بہار الیکشن میں مودی نے غیرمعمولی کامیابی کیسے حاصل کی؟

نومبر کا دوسرا ہفتہ انڈین سیاست میں بہت اہم تصور ہو رہا تھا کیونکہ اسی میں ایک اہم ریاست بہار کا ریاستی الیکشن ہونا تھا۔ اسی الیکشن کے نتیجے سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا سیاسی مستقبل وابستہ ہو چکا تھا۔ کہا جا رہا تھا کہ اگر مودی بہار کا الیکشن ہار گئے تو پھر ان پر آر ایس ایس کی جانب سے دباؤ بڑھ جائے گا کہ خود پیچھے ہٹ جائیں اور اپنے کسی سیاسی جانشین کو آگے لے آئیں۔ اسی طرح انڈین نیشنل کانگریس اور راہل گاندھی کی واپسی کا بھی اسی ریاستی الیکشن سے پتہ چلنا تھا۔ پاکستان میں اس صورت حال کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جا رہا تھا۔ ہمارے ہاں میڈیا، سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں کا تاثر تھا کہ آپریشن سندور کا جو نتیجہ نکلا، جس طرح انڈیا کو خفت اٹھانا پڑی اور عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری برتری کا تاثر بنا، اس سے بی جے پی اور نریندر مودی کی انڈیا کے اندر مقبولیت کم ہو چکی ہے اور بہار کے الیکشن میں انہیں شکست ہو جائے گی۔

الیکشن نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ ہمارے ہاں جو کچھ سمجھا جا رہا تھا، اس کے برعکس ہوا ہے۔ بہار کے الیکشن میں مودی فاتح بن کر ابھرے ہیں۔ پہلے سے زیادہ طاقتور، پہلے سے زیادہ خطرناک اور بااثر۔ مودی اور ان کے اتحادیوں نے بہار کے الیکشن میں لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی ہے۔ بی جے پی کے اتحاد یعنی این ڈے اے نے کل 243میں سے 202نشستیں حاصل کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ توقعات سے بھی زیادہ بہتر پرفارمنس۔ مودی کی جماعت بی جے پی نے سب سے زیادہ یعنی 89نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کے اتحادی سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جنتا دل یونائٹڈ نے 85اور رام ولاس کی پارٹی نے 19سیٹیں جیتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں کانگریس کو صرف چھ سیٹیں ملی ہیں، اگرچہ اس نے 61نشستوں پر الیکشن لڑا۔ کانگریس کے اتحاد مہاگٹھ بندھن کو بمشکل 34/35سیٹیں ملیں۔ کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جماعت راشٹریہ جنتا دل تھی، جس کے بانی اور سرپرست لالو پرساد یادو ہیں۔ وہی لالو پرساد جن کے نام پر ایک گیت بھی مشہور ہوا تھا، جب تک سموسے میں آلو رہے گا، تب تک بہار میں لالو رہے گا۔ اب لالو پرساد ضعیف اور علیل ہیں، کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، ان کی جگہ ان کا بیٹا تیجسوی یادو پارٹی سنبھالتا ہے۔ یہ کانگریس کے مین اتحادی تھے مگر اس الیکشن میں ان کا بھی بیڑا غرق ہوا ہے اور صرف 25سیٹیں ہاتھ آئیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ الیکشن میں اسی جماعت نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں، اگرچہ نتیش کمار اور بی جے پی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہ حکومت نہیں بنا سکتے تھے۔ بہرحال اس بار لالو پرساد کی پارٹی ٹھس ہو گئی۔ الیکشن میں بعض نئی جماعتیں بھی آئی تھیں، وہ ناکام ہوئیں، خاص کر پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین نے البتہ پانچ نشستیں جیتی ہیں۔ اویسی کی پارٹی نے بعض سیٹوں میں مسلم ووٹ لے کر کانگریس کو قدرے نقصان بھی پہنچایا۔

پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا میں یہ بیانیہ چل رہا تھا کہ چونکہ آپریشن سندور میں مودی حکومت موثر پرفارمنس نہیں دکھا پائی، رفال طیارے گرنے سے انہیں ندامت اٹھانا پڑی۔ جو بلند بانگ دعوے کیے تھے، وہ ناکام ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور جگہ جگہ سات طیارے گرنے کی بات کر کے مودی حکومت کے لیے خفت کا ساماں پیدا کیا۔ ہمارے ہاں یہ خیال تھا کہ اس کا اثر بہار کے الیکشن میں سامنے آئے گا۔ ایسا نہیں ہو سکا۔ بہار کے نتائج نے یہ بات غلط ثابت کر دی۔ ریاستی سطح پر بی جے پی نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کی گرفت گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈیا ایک بہت ہی متنوع، بے پناہ قسم کی لسانی، طبقاتی، قومیتی تقسیم والا ملک ہے۔ اس کی سیاست بھی پیچیدہ ہے، وہاں پر بعض اوقات نیشنل لیول پر سیاست کچھ اور طرح سے چلتی ہے جبکہ ریاستی یعنی صوبائی سطح پر سیاست کا رخ اور رنگ مختلف ہوتا ہے۔ انڈیا کی ریاستی سیاست قومی سلامتی کے بیانیے سے ہمیشہ متاثر نہیں ہوتی۔ بہت سی ریاستوں میں مقامی ذات پات کی تقسیم اور طبقاتی ووٹ، ویلفیئر اسکیمز اور مقامی سیاسی اتحاد زیادہ اہم اور فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ بہار میں یہ سب کچھ بی جے پی اور مودی کے حق میں گیا یا یہ کہہ لیں بڑے طریقے سے اسے اپنے حق میں بنایا گیا۔

کسی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ مودی کا مقبولیت کا گراف قائم ہے، ان کی شخصیت میں کشش بدستور موجود ہے اور وہ ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ مودی نے اس جیت پر کہا ہے کہ میں نے بہار کے لو گوں کا دل چرا لیا ہے۔ اس جیت نے بنگال میں بی جے پی کی جیت کے لیے راستے ہموار کر دیے ہیں۔ ایسا ہو پائے یا نہیں، لیکن ابھی مودی دعوے تو کر سکتے ہیں۔ بہار میں کاسٹ سسٹم بہت زیادہ ہے، یہاں ان کی سیاسی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ ای بی سی یعنی ایکسٹریملی بیک ورڈ کاسٹ، او بی سی یعنی ادر بیک ورڈ کاسٹ، مہا دلت، اپر کاسٹ، مسلم ووٹ۔ یہ سب مختلف گروہ ہیں۔ او بی سی انڈیا میں وہ سماجی گروہ ہے جو تاریخی، معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ سمجھے جاتے ہیں، انہیں ملازمتوں، تعلیمی اداروں میں کوٹہ اور دیگر سہولتیں دی جاتی ہیں جبکہ او بی سی میں سے بھی سب سے زیادہ پسماندہ طبقہ ای بی سی کہلاتا ہے۔ بہار میں ای بی سی ایک بہت مضبوط سیاسی بلاک ہے، جس پارٹی کو یہ ووٹ ملے تو اسے جیت میں سہولت ہو جاتی ہے۔ نتیش کمار کا زیادہ کام اسی حلقے میں ہے۔ ہر الیکشن لڑنے والا ان تمام ووٹر بلاکس کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ الیکشن نتائج سے اندازہ ہوا کہ بی جے پی کا اتحاد اس حوالے سے زیادہ موثر اور کامیاب ہوا۔

یہ ایک اہم فیکٹر ہے کہ بی جے پی کے اتحاد کو نریندر مودی کی شخصی کشش اور نتیش کمار کے ایماندار امیج کا بھی ایڈوانٹیج تھا اور ساتھ ہی یہ یہ تاثر بھی ان کے ساتھ تھا کہ بی جے پی اور نتیش کمار کی جماعتوں کی مخلوط حکومت اچھے سے صوبے کو چلا سکے گی۔ دوسری طرف کانگریس اور تیجسوی یادو کے اتحاد مہا گٹھ بندھن میں انتشار اور کمزوری کا تاثر مل رہا تھا۔ ریاستی انتخابات میں لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون سی حکومت مضبوط اور مستحکم رہے گی اور اسے کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ بات کانگریس کے خلاف گئی۔ مودی اور ان کے اتحادیوں نے گراونڈ لیول پر سیٹ بائی سیٹ پلاننگ کی۔ وہ آپس میں سیٹوں کے جھگڑے میں نہیں پڑے، صرف یہ دیکھا کہ کہاں کون سا امیدوار مقامی سطح پر زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس کانگریس کے اتحاد میں سیٹوں پر بہت سے اختلافات نظر آئے۔ کانگریس نے 70سیٹوں کا مطالبہ کیا اور 61پر الیکشن لڑا مگر صرف چھ سیٹیں جیت پائی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس صرف 10، 12سیٹوں ہی پر اچھا الیکشن لڑنے کی پوزیشن میں تھی، اسے زیادہ لالچ کی بجائے صرف اپنی مضبوط سیٹوں پر فوکس کرنا چاہیے تھا اور باقی سیٹیں مقامی سطح پر زیادہ بڑی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کو دے دینی چاہیے تھیں۔ انہی جھگڑوں کی وجہ سے امیدوار بھی دو ہفتے بعد فائنل کیے گئے جس کا الیکشن مہم میں بہت نقصان ہوا۔

بی جے پی اور اس کے اتحادی نتیش کمار کی جماعت نے بہت اچھی دھڑوں کی سیاست کی۔ بی جے پی کی اصل بنیاد اعلی ذات کے ہندو ہیں۔ انہوں نے اپنی قوت کو نہیں چھوڑا اور ان کے ساتھ او بی سی میں بھی نفوذ کیا۔ نتیش کمارکی اصل قوت انتہائی پسماندہ ذاتیں یعنی ای بی سی ہیں۔ نتیش کے جنتا دل یونائٹڈ نے ای بی سی اور خواتین ووٹ بنک کو بہت اچھے سے موبائلائز کیا اور اس کے ثمرات وصول کر لیے۔ جنتا دل یونائٹڈ کو کسی حد تک مہا دلت ووٹ بھی ملا۔ بی جی پی کی کامیابی میں اس فیکٹر نے بھی اہم کردار ادا کیا کہ وہ حکومت میں ہیں، ان کے پاس مرکز کے بھی فنڈز ہیں اور بہار کے ریاستی فنڈز بھی پانچ برس رہے۔ بی جے پی نے سڑک، بجلی، راشن اور مختلف سبسڈیز کو کامیابی سے استعمال کیا۔ نتیش کمار کی حکومت کے دور میں لا اینڈ آرڈر بھی بہتر ہوا، یہ بھی پلس پوائنٹ گیا۔ مودی نے ابھی بہار کی ایک کروڑ سے زائد خواتین میں 88کروڑ کے قریب پیسے بطور امداد کے تقسیم کیے۔ اس کا انہیں فائدہ پہنچا۔ خواتین ووٹ ٹرن آوٹ اس بار تاریخی رہا۔ ویسے بہار میں غیرمعمولی ٹرن آٹ ہوا ہے۔ ووٹرز کی بہت بڑی تعداد نے باہر آ کر بی جے پی کے اتحاد کو ووٹ ڈالا اور انہیں تین چوتھائی اکثریت سے نشستیں دلا دیں۔ انڈیا کی مقامی سطح میں مودی کے لیے اگلے چیلنج ویسٹ بنگال، کیرالہ اور تمل ناڈو کے ریاستی انتخابات ہیں جہاں وہ شد و مد سے اپنے پیر جمانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھیں وہاں کیا ہوتا ہے کہ بہار کی نسبت بنگال اور تمل ناڈو میں مقامی جماعتیں اور اتحاد بھی طاقتور اور منظم ہیں۔