دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جس نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات کے باعث ایک مرحلے پر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں پر مرتب ہوئے۔ تاہم جیسے ہی حالات میں وقتی بہتری آئی اور تیل کی ترسیل بحال ہوئی تو قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور بعض رپورٹس کے مطابق قیمتیں 10 سے 12 فیصد تک گر گئیں۔ یہ عالمی رجحان واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی قیمتیں نہایت حساس ہوتی ہیں اور سیاسی و جغرافیائی حالات کے زیرِ اثر تیزی سے بدلتی رہتی ہیں۔
اس عالمی تناظر میں اگر پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس کا جواز عالمی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کو بنایا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھی ایسا ہی ہوا جب حکومت نے ایک ہی فیصلے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں 400 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر گئیں لیکن جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو وہی تیزی نظر نہیں آئی اور عوام کو فوری ریلیف نہیں مل سکا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک مکمل طور پر منتقل نہیں کیا جاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا انحصار درآمدی تیل پر ہے، جس کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں ہر تبدیلی براہ راست ملک کے مالیاتی ڈھانچے اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا اثر اشیائے خوردونوش، بجلی، صنعتی پیداوار اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر پڑتا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو مہنگائی کی ایک لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آئے اور اس کا فائدہ عوام کو نہ دیا جائے تو یہ صورتحال مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز اور لیویز ہیں، جو حکومتی آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔ حکومت اکثر ان محصولات کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کے لیے قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کی شرائط بھی ایک اہم عنصر ہیں جو حکومت کو سبسڈی دینے سے روکتی ہیں اور عالمی قیمتوں کو براہ راست عوام تک منتقل کرنے پر زور دیتی ہیں، تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کو فوری بنیاد بنا کر قیمتیں بڑھائی جا سکتی ہیں تو کمی کی صورت میں وہی اصول کیوں لاگو نہیں ہوتا؟کیا حکومت کا مقصد عوام پر فقط بوجھ ڈالنا ہی ہے؟
دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں اپنے عوام کو ریلیف دینے کیلئے مختلف اقدامات کرتی ہیں، جیسے ٹیکس میں کمی، سبسڈی یا دیگر مالی سہولیات تاکہ عالمی منڈی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے برعکس پاکستان میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام کو مکمل ریلیف فراہم کرنے کی بجائے حکومتی مالی ضروریات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان ہے اور ان کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک واضح، شفاف اور خودکار نظام متعارف کروائے جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے مطابق فوری اور منصفانہ انداز میں کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسز اور لیویز کا ازسرِ نو جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ عوام پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ مزید برآں اگر مکمل سبسڈی دینا ممکن نہیں تو کم از کم کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدفی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے جو محض اعلانات تک محدود نہ ہو بلکہ عملی طور پر بھی ہو ، تاکہ وہ مہنگائی کے اس بوجھ کو برداشت کر سکیں۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ حالات میں عوام کو فوری ریلیف دینا نہ صرف ایک معاشی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو رہی ہوں تو اس کا فائدہ عوام تک بروقت پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھے گا، عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور معیشت کی بحالی کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے اور ان کے اعتماد کو بحال کیا جائے، کیونکہ خوشحال عوام ہی کسی بھی ملک کی ترقی کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔

