چیئرمین پی ٹی آئی کو سمجھایا تھا اسمبلیاں مت توڑو، پرویز خٹک

پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین (پی ٹی آئی پی ) کے چئیر مین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں عدالت کے فیصلے نے ثابت کیا کہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں ، اس ملک میں جو بھی کرپشن، چوری یا اختیارات کا ناجائز استعمال کرے گا ان کے لئے قانون موجود ہے۔

پی ٹی آئی پی کے چئیرمین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ آج کا عدالت کا فیصلہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں اور وہ فیصلے آئین و قانون کو سامنے رکھ کر کرتی ہیں، اس ملک میں جو بندہ بھی کرپشن، چوری یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے گا اس کے لئے قانون موجود ہے جس کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار عدالتوں کو حاصل ہے۔

پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ان کا شروع دن سے ہی یہ موقف تھا کہ ہر مسلے کا حل بات چیت سے ممکن ہے مگر ضد، انا اور اقتدار کی بھوک آج چیئرمین پی ٹی آئی کو جس مقام پر لے آئی ہے اس کے لیے صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اچھی بھلی پارٹی جس کو بنانے اور مضبوط کرنے میں ہمیں برسوں لگے چیئرمین پی ٹی آئی نے حوس اور اقتدار میں محض ایک سال کے اندر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے، جس جس نے پی ٹی آئی چئیر مین پر احسان کیا یا وزیر اعظم بننے میں مدد کی اسی کو انہوں نے سب کے سامنے رسوا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو سمجھایا بھی تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر رہو اور اسمبلیاں مت توڑو مگر انہوں نے کسی کی نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج ان کو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں ان کو اب مزید کسی ایڈونچر کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہمارے غیرت مند اور معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر اور دین اور ٹکٹوں کے لالچ دے کر بے وقوف بنایا گیا۔