استاد کی عظمت اور نیا چلن۔ ہم کو انسان استاد بناتے ہیں

والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کے بعد ہم پر استاد کا ادب و احترام لازم ہے۔ استاد کا احترام ہم پر فرض ہے۔ والدین جسم کی پرورش کرتے ہیں، استاد روح کی اصلاح کرتے ہیں، انسانیت کی تعمیر و علمی ارتقاء میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہے۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں، نوجوانوں کی سیرت کو سنوارنے، انھیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے اور ان کی کردار سازی میں اہم ترین فریضہ انجام دیتے ہیں۔
سب کو تہذیب واخلاق دیتے ہیں
ہم کو انسان استاد بناتے ہیں

استاد ایک خزانے کا مالک ہے، اگر آپ خزانے کے مالک سے خوش خلقی اور خوش مزاجی سے پیش آتے ہیں تب ہی وہ خزانہ آپ کے ہاتھ لگے گا۔ استاد کی اہمیت کا اندازہ بطلیموس کے اس قول سے لگا سکتے ہیںکہ استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعہ سے مفید ہے۔ کسی بھی طرح کا علم حاصل کرنا ہو، اس میںاستاد کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ استاد آپ کی صحیح رہنمائی فرمائیں گے۔

”استاد” فارسی زبان کا لفظ ہے جوعربی میں جاکر ”استاذ” بنا، اسی وجہ سے اس کی جمع ”اساتذہ” آتی ہے۔ جس کا مطلب ہے وہ شخص جو علم سکھاتا ہے یا کسی کو کوئی ہنر سکھاتا ہے۔ اساتذہ کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور ان کا کردار معاشرتی طرز عمل پر منحصر ہوتا ہے۔ اساتذہ کی ذمہ داری صرف معلومات منتقل کرنا نہیں ہے، بلکہ طلبہ کی شخصیت کی تعمیر کرنا، ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور انہیں معاشرے کا مفید رکن بنانا ہے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انمابعثت معلما مجھے استاد بنا کر بھیجا گیا۔

انسان کو اللہ تعالیٰ نے نفیس بنایا ہے۔ اس کی نفاست کا تقاضا ہے کہ وہ حلت اور حرمت کے باب میں بہت حساس رہے۔ سب سے نفیس طبیعت پیغمبر کی ہوتی ہے۔ ایک پیغمبر اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ اسے ذرا گوارا نہیں ہوتا کہ اس کے کسی اقدام کی وجہ سے اس کی اخلاقیات کے متعلق کوئی سوال اٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی ضب نہیں کھایا۔ ضب نجد کے صحراؤں میں پایا جانے والا ایک جانور جو سانڈے کی شکل کا ہوتا ہے۔ بخاری اور مسلم میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ضب حلال ہے یا حرام؟ آپ نے فرمایا یہ میرے علاقے میں نہیں ہوتا۔ اس لیے میں اس سے طبعی طور پر کراہت محسوس کرتا ہوں۔ ایک حدیث میں آپ کے سامنے دسترخوان پر صحرا کا یہ جانور کھایا گیا۔ آپ کو دعوت دی گئی مگر آپ نے نہیں کھایا۔ آپ کا اسے نہ کھانا آپ کی طبعِ لطیف یعنی نفیس طبیعت کا تقاضا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس جانور کے گوشت میں ہلکی سی بوآتی ہے۔ کچا پیاز اور کچا لہسن دونوں حلال ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی انھیں نہیں کھایا۔ سلاد کی ڈش تو پیاز کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔ یہ دونوں چیزیں اس لیے نہیں کھائیں کیونکہ ان کے کھانے سے منہ سے ہلکی سی بو آتی ہے۔

ہر چیز کو حلت یا حرمت کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اگر انسان کی نفاست متقاضی ہو کہ فلاں چیز سے بچا جائے تو اس سے بچنا چاہیے، مثلاً ہمارے سماج میں ایک روایت چل پڑی ہے کہ اساتذہ اپنی ہی اسٹوڈنٹس سے شادیاں کرنے لگ گئے ہیں۔ یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں، کیونکہ استاد باپ اور شاگرد بیٹی کے قائم مقام ہوتی ہے۔ بے شک طالبہ محرم رشتوں کی ذیل میں نہیں آتی، مگر استاد کے روحانی باپ ہونے کے ناتے اس رشتے میں تقدس ہے۔ اسی وجہ سے سماج روحانی باپ بیٹی کے رشتے کو خاوند بیوی کے رشتے میں قبول کرنا پسند نہیں کرتا۔ مہذب لوگ اس رشتے پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں، اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی استاد اپنی شاگرد سے شادی رچا لے تو پھر وہ ساری زندگی وضاحتیں دیتا پھرتا ہے۔

ایک صاحب پر ان کی خاتون شاگرد مر مٹی تھی لیکن پھر بھی انہیں اپنا دامن بچانا چاہیے تھا۔ شادی کے بعد جب آنکھیں چار ہوتی ہیں تب بندہ شرمسار ضرور ہوتا ہے، کیونکہ میاں بیوی کے رشتے کے پیچھے استاد اور شاگرد کے رشتے کی حرمت جھلک رہی ہوتی ہے۔ یوں یہ دونوں رشتے مکس ہو کر شرمندگی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ اپنی شاگرد سے شادی کرنے والے کو لوگ مہذب کم ہی سمجھتے ہیں۔

مذہب کی اگر بات کریں تو اس میں ہر چیز حلال یا حرام کے درجے پہ نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو حلال ہوتی ہیں لیکن ان سے حرمت کی معمولی سی بو آتی ہے۔ سمجھداری کا تقاضا ہے کہ اس بو کی وجہ سے اس چیز کو حلال نہ سمجھا جائے، اس سے پرہیز کیا جائے۔ اسی طرح کچھ چیزیں ہوتی تو حرام ہیں مگر ان سے حلت کی ہلکی سی بو آتی ہے۔ اس صورت میں بھی اس حرام چیز سے بچنا چاہیے۔ بھلے اس میں حلت کی تھوڑی سی خوشبو آتی ہے۔

اسی پر آپ قیاس کر لیں ایک استاد اور شاگرد کی شادی کو۔ ان میں بھی باپ بیٹی کی ہلکی سی بو آتی ہے۔ استاد اور شاگرد کی شادی اپنی ذات میں حرمت کی ویسی ہی بو رکھتی ہے جیسی ممانی، چچی یا تائی کے رشتے میں ہوتی ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے یہ تینوں رشتے بھلے حلال ہیں مگر ان رشتوں کے ساتھ ماموں، چچا اور تایا کا رشتہ منسوب ہونے سے یہ ایک لحاظ سے ماؤں کے قائم مقام ہو جاتی ہیں۔ ممانی، تائی یا چچی کے بھائی کو ہمارے معاشرے میں ماموں اور اس کے باپ کو نانا بولتے ہیں۔ کیا اس سے حرمت کی ہلکی سی بوباس نہیں آتی! شریعت میں ان رشتوں سے شادی جائز ہوتے ہوئے بھی ناجائز ہے۔

جب چچا باپ کے درجے پہ ہے، تایا باپ کے درجے پہ ہے اور ماموں باپ کے درجے پہ ہے تو پھر ان کی بیویاں ماؤں کے درجے پہ کیوں نہیں؟ اس لیے بہت کم سننے میں آیا ہے کہ فلاں نے اس رشتے سے (طلاق یا بیوگی کی صورت میں) شادی کر لی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ اس رشتے کو پسند نہیں کرتا۔ ایک مہذب انسان کی تہذیب کا تقاضا ہے کہ انہیں اپنی مائیں سمجھے، بس۔ اس طرح اساتذہ کو بھی اپنی طالبات کو اپنی روحانی بیٹیاں سمجھتے ہوئے ان سے نیا رشتہ قائم نہیں کرنا چاہیے وگرنہ اساتذہ اور شاگرد کے رشتے پہ لوگ اعتماد نہیں کریں گے۔ اسی طرح طالبات کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اساتذہ کو اپنے باپ ہی کی نظروں سے دیکھیں۔

بھلے یہ خدا کی قائم کردہ حرمتوں میں شامل نہیں، لیکن یہ پسندیدہ بات نہیں۔ یہ ایک بری روایت ہے۔ اس رشتے کا بھی اپنا ایک تقدس ہے۔ جب تقدس ختم ہوتا ہے تو رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کو اپنے مقامِ بلند پر رہنا چاہیے۔ اس منصب پر رہتے ہوئے انہیں اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنا چاہیے۔ اساتذہ کا رشتہ اپنے طلبہ سے والدین کا ہوتا ہے۔ شادی سے یہ رشتہ مجروح ہو جاتا ہے۔ استاد کے بارے میں ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور پایا جاتا ہے کہ
زندگی کے سفر میں کانٹے ہوتے ہیں
راہ میں پھول استاد بچھاتے ہیں

اور ایک وقت تک اساتذہ کی خدمت کرنے والے اپنی محنت اور لگن سے استاد کے مرتبے پر فائز ہو جاتے ہیں اور نسل نوع کی راہنمائی کرتے ہیں۔
وہی شاگرد پھر استاد ہو جاتے ہیں اے جوہر
جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں