پشاور،ایف سی ہیڈکوارٹرز پرخوارج کا حملہ ناکام،بمبار سمیت3ہلاک،3اہلکار شہید

پشاور/اسلام آباد:پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری(ایف سی) کے ہیڈکوارٹرز پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا خودکش حملہ سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا،گیٹ پر خودکش دھماکے میں3ایف سی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ایف سی جوانوں کی فوری کارروائی میں خودکش بمبار سمیت 3 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے جبکہ ایف سی اہلکاروں سمیت10افراد زخمی ہوگئے۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ صبح 8 بجکر 10 منٹ پر ہوا، تین خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا، ایک نے خود کو گیٹ پر دھماکے سے اڑایا، گیٹ پر تعینات 3 اہلکار شہید ہوئے، دو حملہ آور دھماکے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔

میاں سعید نے مزید بتایا کہ ہیڈکوارٹرز میں نفری الرٹ تھی،اندر داخل ہونے والے دونوں حملہ آوروں کو فوری ہلاک کردیا گیا، ایف سی ہیڈکوارٹرز کو اندر سے مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری کی بیرک میں جاکر لوگوں کو یرغمال بناسکتے تھے۔

علاوہ ازیں ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال کے مطابق خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دھماکا مین گیٹ پر اور دوسرا موٹر سائیکل اسٹینڈ پر ہوا، فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ آور مارے جاچکے ہیں۔ہسپتال حکام کے مطابق حملے میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 9 زخمیوں کو لایا گیا ،ایک زخمی خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں فیڈرل کانسٹیبلٹری کے 3 اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں تاہم زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ڈی سی پشاور ثناء اللہ نے کہا کہ پشاور کے تمام ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب حملے کے بعد انتظامیہ نے سیکورٹی خدشات کے باعث بی آر ٹی سروس عارضی طور پر معطل کردی ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں شواہد اکٹھے کر نا شروع کر دیے گئے ہیں ، دھماکہ اس وقت ہوا جب کوارٹر میں پریڈ جاری تھی، پریڈ کے وقت 450 اہلکار موجود تھے۔ذرائع نے بتایا کہ 3 خود کش حملہ آور پیدل آئے، تمام دہشت گردوں نے خود کش بمبار جیکٹس پہنی تھیں، دہشت گردوں کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان تھیں۔

بتایا گیا کہ دہشت گرد منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پریڈ تھی۔ادھرایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی شناخت ہو گئی۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے ہلاک تینوں دہشت گرد افغانی تھے جبکہ پولیس نے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ایک خودکش حملہ آور پیدل ایف سی ہیڈ کوارٹرزکے گیٹ تک پہنچا، خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی، خودکش بمبار نے مرکزی گیٹ کے ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑایا۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر شہید ہو گئے، دھماکے کے فوری بعد دو حملہ آور سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے، دونوں خودکش حملہ آوروں کے پاس رائفلز اور ہینڈ گرینیڈ بھی تھے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے کے بعد دائیں جانب موٹر سائیکل اسٹینڈ پر پہنچے، خودکش حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں مارے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہونے والے دہشت گردوں کو مرکزی گیٹ کے 30 سے 40 میٹر کے اندر ہی مار دیا گیا۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنانا تھا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ افسران بیٹھتے ہیں اور نفری بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ نجی ٹی وی کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پرحملہ کرنے والے مبینہ خودکش بمبارکی تصویر مل گئی۔

پولیس حکام نے بھی مبینہ دہشت گرد کی تصویر کی تصدیق کی۔ پولیس کے مطابق دہشت گرد بی آر ٹی اسٹیشن کے قریب8 بج کر7 منٹ پر پہنچ گیا تھا اور اس نے دھماکے سے قبل ہیڈکوارٹرز کے سامنے بی آر ٹی اسٹیشن پرکچھ وقت گزارا۔

ادھرپشاور بم دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور اہم سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی سیکورٹی بھی سخت کردی گئی ہے۔وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں پر پولیس نے سخت چیکنگ کا عمل شروع کر دیا ہے جب کہ شہر کی اہم سرکاری عمارتوں کی بھی سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد ریڈ زون کی سیکورٹی بھی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کی چیکنگ کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہیں۔ فیض آباد بس اڈے سے مسافروں کے شناختی کارڈ درج کئے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مالکان کو مسافروں کا ڈیٹا فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے۔سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ یہ اقدامات احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

خودکش حملے میں شہید تین اہلکاروں کی نماز جنازہ ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور میں ادا کردی گئی،نماز جنازہ میں گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی،وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی،کورکمانڈر پشاور،آئی جی ایف سی اورآئی جی پولیس سمیت اعلیٰ فوجی و سول حکام نے شرکت کی،شہداء کے جسد خاکی پر پھول رکھے اور سلامی پیش کی۔

دریں اثناء صدرمملکت آصف زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے بڑے نقصان سے بچا لیا۔

صدرِ مملکت آصف زرداری نے فتنہ الخوارج کے حملے کی شدید مذمت کرئے ہوئے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ دہشت گردوں کا حملہ وطنِ عزیز کے خلاف بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔

وطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔

وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد ازجلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا واقعے کے ذمہ داران کی جلد ازجلد شناخت کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے، حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے ۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے جری جوانوں نے بہادری سے فتنہ الخوارج کے حملے کو ناکام بنایا، جام شہادت نوش کرنے والے 3 ایف سی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو اپنی پولیس، ایف سی اور فورسز پر فخر ہے، سپاہیوں نے شہادتیں پیش کر کے اسلام، ملک اور انسانیت کے دشمنوں کے عزائم ناکام بنائے۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ان کا کہنا تھا کہ جوانوں نے بہادری سے بڑی تباہی سے بچا لیا، یہ حملہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، اس قسم کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، شہدا ہمارا فخر ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا