اطلاعات کے مطابق دفترِ خارجہ پاکستان نے امریکی سفیر کو طلب کر کے سفارتی سطح پر شدید احتجاج کیا اور امریکی حکومت کی جانب ایک باضابطہ احتجاجی سفارتی مراسلہ حوالے کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں تعینات امریکی سفیر نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اس متنازع علاقے کو بھارت کا حصہ قرار دیا تھا۔
یہ بیان حکومتِ پاکستان کو شدید گراں گزرا کیوں کہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو امریکا بھی قبول کرتا ہے بلکہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر ثالثی کی پیش کش بھی کر چکے ہیں۔ امریکا کی اس اعلان کرد ہ پالیسی کے برخلاف بھارت میں موجود امریکی سفیر کا بیان پاکستان اور امریکا کے درمیان نئی سفارتی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا حکومتِ پاکستان کی طرف سے اس معاملے پر بروقت اور بالکل درست طورپر سفارتی احتجاج کیا گیا ہے۔ سفارتی آداب اور بین الاقوامی تعلقات میں اس نوعیت کے احتجاج کو معمول کے تعلقات کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے ممکن ہے کہ اس معاملے پر کوئی وضاحت جاری کر دی جائے جو اس امر کی نشاندہی ہوگی کہ کشمیر کے حوالے سے امریکی سفارتی پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس موجودہ امریکی قیادت نے بھارت کے متعلق ایک گونہ سفارتی سرد مہری اختیار کر رکھی ہے۔ بھارت کے متعلق یہ رویہ گزشتہ برس مئی میں آپریشن سندور کی ناکامی اور معرکۂ حق میں پاکستان کی واضح فتح کے بعد رونما ہوا اور سرِ دست اس میں کوئی جوہری تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ چنانچہ یہ امریکا سے پاکستان کا سفارتی احتجاج ایک معمول کی سرگرمی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ عالمی صورت حال اور اس سے جڑے علاقائی ماحول میں پاکستان کی جانب سے امریکی سفیر کو احتجاجی مراسلہ سپرد کیے جانے کا ایک معنیٰ یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کے خلاف امریکی سفارتی دباؤ یا پالیسی کو قبول نہیں کرے گا۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معرکۂ حق میں شان دار فتح، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے، امریکا و ایران جنگ بندی میں کلیدی کردار اور اس کے بعد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کامیابی کی بدولت پاکستان عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی کے بنیادی خطوط اس کی مستحکم دفاعی قوت اور جان دار سفارت کاری ہے۔ ان دونوں بنیادوں پر پاکستان نے جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ تک اپنی اہمیت کو تسلیم کروا لیا ہے۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں نئے تزویراتی خطوط قائم کرنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ یہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ اسے عالمی صورت حال پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کار علاقائی تبدیلیوں کی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر کی گئی کوششوں کے نتیجے میں اس وقت اسرائیل کو اپنے پر پھیلانے میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کا وہ بخوبی ادراک کر چکا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے شام پر حملے اور جواب میں ترکیہ کے ہتھیاروں اور فوجی ماہرین کی شام میں آمد کو ایک ہی کھیل کے مختلف پہلو شمار کرنا چاہیے۔ شام کے وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اور پاک، شام ممکنہ دفاعی شراکت بھی اسی معاملے کا حصہ ہے۔ ان حالات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق ترکیہ کے بھاری ہتھیار پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ گویا پاکستان اب اسرائیل نواز، بھارتی پراکسی یعنی افغانستان کی سرزمین پر پنپنے والے دہشت گردوں کو مکافاتِ عمل سے فطری انجام تک پہنچانے کی تیار ی کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اپنے ایجنٹوں کو موت کے گھاٹ اترتا دیکھ کر بھارتی قیادت ایک مرتبہ پھر میدانِ جنگ میں قدم رکھنے کی حماقت کر ہی بیٹھے۔ لیکن وہ براہِ راست جرأت نہ کرے تو بھی صورتِ حال میں کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ فتنۂ خوارج، فتنۂ ہندوستان اور ان کا ساتھ دینے والی داعش یا القاعدہ کو بھی بھارتی و اسرائیلی سہولت کاری کے نتائج بھگتنا ہی ہوں گے۔
اس تما م منظر نامے میں پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا خطرہ مول لینے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔ خو ش آئند امر یہ ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے افواجِ پاکستان کے سربراہ، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے مواصلاتی رابطے کے ذریعے امن اور مذاکرات کے لیے نئی کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ امریکا ہر اس ملک پر بھی اقتصادی و معاشی پابندیاں عائد کر دے گا جوکہ ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے کاروباری، اقتصادی یا معاشی روابط قائم کرے گا۔ یعنی امریکا ایران کی سمندری ناکہ بندی کے بعد اس کے لیے ایک دوسری سطح کی اقتصادی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ اس نئی ناکہ بندی کے مطابق کوئی ملک ایرانی تیل خرید نہیں سکے گا، نہ ہی ایرانی کمپنیوں کو مال فروخت کر سکے گا اور نہ ہی ایرانی تیل یا دیگر مصنوعات کے لیے راستہ، جگہ یا سہولت فراہم کر سکے گا۔ ایرانی مصنوعات کے بدلے دیگر مصنوعات کا تبادلہ بھی ممنوع ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس دھمکی کے دائرے میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کی حامی بھر ر کھی ہے۔ یہ امر بالکل صائب ہے کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ سرِ دست ایسے تجارتی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت نہیں جو اس کے معاشی نقصان کا سبب بن جائیں۔ ایران پہلے موجودہ جنگی حالات سے باہر نکل آئے، آبنائے ہرمز کے معاملے پر وہ علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی بہتر راہ اختیار کر لے اور امریکا و ایران کے مابین امن مذاکرات کامیاب ہو جائیں تو پاکستان بھی ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکے گا۔ فی الوقت پاکستان کو علاقائی صورتِ حال میں اپنی پوزیشن اور ساکھ قائم رکھنے، داخلی امن قائم کرنے اور بھارت اور اسرائیل کی مشترکہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہی وقت کا تقاضا ہے۔
جہاں تک امریکی صدر کی دھمکیوںکا تعلق ہے تو فی الوقت ان کی باتوں کو خود امریکا میں بھی زیادہ سنجیدگی سے نہیں دیکھا جا رہا۔ امریکا کے ایک بڑے حلقے میں یہ تأثر عام ہو چکا ہے کہ امریکی فوجی قوت کو اسرائیلی مفادات سے زیادہ امریکیوں کے تحفظ کے لیے استعمال ہونا چا ہیے اور صدر ٹرمپ کے اقتدار سے رخصت ہو جانے کے بعد یہ تاثر مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی خاطر شاید سخت بیانات جاری کر رہے ہیں لیکن ایسے بیانات سے ایران، امریکی تنازع حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان حالات میں پاکستان کو وہی قدم اٹھانا چاہیے جوکہ ریاست کے طویل مدتی مفادات، اس کے تحفظ اور عوام کی سلامتی کے لیے اہمیت کا حامل ہو۔ ایران کے ساتھ کشیدگی سے گریز، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد اور امریکا کے ساتھ محفوظ تعلقات پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کے حامل امور ہیں۔

