دہشت گردی کیخلاف جنگ، مضبوط نظام بھی ضروری

آپریشن رد الفتنہ 3 کے تحت بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد جہنم واصل کردیے گئے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقوں کمبیلہ اور عاصم آباد میں آپریشن رد الفتنہ 3 کے دوران فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے کیپٹن حمزہ شہید ہوگئے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ بلوچستان کے علاقوں کمبیلہ اور عاصم آباد میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد ہلاک، 2 کی لاشیں برآمد جبکہ 4 دہشت گرد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے 27 سالہ کیپٹن حمزہ شہید ہوگئے۔ کیپٹن حمزہ کا تعلق نارووال سے تھا اور وہ اپنے دستے کی قیادت کرتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کر رہے تھے۔دہشت گردی اس وقت پاکستان کیلئے ایک انتہائی سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں نے امن و امان کی صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ریاست کو دھمکیاں دینا اور بڑے بڑے دعوے کرنا محض بیان بازی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ گزشتہ دنوں خارجی گروہ کے سربراہ نور ولی کی جانب سے ریاست کو ایک سال کی مہلت دی گئی اور کہا گیا کہ اس کے بعد قبائلی علاقوں پر ان کا کنٹرول قائم ہوجائے گا۔ بلاشبہ اس قسم کی دھمکیاں نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہوتی ہیں، جن کا مقصد عوام کے حوصلے پست کرنا اور ریاستی اداروں کے بارے میں شکوک پیدا کرنا ہوتا ہے، لیکن ان کے پس منظر میں موجود حقیقی خطرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاک فوج اور دیگر سیکورٹی ادارے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہمارے جوان اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اپنی جانیں قربان کرکے قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قوم ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف فوجی کارروائیوں سے مکمل طور پر نہیں جیتی جا سکتی۔

اگر کسی شورش کے پیچھے کوئی نظریاتی بیانیہ موجود ہو، اگر اسے کسی سطح پر عوامی ہمدردی یا سماجی قبولیت میسر ہو اور اگر ریاستی نظام عوام کو بنیادی سہولیات، انصاف، روزگار اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو تو مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، جس کی طرف گزشتہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اشارہ کیا اور اس کے بعد ملک میں سسٹم کی ناکامی پر وسیع پیمانے پر بحث کا آغاز ہوا۔ یہ وہ پہلو ہے جس پر حکومت کو سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فورسز اپنا فرض پوری جانفشانی سے ادا کر رہی ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک مؤثر، شفاف اور عوام دوست نظامِ حکومت بھی ہونا چاہیے۔ کمزور گورننس، بدعنوانی، ادارہ جاتی ناکارگی، انصاف میں تاخیر اور پولیسنگ کے ناقص نظام جیسے مسائل عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ اسی خلا کو شرپسند عناصر اپنے بیانیے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لیے دہشت گردی کیخلاف قومی حکمت عملی میں فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی، انتظامی، معاشی اور سماجی اقدامات بھی شامل ہونا ضروری ہیں۔ ان حالات کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو دہشت گردی کو پنپنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے نظام میں بنیادی اصلاحات لائی جائیں۔ پولیس کو جدید، پیشہ ور اور عوام دوست بنایا جائے، کرپشن کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، عدالتی نظام میں اصلاحات کی جائیں، بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات دیے جائیں اور دور دراز علاقوں کے عوام کو ریاستی نظام میں مؤثر نمائندگی اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ریاست کو جامع پالیسی کی ضرورت ہے، امن صرف بندوق سے قائم نہیں ہوتا، مضبوط ریاستی ادارے، بہتر گورننس، انصاف، تعلیم، روزگار اور عوام کا ریاست پر اعتماد بھی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں۔پاک فوج کے جوان آج سرحدوں اور محاذوں پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ یہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان قربانیوں کو ایک ایسے مضبوط نظام میں تبدیل کرے جہاں دہشت گردی کیلئے نہ جگہ باقی رہے اور نہ ہی عوام میں اس کیلئے کوئی ہمدردی یا قبولیت پیدا ہو سکے۔ یہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی تقاضا اور پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

روزانہ قیمتوں کے تعین کا فارمولا بدلنا ہوگا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ بنیادوں پر تبدیلی پاکستان جیسے پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ملک میں انتہائی احمقانہ عمل ہے۔ ایک ایسی معیشت جہاں کاروباری طبقہ پہلے ہی غیر یقینی، مہنگائی، بلند اخراجات اور کمزور قوتِ خرید سے دوچار ہے، وہاں روزانہ پٹرول کی قیمت تبدیل کرنا معاشی استحکام کی بجائے مزید بے یقینی پیدا کرے گا۔ جب پٹرول کی قیمت روزانہ تبدیل ہوگی تو کوئی صنعت کار، تاجر، ٹرانسپورٹر یا عام صارف اپنے اخراجات کا قابلِ اعتماد اندازہ کیسے لگا سکے گا؟ قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کاروباری منصوبہ بندی کو مشکل اور مارکیٹ میں بے یقینی کو مزید بڑھا دے گی۔ اس وقت آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی حمایت اور دوسری طرف گڈز ٹرانسپورٹرز کی غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ پٹرول پمپ مالکان اور ٹرانسپورٹرز پہلے ہی سراپا احتجاج ہیں، ایسے میں اگر ہڑتال طویل ہوگئی تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر، سپلائی چین میں خلل اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ ملک اس وقت معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کیلئے اعتماد کے ماحول کا محتاج ہے، مگر یومیہ قیمتوں کی تبدیلی اور احتجاج و ہڑتالوں کا سلسلہ معاملات کو مزید پیچیدہ کرے گا۔ حکومت کو ضد کی بجائے اسٹیک ہولڈرز سے سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں اور ایسا قابلِ عمل نظام تشکیل دینا چاہیے جس میں عالمی قیمتوں کا اثر بھی منتقل ہو، مگر کاروبار اور عوام کو مسلسل غیر یقینی کا شکار نہ ہونا پڑے۔