پاکستان۔ امن کا سفیر

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک اور پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقتوں کی سیاست، علاقائی تنازعات اور عالمی مفادات نے امن کے راستے کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ مشرقِ وسطی سے لے کر جنوبی ایشیا اور یورپ تک ہر خطہ کسی نہ کسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے حالات میں جب اعتماد کمزور ہو جائے اور مکالمہ ختم ہونے لگے تو ثالثی اور مفاہمت کی کوششیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔ پاکستان اس وقت اسی عالمی منظرنامے میں ایک ایسے کردار کے طور پر ابھر رہا ہے جو خود کو امن کے سفیر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو اس میں ہمیشہ توازن امن اور بات چیت کی گنجائش کو اہمیت دی گئی ہے۔ اگرچہ ملک کو مختلف ادوار میں اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے عالمی سطح پر کئی مواقع پر ثالثی اور مفاہمت کی کوششیں کی ہیں۔ آج ایک بار پھر جب دنیا میں تنازعات بڑھ رہے ہیں پاکستان کا سفارتی کردار دوبارہ زیر بحث ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان نے جس انداز سے تنازع میں شامل فریقین کے درمیان رابطے بڑھانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے وہ قابل توجہ ہے۔ یہ اقدامات محض رسمی بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی سفارت کاری کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ملاقاتیں سفارتی روابط اور پس پردہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خود کو ایک فعال ثالث کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

اب مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے جس میں تمام اہم فریقین کی شرکت متوقع ہے۔ یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پہلا دور عموما ابتدائی گفتگو اعتماد سازی اور موقف کے تبادلے تک محدود ہوتا ہے جبکہ دوسرا دور اصل مذاکرات اور عملی پیش رفت کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اسی مرحلے میں یہ طے ہوتا ہے کہ آیا فریقین کسی مشترکہ بنیاد پر آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔پاکستان کے لیے یہ دوسرا دور ایک اہم امتحان بھی ہے اور ایک بڑا موقع بھی۔ اب صرف نیک نیتی کافی نہیں بلکہ سفارتی حکمت عملی غیر جانبداری اور صبر و تحمل کا عملی مظاہرہ ضروری ہے۔ ثالثی کا اصل حسن یہی ہے کہ ہر فریق خود کو سنا ہوا اور اہم محسوس کرے اور کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔دنیا کی موجودہ سیاست میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر ریاست اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی ثالث کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ وہ کسی ایک فریق کے قریب نظر نہ آئے بلکہ اپنی پوزیشن کو ایک متوازن اور قابل اعتماد کردار کے طور پر مضبوط کرے۔

اگر پاکستان اس جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتا ہے تو یہ صرف سیاسی عمل نہیں ہوگا بلکہ ایک دینی اور اخلاقی ذمہ داری کی ادائیگی بھی شمار ہوگا۔ اس سے نہ صرف ملک کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک مثبت شناخت بھی مل سکتی ہے۔تاہم اس راہ میں مشکلات بھی کم نہیں ہیں۔ عالمی سیاست کے پیچیدہ تعلقات بڑی طاقتوں کے مفادات اور علاقائی حساسیتیں کسی بھی وقت صورتحال کو بدل سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو نہایت محتاط انداز میں قدم اٹھانے ہوں گے۔ جلد بازی یا غیر متوازن فیصلے اس عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جبکہ تدبر اور حکمت اسے کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو اس کی داخلی صورتحال ہے۔ ایک مضبوط اور مستحکم اندرونی نظام ہی کسی ملک کو عالمی سطح پر مثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اندرونی سطح پر سیاسی استحکام معاشی بہتری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی موجود ہو تو خارجہ محاذ پر کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔دوسرے دور کے مذاکرات میں پاکستان کو ایک پل کا کردار ادا کرنا ہوگا جو مختلف سوچوں مفادات اور مقف رکھنے والے فریقین کو آپس میں جوڑ سکے۔ اس کے لیے زبان کا محتاط استعمال اعتماد سازی کے اقدامات اور ہر فریق کے مقف کو سنجیدگی سے سننا نہایت ضروری ہوگا۔ ثالثی کا اصل حسن یہی ہے کہ ہر فریق خود کو اہم محسوس کرے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس دور میں فوری کوئی بڑا معاہدہ سامنے نہ آئے لیکن اگر کشیدگی میں کمی آ جائے رابطے بحال ہو جائیں اور آئندہ کے لیے راستہ ہموار ہو جائے تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ امن کے عمل میں اکثر پیش رفت بتدریج ہوتی ہے اور ہر چھوٹا قدم بڑی تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی مثبت شناخت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا بھی ہے۔ ایک ایسا ملک جو ماضی میں مختلف چیلنجز کا شکار رہا اگر آج امن اور مفاہمت کا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک نئی پہچان کی بنیاد بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے تسلسل سنجیدگی اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔

پاکستان اس نازک مگر اہم مرحلے پر امن کا سفیر بننا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ آنے والے دن، خاص طور پر مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز، اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان اس کردار کو کس حد تک مؤثر انداز میں ادا کر پاتا ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کی ایک نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اگر یہ عمل مکمل کامیابی تک نہ بھی پہنچے تو بھی پاکستان کا یہ قدم تاریخ میں ایک مثبت اور سنجیدہ کوشش کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کسی نے جنگ کے شور میں بھی امن کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔یہی کوشش، یہی نیت اور یہی حکمت اگر برقرار رہی، اور ساتھ ہی داخلی اصلاحات پر سنجیدگی سے کام کیا گیا، تو آنے والے وقت میں پاکستان واقعی ایک مضبوط، متوازن اور باوقار امن کے سفیر کے طور پر اپنی شناخت قائم کر سکتا ہے۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بیرونی محاذ پر کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب داخلی استحکام بھی مضبوط ہو۔ پاکستان کو اپنی اندرونی صورتحال پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گورننس کے نظام میں شفافیت، میرٹ اور مؤثر عملداری کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ اسی طرح معیشت کو درپیش چیلنجزمہنگائی، بے روزگاری اور کمزور سرمایہ کاری بھی فوری توجہ چاہتے ہیں۔ مضبوط اور مستحکم معیشت ہی کسی ملک کو عالمی سطح پر باوقار اور خودمختار کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔