پاک، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ۔ تاریخی پیش رفت

مکہ مکرمہ سے یہ انتہائی مسرور کن اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ معاہدہ پر دستخط کی خصوصی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان شریک تھے۔ تاریخی معاہدے پر تینوں ممالک کے سربراہان نے دستخط کیے۔

علاقائی امن کے لیے یہ معاہدہ اہم ترین پیش رفت قرار دیا جارہاہے جس کے متعلق ترک وزیر ِ خارجہ حاکان فیدان نے قریبا چھ ماہ قبل اشارہ کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق تینوں ریاستوں کے درمیان قریبا ً ایک سال قبل ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر غور و خوض کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ تینوں با اثر اسلامی ممالک کے درمیان طے پانے والے اس دفاعی معاہدے کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں اسرائیل کی جارحیت اور ایران کی جانب سے بالادستی کے عزائم کے اظہار کے بعد امریکی مداخلت جیسے عوامل و اسباب اور موجودہ حالات نے مسلم دنیا کی ان تینوں اہم ترین ریاستوں کومشترکہ دفاع پر آمادہ کردیا ہے۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے اہم ترین ہے کہ اس کی وجہ سے عربوں اور ترکوں کے درمیان جاری قدیم تاریخی رنجشوں کو بھلا دینے کا موقع میسر آگیا ہے۔ عربوں اور ترکوں کا دفاعی اتحاد اور پاکستان جیسی عسکری قوت کی اس میں شمولیت مسلم دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع ہے اور خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد غالبا ً پہلی مرتبہ عالمِ اسلام کے دفاع کے لیے اتنا بڑا مسلم عسکری اتحاد وجود میں آرہاہے۔ یورپ اور امریکا کے دفاعی اتحاد یعنی نیٹو کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے دنیا میں دو اتحادوں کی ضرورت کا احساس گزشتہ کئی دہائیوں سے کیا جارہا تھا۔ عالم ِ اسلام میں ایک مشترکہ دفاعی اتحاد جبکہ اقوامِ زرد یعنی چین، جاپان اور کوریا کی باہمی صف بندی۔ جاپان اور جنوبی کوریا تاریخی اختلافات اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے اقوامِ زرد کے باہمی اتحاد کو بروئے کار نہ لاسکے لیکن صد شکر کہ مسلم ممالک نے بے شمارجزوی اورفروعی اختلافات، جغرافیائی اور لسانی تنازعات اور بیرونی دباؤ کے باجود مشترکہ دفاعی اتحاد کے اہم ترین فیصلے میں کامیاب پیش رفت کی۔ مسلم دنیا کی اہم ترین عسکری قوتوں کے درمیان مشترکہ صف بندی اور دفاعی اتحاد اگرچہ غیر معمولی اقدام ہے لیکن اس کے فطری، منطقی اور نفسیاتی تقاضے ایک عرصے سے بروئے کار آچکے تھے۔ طویل تاریخی پس منظر اور تینوں ریاستوں کودرپیش جغرافیائی چیلنجوں سے قطع نظر صرف ان داخلی عوامل و اسباب ہی کو دیکھ لیا جائے جو بیرونی مداخلت کی وجہ سے ان ریاستوں کو درپیش رہے ہیں تواس کا حل بھی باہمی اتحاد کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ صورت حال کو بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں ہی ریاستوں کو طویل مدت سے پراکسی وار کاسامنا ہے۔ سعودی عرب میں مثالی طرزِ حکومت، بہتر ین نظم و نسق، بے پناہ وسائل، شان دار ملکی ترقی اور اقتصادی استحکام کی وجہ سے داخلی انارکی کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ عوام نے کسی بیرونی مداخلت کار کی تخریبی سوچ پر کان نہیں دھرے اور عرب بہار جیسی تحریکیں سعودی عرب میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ البتہ ایران کی پشت پناہی کی وجہ سے حوثی باغیوں نے طویل عرصے تک سعودی عرب کو پریشانی میں مبتلا رکھا ہے جن کا اب جا کر علاج ہورہاہے۔ ترکیہ کو صرف کرد باغیوں کا سامنا ہی نہیں رہا بلکہ محلاتی سازشوں، بغاوت کی کوششوں اور آزادی اظہار کے نام پر لادین عناصر کی سیاسی یلغار کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن ترکیہ کی مضبوط قیادت آہنی دیوار کی مانند ان تمام سازشوں کے سامنا ڈٹ کر کھڑی رہی۔ اس وقت ترکیہ دنیا میں ایک مضبوط عسکری قوت بن چکاہے۔ اسلحہ سازی کی صنعت میں وہ ایک بڑا نام بنتا جا رہاہے اور اس نے حیر ت انگیز طورپر دفاعی ترقی کی ہے۔ کرد باغیوں کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکاہے۔ ترکیہ نے اپنے پڑوس میں شام کو بشار الاسد کی سفاک حکمرانی سے نجات دلا نے میں انقلابی تحریک کی مدد کی اور ایران کی مداخلت کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی سازشوں کو بھی ناکام بنادیا۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسے اول تو بھارت کی صورت میں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو کہ روزِ اول سے اس کی آزادی کا دشمن ہے۔ بھارت اپنے جغرافیائی، عسکری اور اقتصادی حجم اور آبادی کے بل پر پاکستان کو لقمہ ٔ تر کی مانند نگل جانے کے لیے بے تاب ہے تاہم افواجِ پاکستان اور عوام کے اتحاد، باہمی اعتماد، اپنی آزادی و خود مختاری کے ساتھ اٹوٹ وابستگی اور پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت اور سب سے بڑھ کر خالق ِ کائنات کے فضل و کرم کی بدولت یہ ملک اب تک بھارت کی تمام کوششوں کا جواب دیتا چلا آرہاہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلا ف پراکسی وار کا دائرہ افغانستان تا ایران پھیلا دیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ اس ملک میں سیاسی، مذہبی، لسانی اور قومی اختلافات کو انتشار، افتراق اور ملک کی شکست و ریخت کے عمل میں تبدیل کردے۔ ان ناپاک کاوشوں میں اس وقت افغانستان بھارت اور اسرائیل کا صفِ اول کا اتحادی ہے جہاں سے خود کش حملہ آوروں کے جتھے اور فتنہ ٔ خوارج اور فتنہ ٔ ہندوستان کے کارندے اور اس ملک کی سلامتی پر حملہ آور ہیں۔ ایران اور امریکا کی جنگ میں درپردہ اسرائیل جنگ کو وسعت دینے اور خطے کے ممالک کو باہمی تصادم میں مبتلا کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے۔

یہ وہ خطرات ہیں جن کے مقابلے کے لیے مسلم دنیا کے ان تینوں اہم ترین ممالک کو باہمی دفاعی شراکت میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کی ضرورت تھی اور صد شکر کہ اس اہم ترین ملی تقاضے کی تکمیل کی جانب پیش رفت ممکن ہورہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا باہمی اتحاد جہاں مسلم دنیا میں اعتماد اور مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے یقین کی قوت کا سبب بنے گا وہاں یہ پیش رفت مسلم نوجوانوں کے عزم وہمت، جستجو اور حوصلوں کے لیے بھی مہمیز کا کام کرے گی۔ مسلم دنیا کے نوجوانوں کو عالم اسلام کے باہمی اتحاد، عسکری قوت میں اضافے، دفاعی اور اقتصادی تقاضوںکی تکمیل اور عالم ِ اسلام اور حرمین شریفین کے تحفظ کی خاطر اپنے کردار کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ پاکستان نے موجود حالات میں عالم ِ اسلام کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ کوششیں کی ہیں۔ امید ہے کہ ان کاوشوں کے اثرات پاکستان کی داخلی صورت ِ حال میں بہتری کی صورت میں ظا ہر ہوںگے۔ پاکستان نے مسلم دنیا کے باہمی اتحاد کو یقینی بناکر بیرونی دباؤ کا سدِ باب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ اس کے بہت اچھے نتائج جلد ظاہر ہوں گے۔