تیسری قسط:
یہ دراصل محبت کا سفر تھا اور محبت بھرا سفر یونہی لمحوں میں کٹ جایا کرتا ہے۔ جہاز جب استنبول شہر کی حدود میں داخل ہوا تو میں نے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکنا شروع کردیا۔ میرے سامنے سرسبز و شاداب جزیروں اور ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی ہوئیں سمندری خلیجوں اور لہروں کا ایک جال سا بچھا ہوا نظر آیا۔ پھر لمحہ بہ لمحہ جہاز کی بلندی کم ہورہی تھی۔ دور سے نظر آنے والی چیزیں بدستور بڑی ہوتی اور پھیلتی گئیں۔ ان میں چھپی ہوئی قدرت کی خوبصورتیاں اور رعنائیاں نمایاں ہوتی چلی گئیں۔ بادلوں سے اَٹھکیلیاں کرتی ہوئی آبشاریں معلوم ہورہی تھیں۔ ترکش ایرلائن کا بڑا جہاز استنبول شہر کے اوپر چکر کاٹ رہا تھا۔ اوپر سے استنبول شہر بڑا ہی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ جہاز نے پہلے ایک لمبا سا چکر کاٹا۔ پھر ترچھا ہوا۔ رفتہ رفتہ زمین کے قریب تر ہوتا چلاگیا۔ہمیں استنبول کی ایک ایک چیز سے محبت تھی، اس لیے میں طیارے میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھا تھا تاکہ نگاہ بھر کر دیکھ سکوں اور کوئی منظر میری نگاہ سے رہ نہ جائے۔
ابھی قلب و نظر اسی حسین منظر و نظارے میں محو تھے کہ انائونسر نے انائوسمنٹ کی کہ ہم استنبول ایرپورٹ پر لینڈ کررہے ہیں۔ چند ہی لمحوں کے بعد ترکش ایرلائن کے بڑے سے طیارے کے ٹائروں نے رن وے کو چھالیا۔ ایک ہلکا سا جھٹکا لگا اور ہمارا جہاز استنبول کے ہوائی اڈے پر اُترگیا۔ میں نے دور سے دیکھا تو اس ایرپورٹ کی عمارت پر ”مصطفی کمال اتاترک ایرپورٹ” لکھا ہوا نظر آیا۔ یہ بہت بڑا ایرپورٹ معلوم ہورہا تھا۔ ایرپورٹ پر طیارے ہی طیارے کھڑے تھے۔ دنیا بھر کی ایرلائنز کے طیارے تھے۔ معلوم ہو اکہ استنبول ایرپورٹ دنیا بھر میں جانے والوں کے لیے جنکشن شمار ہوتا ہے۔ یہاں سے پوری دنیا میں فلائٹیں جاتی اور آتی ہیں۔ یہ جدید انداز کا خوبصورت ایرپورٹ تھا۔ اتنی دیر میں جہاز کا دروازہ کھل گیا۔ باہر نکلے تو شدید ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے استقبال کیا، حالانکہ آج 15ستمبر تھا اور پاکستان میں خاصی گرمی تھی، لیکن استنبول میں کافی ٹھنڈ تھی۔ ہینڈکیری سے جلدی سے گرم ٹوپا اور جیکٹ نکال کر پہنی۔
میں نے مڑکر جہاز کی طرف دیکھا تو جہاز کا پائلٹ مسافروں کو ہاتھ ہلاہلا کر خدا حافظ کرتے نظر آیا۔ ہم نے اپنے ہینڈ کیری سے پاکستان کا جھنڈا نکالا اور لہراکر ”گاردش” پکار کر مخاطب کیا۔ جواباً انہوں نے دونوں ہاتھ پائلٹ ونڈو سے باہر نکال کر ”پاکستان زندہ باد” کہا تو ہم نے ”پاک ترک دوستی زندہ باد” کا نعرہ بلند آواز سے لگادیا۔ادھر ادھر کھڑے دوسرے مسافر ہمیں دیکھ کر مسکرانے لگے۔ یوں ایک دوستانہ ماحول بن گیا۔ استنبول ایرپورٹ پر اچھاتاثر قائم ہوگیا۔ ایرپورٹ کے اندر امیگریشن آفیسر کے پاس پہنچے تو انہوں نے مسکراکر سلام کیا اور انٹری کی مہر لگاکر پاسپورٹ واپس کردیا۔ استنبول ایرپورٹ کے اندر جہاں سے سامان ملتا ہے، اسے اصطلاح میں ”کنویئر بیلٹ” کہتے ہیں۔ یہاں پر تاحدِ نگاہ کنویئر بیلٹس دکھائی دے رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوا ہوا کہ نمبر 8 پر کراچی سے آنے والی فلائٹ کا سامان ہوتا ہے، چنانچہ ہم سامان اٹھانے والی ٹرالی لے کر کھڑے ہوگئے۔ ابھی 7 منٹ ہی گزرے تھے کہ سامان آنا شروع ہوگیا۔ تیسرے نمبر پر ہمارا بیگ تھا۔
استنبول دنیا کا واحد شہر ہے جو دنیا کے دو براعظموں میں واقع ہے۔ استنبول کا ایک حصہ براعظم ایشیا میں ہے اور استنبول کا دوسرا حصہ براعظم یورپ میں ہے اور ان دونوں حصوں کے درمیان ”آبنائے باسفورس” بہتی ہے۔ یہ ایرپورٹ استنبول کے یورپی حصے میں واقع ہے، اور جہاں ہمارا قیام ہوگا، وہ جگہ بھی اس کے یورپی حصے میں ہی ہے۔ میرے منہ سے فوراً نکلا: ”گویا ہم اس وقت یورپ میں کھڑے ہیں۔” اور پھر ہم ایرپورٹ سے ایک خوبصورت، آرام دہ گاڑی میں سوار ہوکر اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہماری رہائش گاہ ”گولڈن ہارن” کے کنارے پر واقع تھی۔ گولڈن ہارن میں چلتی ہوئی چھوٹی بڑی کشتیاں نظر آرہی تھیں۔ جس کمرے میں ہمارا قیام تھا، اس کی کھڑکی سے گولڈن ہارن کا نیلگوں پانی بڑا ہی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ یہ ایک ناقابلِ فراموش منظر تھا جس کی حسین یاد یں ذہن پر نقش ہوکر رہ گئی ہیں۔
آج دوپہر کے بعد ہم نے پورے استنبول کی سیر کرنی تھی۔ استنبول کے تاریخی اور مقدس مقامات کا وزٹ کرنا تھا۔ ہمارا گائیڈ ہمیں لینے کے لیے پہنچ چکا تھا، چنانچہ ہم نے جلدی جلدی سامان سمیٹ کر چلنے کی تیاری شروع کردی، تاکہ ”سلطان محمد فاتح” کے شہر کو دیکھ سکیں۔استنبول بہت بڑا شہر ہے۔ روم اور ایتھنز کے شہر کے علاوہ دنیا کا کوئی دوسرا شہر استنبول کی ہمسری نہیں کر سکتا ہے۔ 2018ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی دو کروڑ 55لاکھ بتائی جاتی ہے۔ استنبول کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ براعظم ایشیا میں ہے۔ دوسرا حصہ براعظم یورپ میں ہے۔ ہم جہاں پر ٹھہرے ہوئے تھے وہ جگہ یورپ میں آتی تھی۔ ہماری رہائش کے قریب ہی دیوارِ قسطنطنیہ تھی۔ جب یہ شہر پوری طرح مسلمانوں کے قبضے میں آگیا تو مسلمانوں نے اس کا نام ”اسلامبول” رکھا۔ توپ کاپی میں جو خلافتِ عثمانیہ کی دستاویزات اور کاغذات رکھے ہوئے ہیں ان پر اس کا نام ”اسلامبول” ہی لکھا ہوا ملتا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے دورِ حکومت میں یہ شہر خلافتِ عثمانیہ کا دارالحکومت بنا۔ تقریباً 500سال تک یہ شہر مسلمانوں کا دارالحکومت بنا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت ختم ہوگئی۔ جب خلافت ختم ہوئی تو اس وقت کے جمہوریہ ترک کے صدر مصطفی کمال پاشا نے اس کا سرکاری نام ”استنبول” رکھا۔ 1930ء سے یہ عظیم الشان اور تاریخی شہر ”استنبول” ہی کہلاتا ہے۔
17ستمبر 2025ء کو ہم استنبول شہر میں تھے اور اس تاریخی شہر کی تاریخی مقامات کی زیارت کرنے جارہے تھے۔ ہمارے گائیڈ پاکستانی عالم ِدین محمد بلال نیلمی تھے۔مفتی محمد بلال نیلمی صاحب کا تعلق آزاد کشمیر کی وادیِ نیلم کے سادات خاندان سے ہے۔ آپ ممتاز عالمِ دین ہیں۔ 5برس سے ترکی میں ہیں۔ استنبول میں علمی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ترکی کے مثبت اور اعتدال پسند تشخص کو اردو دنیا میں اجاگر کر رہے ہیں۔ اسی طرح مفتی نیلمی صاحب ”عالمگیر ٹورزم استنبول” کے ذمہ دار بھی ہیں، جو اسلامی و تاریخی سیاحت کے فروغ کیلئے ایک معتبر نام ہے۔ شرعی روشنی میں حلال ٹورازم کیلئے کوشاں ہیں۔آپ بھی ان کی کمپنی ”عالمگیر ٹورزم” کے ساتھ ترکیہ کا وزٹ کر سکتے ہیں۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے!

