کاٹلنگ آپریشن، وفاقی وکے پی حکومت آمنے سامنے

اسلام آباد/پشاور:وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کاٹلنگ آپریشن میں 17 خارجی ہلاک ہوئے، کسی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا، کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہاکہ آپریشن کی جگہ سے قریبی آبادیاں 6 سے 9 کلومیٹر دور تھیں، وہاں کوئی سویلین گھر موجود نہیں تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ مقامی جرگے میں کچھ افراد نے خارجیوں کو سہولت فراہم کرنے کا یقین دلایا تھاجس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ خارجیوں نے عید پر مردان میں حملے کا اعلان کیا تھا جو اس آپریشن کی وجہ سے ناکام رہا۔

خیبرپختون خوا میں ہزاروں حملے کرنے والوں کی پی ٹی آئی حکومت نے کبھی مذمت نہیں کی۔انھوں نے مزید کہا کہ جب خارجیوں نے خود پر ڈرون حملے کی غلط خبر پھیلائی تو پی ٹی آئی نے پاک فوج کے خلاف بیانیہ اپنایا اور ان کی دلجوئی کے لیے پہنچ گئی۔ جھوٹی خبریں پھیلانے والے خارجیوں کے سہولت کار ہیں۔

ادھرمردان کاٹلنگ واقعے سے متعلق مشیر اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر سیف کا ویڈیو بیان سامنے آ یا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مستقبل میں ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس افسوسناک واقعے کے حوالے سے تحقیقات اور حقائق جلد ازجلد سامنے لانے کا حکم دیا ہے، حقائق سامنے آنے کے بعد خیبر پختون خوا حکومت اس حوالے سے بھرپور موقف دے گی۔

بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے ویڈیو بیان میں کہاکہ کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادت کے حوالے سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور واضح موقف دے چکے ہیں، وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادت قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔

مشیر اطلاعات خیبر پختون خوا نے ویڈیو بیان میں کہاکہ وزیراعلیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس علاقے میں پہلے بھی کئی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، محسن باقر اور عباس جیسے بڑے دہشت گردوں کو اسی علاقے میں ہلاک کیا گیا۔

بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ یہ بھی یاد رہے کہ اسی علاقے میں پولیس افسر اعجاز خان نے بھی جام شہادت نوش کیا تھا، وزیراعلیٰ نے بتایاکہ اس کارروائی میں عام شہریوں کی شہادتوں کے افسوسناک واقعے کے تمام پہلوئوں کی تحقیقات کی جائیگی اور حقائق سامنے لائے جائینگے۔

بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ وزیراعلی نے واقعے میں شہید ہونے والے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید ہونے والے لواحقین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں جائینگے اور ان کی بھرپور مالی معاونت کی جائیگی۔

مشیر اطلاعات خیبر پختون خوا نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور عوام صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں، نہتے اور بے گناہ شہریوں کو ڈھال بنانے اور خود کو عام آبادی میں چھپانا جیسے بزدلانہ اقدام کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آپریشنل نقائص یا کسی بھی دوسری وجہ سے شہریوں کے جانوں کو خطرے میں ڈالنا درحقیقت دہشت گردوں کے مذموم اہداف کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔