اسلام آباد: مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس میں نئی ڈیجیٹل مردم شماری پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ اتحادی حکومت کا مشترکہ مفادات کونسل کا پہلا اجلاس ہوا جس کا ایک نکاتی ایجنڈا مردم شماری تھا۔
سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلی، وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیر نوید قمر ، متعلقہ وزارتوں کے وفاقی سیکریٹریز اجلاس میں شریک ہوئے۔ تاہم وزیراعلی بلوچستان کی پرواز تاخیر کا شکار ہوگئی اور وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
وزارت منصوبہ بندی نے مشترکہ مفادات کونسل میں نئی ڈیجیٹل مردم پر بریفنگ دی اور ڈیجیٹل مردم شماری و خانہ شماری کے نتائج پیش کیے۔
ذرائع کے مطابق شرکا کے درمیان مردم شماری کا اتفاق رائے سے منظوری کا معاملہ طے پاگیا۔
وزیراعلی سندھ نے مردم شماری کی منظوری دیدی اور ایم کیوایم نے مردم شماری کااختیار وزیراعظم کودیدیا۔ اب وزیراعلی بلوچستان کے اجلاس میں پہنچنے کے بعد حتمی منظوری دیدی جائے گی۔ ان کی آمد پر نئی ڈیجیٹل مردم شماری پر فیصلہ ہوگا۔
اگر نتائج کو منظور کرلیا گیا تو پھر نوٹی فکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔ نئی مردم شماری کی منظوری کی صورت میں عام انتخابات میں تین سے چار ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے۔

