واشنگٹن/تہران/لندن:امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز آج مکمل طور پر کھل جائے گی جبکہ ایران کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ دستاویز پر دستخط کردے۔
وائٹ ہائو س میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاملہ جلد کسی ایک طرف ہوجائے گا۔ یہ کوئی پیچیدہ چیز نہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلنا پہلا مرحلہ ہے، دوسرے مرحلے میں نیوکلیئر ایشو پر بات ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس بات پر واضح ہے کہ ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی فیس نہیں ہوگی۔ اگر کوئی اور چارج کرے گا تو امریکا بھی چارج کریگا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ علاوہ ازیں ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر بات چیت کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے۔ ایران ڈیل پر رضا مند نہ ہوا تو اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو تباہ کن ضرب لگانے سے قبل آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو حد درجہ دھوکے باز قرار دیتے ہوئے تہران پر اپنے موقف میں تضاد کا الزام عائد کیا ہے جہاں وہ ایک طرف مذاکرات کے لیے منتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ایران کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں یا تو وہ کسی معاہدے پر پہنچے یا مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا یا مکمل تسلیم و رضا حاصل نہیں ہو جاتی، ایران کو کچھ حاصل نہیں ہوگا اور جب تک ہم نہ چاہیں اس تک کچھ نہیں پہنچ سکے گا۔
ادھرامریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز پر بحری آمد و رفت کی بحالی کے حوالے سے معاہدہ ممکنہ طور پرآج طے پا سکتا ہے۔ سکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے توانائی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچ جائیں اور اس تنازع میں زیادہ معمول کی صورتحال کی جانب بڑھیں۔
دریں اثناء ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر میجر جنرل محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے رستہ کی اجازت نہیں دے گا۔ ایران اپنے موقف پر قائم ہے کہ ہرمز امریکا کی شرائط پر دوبارہ نہیں کھلے گی۔
ایک انٹرویو میں محسن رضاعی نے کہا کہ اگر جنگی جہاز بھی لایا گیا تو اسے بھی تباہ کردیا جائے گا۔ اگر امریکا نے فوج اتاری تو وہ بھی نشانہ ہوگی۔
دوسری جانب ایران میں مجلس خبرگان رہبری کی صدارتی کمیٹی نے ایک بیان میں ملک کے تمام عہدیداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب موقف اور ہدایات پر عملی طور پر مکمل کاربند رہیں۔بیان میں واضح کیا گیا کہ امریکا پر اعتماد اور واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا بلا سود اور بے مقصد ہے۔
علاوہ ازیںآبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑدیا گیا ۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی کے ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ جہاز نے اطلاع دی کہ اسے ایک نامعلوم پروجیکٹائل آ کر لگا۔ایجنسی نے علاقے میں موجود تمام جہازوں کو احتیاط سے سفر کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ فوجی دستوں سے مکمل رابطہ ہے، استعفیٰ نہیں دوں گا اور ڈٹا رہوں گا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ نے صدر مسعود پزشکیان کے ایک ویڈیو بیان کے حصے نشر کیے ہیں جن میں ایران کے صدر کہتے ہیں کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا اور ڈٹا رہوں گا۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم فوجی دستوں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔
ادھرایرانی مذہبی رہنما محمد باقر خرازی جو مجتبیٰ خامنہ ای کے خاندان سے رشتہ داری رکھتے ہیں کے ایک بیان نے ایران کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خرازی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی اقتدار کے ایوانوں میں اختلافات موجود ہیں اور صدر مسعود پزشکیان اپنے منصب سنبھالنے کے بعد اب تک 28 مرتبہ استعفیٰ دے چکے ہیں یا استعفیٰ دینے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
ان کے مطابق سپریم لیڈر نے صدر پزشکیان کو واضح اور سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ آئندہ ایسی دھمکیوں سے گریز کریں۔محمد باقر خرازی نے اقتدار کے اہم مراکز میں ممکنہ ردوبدل کا بھی دعویٰ کیا۔
خرازی نے دعویٰ کیا کہ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی آئندہ مذاکراتی عمل سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

