ملک بھر میں80 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا،دن کا آغاز نماز فجر میں ملکی ترقی، یکجہتی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا ئوں کے ساتھ ہوا،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21توپوں کی سلامی دی گئی ، فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی،ملک بھر میں عام تعطیل رہی، سول و عسکری قیادت نے یومِ آزادی کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ جس بھی شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔یوم آزادی کے موقع پر ڈویژنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر پرچم کشائی کی تقریبات منعقد گئیں۔ شہر شہر وطن کی محبت میں ریلیاں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ جہاں مقررین نے تحریک پاکستان کے جانثاروں کی لازوال قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
جشن آزادی کے موقع پر پوری قوم بالخصوص نوجوان نسل کی جانب سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ محبت کا والہانہ اظہار اس بات کی علامت ہے کہ تمام تر مسائل و مشکلات اور ریاست پاکستان سے ہر طرح کی شکایات اور تحفظات کے باوجودپاکستانی عوام کا ہر پیرو جوان پاکستان سے وفادار اور ملک کی بقا،ترقی ،امن اور استحکام کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی بسااوقات طبائع ،ترجیحات،آراء اور مفادات کا اختلاف ہوجاتا ہے مگر گھر تو بہر حال سب کا مشترکہ ہوتا ہے۔وطن عزیز پاکستان بھی یہاں رہنے والے چوبیس کروڑ سے زائد نفوس کا گھر ہے اور بحیثیت قوم ہمیں اپنے اس گھر سے پیار بھی ہے اور اس کی حفاظت،تعمیر ،تزئین اور ترقی کا جذبہ بھی ہمارے دلوں میں موجزن ہے۔جب تک یہ جذبہ اور عزم قائم ہے، پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ان شاء اللہ دنیا میں پوری آن بان اور شان کے ساتھ لہراتا رہے گا اور پاکستان کے بد خواہ عناصر خواہ وہ بیرونی دنیا سے تعلق رکھتے ہوں یا اندرونی دشمن کا روپ اختیار کرچکے ہوں گے خائب و خاسر ہوں گے۔
اس وقت ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم وطن عزیز پاکستان سے محبت و وفاداری کے اپنے جذبے کو نہ صرف یہ کہ سلامت رکھیں بلکہ اسے ایک ایسے ٹھوس عملی کردار میں بدلنے کی کوشش کریں جو ہمارے ملک کو درپیش چیلنجوں اور خطرات کے مقابلے میں سد سکندری کی طرح نظر آئے اور جس کی پشت پر اعلیٰ بصیرت،اولو العزمی اورمومنانہ فراست کی طاقت کھڑی ہو۔ہمیں بیرونی چیلنجوں اور بین الاقوامی سازشوں کا بہتر ادراک اور سدباب کرنے کے ساتھ ساتھ ان اندرونی مشکلات اور خرابیوں کی بھی اصلاح کی فکر کرنی ہے جو ہمارے اجتماعی وجود کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ان میں سے ایک بڑا چیلنج غلط معلومات، منفی پروپیگنڈا اور جھوٹ،افترا اور بہتان پر مبنی خبروں کی اشاعت ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں ذہنی انتشار اور فکری خلفشار بڑھ رہا ہے۔ رائے کی آزادی جو جمہوریت کے لوازم میں سے ہے اور جدید سماجی علوم کے مطابق پوری دنیا میںاسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا گیاہے، اخلاقی پابندیوں سے آزاد اور بے لگام ہوکر ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ جدیدذرائعِ ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا کی وجہ سے سماج میںہمہ دانی کا فریبِ نفس سر چڑھ کر بول رہاہے۔ لوگ ان مسائل اور معاملات میں بھی کھل کر اظہارِ خیال کر رہے ہیں جو ان سے قطعی غیر متعلق ہیں اورجن کے بارے میں انھیں بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔اپنی اصلاح سے غفلت اور بے نیازی کی وجہ سے اخلاقی مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں۔ جھوٹ،بہتان ، توہین اور تمسخر نے عمومی معاشرتی رویے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ بے بنیاد اطلاعات کی وجہ سے سماج کے مختلف طبقات کے درمیان تنازعات پیدا ہورہے ہیں۔ اصلاحِ احوال کیلئے خود احتسابی کے شعور کواجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔مطلق رائے کی آزادی کی بجائے انسانوں کی ضرورت بامقصد مکالمہ ہے۔ بے مقصداور لایعنی مباحث،فضول مناظرے اور نعرہ بازی کی سیاست انسانوں کے درمیان تنازعات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ بامقصد مکالمے کو رائج کرنا اہم ہے جو اس وقت معاشرے سے عنقا ہوتا جا رہاہے لیکن اس کیلئے نظام تعلیم، ابلاغ اور دیگر سماجی شعبوں میںبڑے پیمانے پر اصلاحات درکارہوں گی۔
اگر پاکستان میں موجود سیاسی انارکی، فتنہ و فساد اور لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے سماجی فاصلوں، دوریوں اور عدمِ برداشت کے ماحول کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ سماج میں موجود شر انگیزی میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا اہم کردار ہے ۔ اس وقت سوشل میڈیا کی مقبولیت مین اسٹریم میڈیا سے بڑھ چکی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد معلومات کیلئے صرف سوشل میڈیا پر انحصار کررہی ہے، چنانچہ بعض حلقوں کا یہ خیال بالکلیہ غلط نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے اور اس کے بے لگام استعمال پر قدغنیں عائد کرناضروری ہے تاکہ نئی نسل کو اخلاقی بے راہ روی،فکری انتشار اور سطحی معلومات کا عادی ہونے سے بچایا جاسکے۔اطلاعات کے مطابق متعدد یورپی ممالک میں نئی نسل بالخصوص بچوں کو سوشل میڈیا سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچانے کے لیے قانون سازی ہورہی ہے۔ ہماری نوجوان ہوتی نسل کو بھی ملک و قوم کے مقاصد، اس کے تحفظ کیلئے پاک فوج سمیت عوام کی قربانیوں اور فتنة الخوارج سمیت تمام سیاسی شرور سے بچانے کیلئے خصوصی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں شورشیں برپا ہیں۔ مختلف مسلح گروہ پاکستان کیخلاف جنگ چھیڑنے کیلئے تیار ہیں اوروہ بیرونی امداد اور عالمی قوتوں کے اشارے پر پاکستان کی جغرافیائی تشکیل کو بدلنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کا منظم استعمال کیا جارہا ہے۔لہٰذا اس صورتحا ل میں ضروری ہے کہ پوری قوم متحدہو کر اپنے وطن کے تحفظ کیلئے کمر بستہ ہوجائے۔ حکومت، فوج، سیاسی وآئینی ادارے، بیورو کریسی، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قوم کے دیگر طبقات کو قومی مقاصد کو بروئے کار لانے کیلئے یک جان ہوجانا چاہیے۔ اپنے اپنے مفادات کے خول سے باہر آکر اور گروہی اور دھڑے بندی کی سیاست سے اجتناب کرکے ہمیں اب وطن عزیز پاکستان کے امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہیے۔ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بناکر ہی ہم اپنی موجودہ مشکلات سے نکل سکتے ہیں اور اسلام کی عادلانہ تعلیمات کے مطابق تمام اہل وطن کو ان کے جائز حقوق دینے سے ہی پاکستان ترقی و استحکام کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

