ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے سردی بڑھ گئی، سیاحوں نے ملکہ کوہسار کا رخ کرلیا۔دھند کے باعث حادثات میں6افراد جاں بحق ہوگئے۔گلیات کے پہاڑوں نے بھی سفید چادر اوڑھ لی، لواری ٹنل میں ڈیڑھ سے دو فٹ تک برف پڑ چکی، چترال میں 28 انچ اور استور کے کئی علاقوں میں 2 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، چلاس اور اپر دیر کے پہاڑوں پر بھی سفیدی چھا گئی۔
بٹگرام میں برفباری سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں تیسرے روز بھی برفباری جاری رہی، اڑنگ کیل چیئر لفٹ پر سیاحوں کا رش بڑھ گیا، شدید برفباری کے باعث سیاحتی مقامات کی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔مظفرآباد اور گردونواح میں بوندا باندی ہوئی، بلوچستان میں بھی سردی کی شدید لہر آگئی، زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت منفی چار ڈگری ریکارڈ کیا گیا، اسلام آباد اور راولپنڈی میں وقفے وقفے سے بارش ہوئی۔
لاہور میں آسمان پر بادلوں کا بسیرا رہا، یخ بستہ ہواں سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات کے دوران شدید سردی پڑنے کی توقع ہے۔
پنجاب، خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے میدانی علاقوں میں صبح اور رات کے وقت درمیانی سے شدید دھند چھائے رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا، اسلام آباد، بالائی و وسطی پنجاب، کشمیر اور شمالی بلوچستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری ریکارڈ کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ بارش دیر بالائی میں 28 ملی میٹر اور دیر زیریں میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
کاکول میں 25، بالاکوٹ میں 20، پاراچنار اور چراٹ میں 16، دروش اور تخت بائی میں 12 جبکہ باچا خان ایئرپورٹ پر 11 ملی میٹر بارش ہوئی۔پنجاب میں اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں 21 سے 10 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ ساہیوال میں 8 اور دیگر شہروں میں ہلکی بارش ہوئی۔کشمیر میں گڑھی دوپٹہ میں 21 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ بلوچستان میں سمنگلی اور کوئٹہ میں 4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ برفباری کے حوالے سے مالم جبہ میں 14 انچ، کالام اور مری میں 4 انچ جبکہ زیارت میں 2 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔
مختلف علاقوں میں دھند کا راج ہے، حد نگاہ کم ہونے پر موٹر ویز بھی کئی مقامات سے بند کر دی گئیں۔ترجمان موٹر ویز پولیس کے مطابق موٹر وے ایم ون پشاور سے رشکئی، ایم 2 لاہور سے بالکسر تک بند کر دی گئی ہے، جبکہ موٹر وے ایم 3 لاہور سے ملتان تک ٹریفک کیلئے بند ہے۔ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک جبکہ ایم 5 ملتان سے سکھر اور ایم 11 لاہور سے سیالکوٹ تک بند کر دی گئی ۔اسی طرح قومی شاہراہوں پر بہاولپور، احمد پور شرقیہ، ترنڈہ محمد پناہ، اقبال آباد، رحیم یار خان، دادخیل اور صادق آباد میں دھند ہے، قومی شاہراہوں پر حد نگاہ 0 سے 100 میٹر تک ہے۔
ترجمان موٹر وے پولیس سید عمران احمد کا کہنا ہے کہ موٹرویز کی بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، دھند میں لین کی خلاف ورزی خطرناک حادثات کا باعث ہو سکتی ہے، روڈ یوزرز لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کریں، شہری دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں، دھند میں صبح 10 تا شام 6 تک محفوظ سفری اوقات ہیں۔نواب شاہ مین مہران ہائی وے پر شدید دھند کے باعث ٹریفک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق مہران ہائی وے بوچھیری کے مقام پر حادثہ اس وقت پیش آیا جب دھند کے باعث دونوں گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں۔
حادثے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 2 بچے زخمی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا، جاں بحق افراد کا تعلق نواب شاہ کے نواحی علاقے سے تھا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نوشاہی دربار کے قریب گاڑی کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں 2 موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جن کی شناخت حسنین اور ثاقب کے نام سے ہوئی ہے۔
ایک اور واقع ٹبہ سلطان پور میں رونما ہوا، جہاں ملتان وہاڑی روڈ پر ٹرک کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں ایک موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثہ شدید دھند کے باعث پیش آیا، لاش کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

