دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی بطور یوم سیاہ منایا، دنیا بھر میں جموں و کشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، بھارت نے 79 برسوں میں 5 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا۔کشمیر میڈیا سیل کے مطابق بھارتی انتظامیہ کی جانب سے بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ علاقے میں پابندیاں بڑھا دی گئیں، سری نگر اور دیگر قصبوں میں حساس مقامات پر بھارتی فوجی، پیرا ملٹری اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔مشرقی پنجاب میں سکھ برادری اور ناگالینڈ، آسام و منی پور میں بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ اور احتجاج کی اپیلیں سامنے آئیں، مختلف گروہوں کی جانب سے بھارتی ریاستی پالیسیوں کے خلاف 15 اگست کو احتجاج اور یومِ سیاہ منایا گیا۔
بھارت ہر سال 15 اگست کو اپنا یومِ آزادی مناتا ہے اور ساتھ ہی بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ہر سال کی طرح اس بار بھی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر سرحد کے آر پار اور دنیا کے مختلف حصوں میں مقیم کشمیریوں، سکھوں اور بعض دیگر خطوں کے بھارت سے متنفر عوام کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں اور یومِ سیاہ منانا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کا جمہوریت اور سیکولر ازم کا دعویٰ باطل اور جھوٹ ہے۔ یہ احتجاج دراصل ان طبقات کے احساسات کی عکاسی کرتے ہیں جو بھارتی ریاستی پالیسیوں، حقوقِ انسانی کے مسائل اور سیاسی محرومیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر کا مسئلہ تقسیمِ ہند کے وقت سے جنوبی ایشیا کا ایک پیچیدہ تنازع چلا آ رہا ہے۔ اس کے اوپر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی باقاعدہ جنگیں اور بے شمار خونین جھڑپیں تک ہوچکی ہیں۔ آج 79 سال بعد بھی یہ مسئلہ جوں کا توں ہے اور جھگڑا بدستور موجود ہے۔ کشمیری عوام اور ان کی نیابت میں پاکستان آج بھی اسے تقسیم ہند کا نامکمل باب مانتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق اپنے ایجنڈے پر موجود اس سب سے پرانے قضیے کو کشمیری عوام کی امنگوں اور جذبات کے مطابق حل کرنے پر توجہ دے کر اپنا فرض ادا کرے، ورنہ اقوام متحدہ کے کردار اور وجود کی عملی افادیت پر یہ مسئلہ ایک سوال کی طرح موجود رہے گا۔
دوسری جانب بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اپنے زیر قبضہ کشمیر کے حصے پر اپنی آئینی و انتظامی پالیسیوں کو ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے تناظر میں پیش کرتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دہائیوں سے جاری کشیدگی، اب تک بھارت کے ہاتھوں پانچ لاکھ کشمیریوں کی شہادتوں اور مسئلہ کشمیر کو دبانے کے حربوں کے باوجود نے یہ مسئلہ عالمی سطح پر آج بھی ایک اہم موضوع کے طور پر زندہ ہے۔ بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر کشمیر کے مختلف علاقوں میں سخت سکیورٹی انتظامات اور پابندیاں ایک معمول بن چکی ہیں۔ بھاری نفری کی تعیناتی، چیک پوسٹوں میں اضافہ اور نگرانی کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران موجود ہے، جس پر بھارت ہمیشہ پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، مگر اس کے یہ اقدامات خود حقیقت کا پردہ چاک کردیتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوامی اعتماد، سیاسی شمولیت اور بنیادی حقوق کا تحفظ بنیادی اہمت رکھتے ہیں، مگر بھارت میں دیکھا جائے تو منظر کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ بات صرف کشمیر تک محدود نہیں، کشمیر کے علاوہ بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی ہندو نسلی برتری کی ریاستی پالیسیوں کیخلاف عدم اعتماد کی گہری بنیاد موجود ہے اور اس حوالے سے بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر احتجاج اور بائیکاٹ کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ سکھ برادری اسی تناظر میں بھارت سے نالاں ہے اور ہندوتوائی برتری کی بھارتی پالیسیوں کے مقابلے میں خالصتان کی آواز بلند کرتی ہے، جو اس وقت تک ان کا حق ہے، جب تک وہ کسی بھی صورت حال کے تئیں مطمئن نہیں ہوجاتے۔ اسی طرح بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں، جن میں ناگالینڈ، منی پور اور میزورام شامل ہیں، میں بھی الگ شناخت، اپنی خودمختاری اور سیاسی حقوق کے معاملات پرباغیانی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جو بھارتی فیڈریشن سے بیزاری کا مظہر ہیں۔
یہ تمام عوامل ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ کسی ”بڑی جمہوریت” کا اصل معیار کیا ہے؟ صرف انتخابات کا انعقاد جمہوریت کی مکمل علامت نہیں ہوتا بلکہ جمہوریت کا حقیقی امتحان اقلیتوں کے حقوق، اختلافِ رائے کے احترام، آزادی اظہار، انصاف کی فراہمی اور ریاستی اداروں کے غیر جانبدارانہ کردار سے ہوتا ہے۔ بھارت کے بارے میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف بین الاقوامی ادارے وقتاً فوقتاً مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں بھی بھارت میں امتیازی سلوک، اقلیتوں کے تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسی طرح امریکی مذہبی آزادی رپورٹس میں بھی بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر بحث کی جاتی رہی ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں، سکھوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا بھارت کا سیکولر آئینی تصور عملی میدان میں بھی اسی طرح برقرار ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ ہندوتوا سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھارت کے سیکولر تشخص کو متاثر کیا ہے۔ موجودہ مودی سرکار باقاعدہ آر ایس ایس کے کاز کیلئے کام کر رہی ہے، جس کا مقصد بھارت کی سیکولر شناخت ختم کرکے اسے ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ بدترین امتیازی سلوک اسی مقصد کے تحت روا رکھا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت کے ذریعے طویل عرصے تک استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔ دیرپا امن کیلئے انصاف، سیاسی مکالمہ، عوامی اعتماد اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام ضروری ہے۔ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں امن صرف عسکری اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی حل، انسانی حقوق کے تحفظ اور باہمی اعتماد کے فروغ سے ممکن ہے۔ مودی سرکار آر ایس ایس کے گھناؤنے ایجنڈے کے مطابق پہلے مرحلے میں بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی احمقانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ اس کے بعد کا مرحلہ اکھنڈ بھارت ہے، جس کا مقصد پورے جنوبی ایشیا کو ہندو ریاست میں بدلنا ہے۔ یہ سوچ فعلا و عملاً کس قدر قابل عمل ہے، اس سے قطع نظر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کس قدر احمقانہ اور پرتشدد ہے۔ دنیا کو بھارت کے اس ”اندروں چنگیز سے تاریک تر” میں جھانک کر ضروری اقدامات کی طرف ٹھوس توجہ دینا ہوگی۔

