پی ٹی آئی کے حکومت سے مذاکرات ختم،جے یوآئی سے رابطے

اسلام آباد: پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات ،کمیٹی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماواپوزیشن لیڈرعمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کراسکی اور نہ ہی کمیشن بنایا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم ہوچکے ہیں، ہمارا وقت قیمتی ہے، اب عوام کے پاس جارہے ہیں، بانی نے مذاکراتی کمیٹی بنائی تاکہ بعد میں کوئی گلا نہ کرے۔

عمر ایوب نے کہا کہ کمیٹی کے نام لیکر اڈیالہ سے باہر نکلا تو مجھے گرفتار کرلیا گیا تھا، اسیران کی رہائی، 9 مئی پر کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا، ہم نے مطالبہ کیا تھا بانی سے بغیر نگرانی کے ملاقات کرائیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اعلامیے میں بھی ملاقات پر اتفاق کیا لیکن کرانہیں سکی، ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے گی۔رکن اسمبلی میاں غوث کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا، ایسے حالات میں مذاکرات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا، ہم نے آئین وقانون کے مطابق اسیران کی رہائی کی بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی بتایا تھا کمیشن نہ بنا تو مزید مذاکرات نہیں ہوں گے، پی ٹی آئی نے پیکا ترمیم کے خلاف اسمبلی میں ووٹ دیا، پیکا ترمیم صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے بنایا گیا ہے،عمرایوب کا کہنا تھا اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرکے آگے بڑھیں گے، جمہوریت کے فروغ کیلئے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ سیز فائر ہوگیا ہے، پی ٹی آئی، جے یو آئی رابطوں میں وقفہ ضرور ہوا لیکن نیت صاف ہے۔

قبل ازیںاسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے نہ آنے پر مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا تاہم کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسپیکر ایاز صادق نے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ 7 ورکنگ دنوں میں دوبارہ اجلاس ہوگا، آج 7 دن پورے ہوگئے، اس سے متعلق ہم نے سب کو اجلاس کی دعوت دی، توقع تھی کہ اپوزیشن کے ارکان آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 45 منٹ انتظار کیا، ان کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ نہیں آئیں گے، میں نے پی ٹی آئی سے رابطہ کیا ہے، پی ٹی آئی ارکان نے کہاکہ ہم اپنی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرکے بتائیں گے۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے مذاکرات نہیں چل سکے، اس میٹنگ کو آگے رکھنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا، اس لیے میٹنگ ملتوی کررہے ہیں لیکن میرے دروازے کھلے ہیں توقع رکھتا ہوں دونوں طرف سے مذاکرات کیے جائیں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ مذاکراتی کمیٹی قائم رہے گی اسے تحلیل نہیں کررہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اگر اجلاس میں آئے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے کر آئے ہوں گے، ہم نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کیا ہوا ہے، ہماری مثبت کوشش ہے کہ بات چیت آگے بڑھے، اس سے پہلے بھی مذاکرات ہوتے رہے ہیں، امید کرتے ہیں وہ آئیں گے ہم جواب دیں گے اور ہم جواب دینا چاہتے تھے، جب تک آئیں گے نہیں تو جواب کیسے دیں گے۔

اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہرعلی خان کا کہنا تھا کہ ہماری ایک ہی مذاکراتی کمیٹی بنی تھی اور مذاکرات ایک ہی جگہ ہو رہے تھے، کہیں اور مذاکرات نہیں ہو رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کھلے دل کے ساتھ ان کے ساتھ بیٹھے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ ہم 26 ویں ترمیم کے خلاف باقی حزب اختلاف کی جماعتوں سے ملیں گے اور عدالتوں میں جانے سمیت ہرقسم کی جدوجہد اور احتجاج کریں گے۔

بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گوہرعلی خان نے کہا کہ علی امین کو ہٹانے کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ علی امین کا پیغام آیا تھا اور انہوں نے خود ملاقات میں بتایا کہ ان پر کام کا بہت زیادہ بوجھ ہے اور ان کی نیند پوری نہیں ہو رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈا پور کی مرضی سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا نیا صدر مقرر کیا گیا ہے۔بیرسٹر گوہرعلی خان نے تحریک انصاف میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم مذاکرات چھپ کر نہیں کریں گے بلکہ کھل کر کریں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمارے یہی مذاکرات ہیں جو اب ختم ہو چکے ہیں۔

ادھرپی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات سے علیحدہ ہونے کی پس پردہ کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی پس پردہ اعلیٰ سطح ملاقات میں بیرسٹر گوہر خان شامل تھے جنہوں نے بانی پی ٹی آئی کو دوسری ملاقات پربریفنگ بھی دی۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ ملاقات 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے فوری بعد ہوئی اور پس پردہ مذاکرات پر بانی پی ٹی آئی کا رویہ بہت محتاط ہوگیا،بانی پی ٹی آئی کو بیرسٹرگوہر نے پس پردہ بات چیت پرمحتاط رویے کی درخواست کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات میں علی امین گنڈاپور سے کے پی میں کرپشن پر تحفظات کا اظہارکیا تھا اور کرپشن کے معاملے پر ان کی سرزنش بھی کی تھی تاہم عمران خان کی جانب سے علی امین سے استعفا ما نگنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کو گورننس کے مسائل درست کرنے کی تلقین کی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام کی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھا دیا، حکومت کیخلاف مل کر تحریک چلانے کی تجویز،گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کی دعوت بھی دیدی۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر اپنی جماعت سے مشاورت کی یقین دہانی کرادی، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے باہمی رابطوں اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے 2 رکنی کمیٹی بنادی ہے جبکہ سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ آئین کے تحفظ کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا ہونا ہوگا جبکہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آگے بڑھنے کے روشن امکانات ہیں۔

منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف کا وفد ملاقات کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا، جہاں پی ٹی آئی قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے جبکہ پی ٹی آئی کے وفد میں عمر ایوب، اسد قیصر،صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ اور اخونزادہ حسین شامل تھے۔ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی جبکہ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کا حصہ بننے کی دعوت دی۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے بانی کی ہدایت پر یہ ملاقات کی، مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا ایجنڈا آئین کا تحفظ ہے، ہم نے ماہ رنگ بلوچ سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے مولانا فضل الرحمان کو حکومتی مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا جبکہ ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کی ریٹائرمنٹ کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس ملک میں آئین کے تحفظ کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا ہونا ہوگا، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آگے بڑھنے کے روشن امکانات ہے، انہوں نے اس معاملے پر مزید مشاورت جاری رکھنے کا کہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کوئی بھی آئینی حق اس وقت بحال نہیں ہے، صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے پیکا قانون لایا گیا، سڑک پر کھڑے ہونے کا آئینی حق ہم سے لیا گیا، آواز بلند کرنے کا آئینی حق بھی نہیں دیا جارہا۔