھااور وہاں پر اسپتال اور تعلیمی ادارے بنائے تھے اور دیگر شعبوں میں مدد فراہم کی تھی، اب بھی مسلم ممالک اور فلاحی تنظیمیںمدد فراہم کرنا چاہیں گے، لیکن ان ابہامات کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مسلم ملک یا آزاد فلاحی تنظیمیں کھل کر مدد نہیں کرسکیں گے، کیونکہ کوئی بھی ملک یا فلاحی ادارہ اسرائیل کی شرائط پر اپنی امدادان کے مقاصد کی تکمیل کے لیے فراہم نہیں کرے گا، جس کا فلسطینی عوام کو کوئی مستقل فائدہ ہوگا، بلکہ اسرائیل اس امداد کو ان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔

اسرائیل نے غزہ کے سارے ڈھانچے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسرائیل پر کم از کم وقت میںاس کی بحالی کے مصارف ڈالے جاتے، کیونکہ ساری تباہی اسی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ مزید ستم یہ ہے کہ تمام تر تباہی کا ذمہ دار ہونے اور جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے باوجود اس قرارداد میں اشارتاً بھی اس کومجرم نہیں گردانا گیا، بلکہ اس کو ایک مظلوم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ پچھتر ہزار شہداء اور ڈھائی لاکھ زخمیوںکی قربانی دینے والے حماس کو اشارتاً دہشت گرد اور امن کے لیے خطرہ قراردیا گیا ہے۔ یہ امر غنیمت ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے معاہدۂ ابراہیمی میں شامل ہونے کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کو لازمی شرط قرار دیا ہے، لہٰذا وقتی طور پرانھوں نے اپنا دامن بچالیا ہے۔ سعودی ولی عہد کے امریکا میں ہونے والے استقبال سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میںامریکا نے اپنے بہت سے مفادات ان سے وابستہ کر رکھے ہیں۔