امریکا، ایران جنگ بندی کا امکان

اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کے امکانات نمایاں ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے۔ دوست ممالک کے اصرار پر انھوں نے ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اعلان کے مطابق ایران پر حملہ کرتا تو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ کسی ملک پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہوتا۔ امریکی صدر کے مطابق سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران کی درخواست پر حملہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس ضمن میں پاکستان اور ترکیہ نے بھی کردار ادا کیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے جائیں گے۔ ان مذاکرات کا آغاز آ ج سے ہی ہوگا۔ آبنائے ہرمز پر معاہدہ موجود ہے جبکہ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی صدر نے دھمکی دی کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو پہلے سے زیادہ بڑے حملوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

متعدد ذرائع اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ایران پر امریکا کا مجوزہ حملہ منسوخ کیے جانے میں مسلم ریاستوں کا اہم کردار ہے۔ قبل ازیں عالمی ذرائعِ ابلاغ میں بیان کردہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملوں کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جس میں امریکا اپنی بھرپور قوت استعمال کرے گا۔ تجزیہ کاروں نے ان اطلاعات کو غیر معقول قراردیا تھا کہ اسلحہ میں کمی کی وجہ سے امریکی افواج ایران کے خلاف کارروائی کے حق میں نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی دفاعی صنعت اس وقت بھی اسلحہ سازی میں اولین درجے پر فائز ہے جو کہ مسلسل اسلحہ تیارکرتی رہتی ہے لہذا گولہ بارو د کے امریکی ذخائر کی قلت میں کوئی صداقت نہیں۔ ایران پر حملوں سے گریز کی بنیادی وجہ مسلم ریاستوں کے مابین جنگ کی بجائے سفارت کاری سے مسئلے کے حل پر اتفاق ہے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحا ن اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان مواصلاتی رابطے پر ہونے والی بات چیت میں بھی جنگ کی بجائے سفارت کاری پر زور دیا گیا اور اتفاق کیا گیا معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ایرانی صدر مسعود پزیکشیان نے ایک بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر ایرانی سپریم کونسل کے تمام ممبران نے اتفاق کیا تھا جس کے بعداسی کے تحت بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران پر امریکا کا مجوزہ حملہ منسوخ ہوتے ہی تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اس بات کی تائید ہے کہ ایران پر مسلط بڑی جنگ ٹل چکی ہے اور اس میں بنیادی کردار انہی مسلم ریاستوں نے ادا کیا ہے جنھیں ایران کی جانب سے مسلسل حملوں یا تکالیف کا سامنا رہاہے۔ مذکورہ اطلاعات سے اس امر کی تائید بھی ہوتی ہے کہ نئی جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے آغاز میں بنیادی طورپر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کارفرما ہے۔ گو کہ ایران کے رویے کی وجہ سے پاکستان کی امن کوششوں کو خاصا دھچکا لگا اور امریکا، ایران جنگ بندی فوری طورپر ممکن نہ ہوسکی لیکن اس تمام تنازع میں امن کا یہی ایک راستہ باقی رہا تھا۔ ایرانی قیادت کی قلابازیوں اور ریاستوں کے درمیان معاملات میں غیر ریاستی قوتوںکی مداخلت کی وجہ سے جنگ کا دائرہ وسیع ہوا۔ ایران نے سعودی عرب کے خلاف اپنی پراکسی یعنی حوثی باغیوں کو متحرک کردیا۔ عراق سے حشد الشعبی ریاستی چھتری ملنے کے باجود ایرانی پراکسی کے طورپر سعودی عرب کو چیلنج کرنے لگے جس سے ظاہر ہوا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ان کی دیگر پراکسی گروہ اس مسئلے کے پر امن حل میں مسلسل رکاوٹ ہی رہیں گے لہذا مجبور ہوکر سعودی عرب نے شاید پہلی مرتبہ جارحانہ اقدام کا سلسلہ شروع کیا۔ سعودی عرب کی فضائی قوت نے جہاں حشد الشعبی کو اس کی کھال میں سمٹنے کا پیغام دیا وہاں حوثی فتنے کا سر کچلنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ یمن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سعودی فضائیہ کی پشت پناہی میں اس وقت یمن کے قبائل اور یمنی فوج کو مسلسل کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔ دار الحکومت صنعاء پر سرکاری افواج غلبہ حاصل کرنے والی ہیں اور حوثی باغیوں کی گرفتاریوں اور میدانِ جنگ سے فرار کا سلسلہ جاری ہے۔ خطے کے منظر نامے پر نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال بھی یہی تھا کہ مسلم ریاستوں کے مابین پراکسی وار اور غیر ریاستوں گروہوں اور پرتشدد جتھوں کے خاتمے پر غالبا ً اتفاق ِ رائے ہوچکاہے۔ چناں چہ ایک طرف سعودی عرب اور ترکیہ بشمول پاکستان، حوثی باغیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب انھوں نے امریکا پر زورد یا ہے کہ وہ ایران کے خلاف حملے سے گریز کرے۔ یہ ایک صائب حکمتِ عملی ہے کہ ریاستوں کو اپنے معاملات ریاستوں کے ساتھ ہی طے کرنے دیے جائیں اور غیر ریاستی قوتوں کو عالمِ اسلام میں مزید انتشار، فتنہ ٔ و فساد اور جنگ پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ غیر ریاستی قوتوں اور گروہوں کی اجارہ داری کا سب سے بڑا نقصا ن یہی ہے کہ ان کے ساتھ کوئی بات طے نہیں ہوسکتی۔ ان گروہوں کے درمیان باہمی تنازعات، اقتدار کی رسہ کشی، دولت او رطاقت کے حصول اور اپنی ہی صفوں میں موجود دیگر طاقتوں کے ہرکارکوں کی کارروائیوں کی وجہ سے کوئی بھی ریاست ان پر مکمل اعتماد کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی خود کو ایک غیر ریاستی طاقت کے طورپر پیش کیا ہے جس کی صفوں میں صہیونی ایجنٹوں کی موجودگی شواہد کے درجے میں واقعی پائی جاتی ہے ورنہ ایران کو اپنی قیادت سمیت مسلم ممالک کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے انحراف جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

وطن عزیر پاکستان کو بھی پراکسی وار اور غیر ریاستی جتھوں کی وجہ سے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، فتنہ ٔ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی جانب سے پھیلائی گئی انارکی اور تخریب کاری، خود کش حملے اور عام شہریوں کے قتلِ عام میں یہی فسادی گروہ شریک ہیں جو کہ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی پشت پناہی کی وجہ سے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ کشمیر میں شہریوں کے حقوق کے نام پر ریاست کو یرغمال بنانے والی کشمیر ایکشن کمیٹی کے حوالے سے بھی بیرونی فنڈنگ، غیر ملکی تعاون سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم او رکشمیریوں کو ورغلانے کے لیے سازشی حربوں کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتا ہے اور نہ ہی وہ مسلم ریاستوں میں استحکام کو برداشت کرسکتا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اس کا خصوصی ہدف ہیں جن کے خلاف ایران اور افغانستان دونوں ہی استعمال ہورہے ہیں او ربنیادی طورپر یہ کام غیر ریاستی گروہوں سے لیا جارہاہے۔ اس ضمن میں مسلم ریاستوں نے باہمی اتفاق اور شرپسند گروہوں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرکے دانائی کا ثبوت فراہم کیاہے جس کا نتیجہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ توقع ہے کہ پراکسی گروہوں کے کمزور ہوجانے کے بعد ایرانی قیادت کے لیے مذاکراتی عمل میں شرکت آسان ہوجائے گی۔