Islamabad High Court

اسلام آباد ہائیکورٹ؛ توشہ خانہ کیس کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل

اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل ہوگئے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت میں وقفہ کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ٹرائل روکنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یس دوسری عدالت ٹرانسفر کرنے درخواست پر جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ٹرائل کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتی ، کل ہم نے گواہوں کی لسٹ عدالت میں جمع کرائی اور کہا 24 گھنٹے میں گواہ دستیاب نہیں ہو سکے ، لیکن ایک دن بھی گواہ لانے کے لیے نہیں دیا گیا، ٹرائل کورٹ نے کہا آج گیارہ بجے دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا ، اس سے جج کا تعصب ظاہر ہوتا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی جج سے متعلق ایف آئی اے کی ایک رپورٹ بھی آئی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ جج کے فیس بک اکاؤنٹ سے وہ پوسٹ نہیں ہوئی۔

وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کیا کہ یکطرفہ رپورٹ کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ جس طرح کے آرڈرز ٹرائل کورٹ سے آرہے ہیں یہ جانبداری ظاہر کرتے ہیں، عدالت ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی آگے بڑھانے سے روکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی ایک درخواست ٹرائل کورٹ جج کے تعصب پر ہے، آپ کہتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت سے جج کا تعصب ظاہر ہوتا ہے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے کہ جج پر فیس بُک پوسٹوں کے الزام سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی ہے، کیا جج کو انصاف نہیں چاہئیے ؟ کیا رپورٹ کی بنیاد پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی؟۔

ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل ہونے پر سماعت میں وقفہ کردیا۔

چیف جسٹس نے وکلاء کو ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ کو بتا دیں کہ ہائیکورٹ میں دلائل جاری ہیں۔