ایران میں مظاہرین کی سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں کے نتیجے میں 7افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ملک میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں تیزی سے گراوٹ کے خلاف مختلف شہروں میں 5روز سے احتجاج جاری ہے اور یہ مظاہرے شدت اختیار کر گئے ۔ صوبے لورستان کے شہر ازنا میں 3افرادجاں بحق اور 17زخمی ہوئے جبکہ صوبے چہار محل اور بختیاری میں ہوئے مظاہروں میں دو افرادجاں بحق ہوئے۔مظاہرین کی جانب سے پتھرا ئوکے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔
صوبے لورستان میں ہوئے مظاہروں میں بسیج فورس کا ایک اہلکار بھی مارا گیا۔کئی شہروں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر بھی دھاوا بولا جبکہ ہنگامہ آرائی میں ملوث 30افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔اموات اور عوامی احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں تہران اور واشنگٹن کے مابین واضح دھمکیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل نامی میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں تنبیہ کی کہ اگر تہران حکومت نے پرامن مظاہرین کو طاقت اور تشدد کا استعمال کرتے ہوئے ہلاک کیا، تو امریکا انہیں بچانے کے لیے آئے گا۔
امریکی صدر نے ساتھ ہی کوئی تفصیلات بتائے بغیر لکھا، ہم تیار اور لیس ہیں اور جانے کے لیے بالکل تیار ہیں۔نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے اپنا یہ بیان ان رپورٹوں کے بعد دیا، جن کے مطابق ایران میں عوامی مظاہروں کے شرکا اور فورسز کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں جمعے کی صبح تک ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر سات ہو چکی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی رد عمل کا اولین اظہار ملکی پارلیمان کے سابق اسپیکر، ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے موجودہ سیکرٹری اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی لاریجانی کی طرف سے کیا گیا۔
لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران میں مظاہروں کو امریکا اور اسرائیل ہوا دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے داخلی مسئلے میں امریکی مداخلت کا مطلب پورے خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی ہوں گے۔امریکی عوام کو علم ہونا چاہیے کہ مہم جوئی ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی تھی۔ انہیں اپنے فوجیوں کی زیادہ بہتر حفاظت کرنا چاہیے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ اگر لوگ خوش نہیں تو ذمہ دار ہم ہیں، امریکا یا کوئی اور نہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں تقریب سے خطاب میں کہا کہ وسائل کا انتظام اور لوگوں کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، عوامی مسائل ہماری ناکامیوں اور ناقص انتظامیہ کا نتیجہ ہیں، حکومت کو عوام کے خدشات دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

