اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران یکایک جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر کے حکم سے ایران پر حملے فوری طورپر بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے بھی ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے پاکستان کو پیغام ارسال کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر نے جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عرب اتحادیوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ جنگ کی وجہ سے امریکا سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جنگ بندی کی ایک وجہ امریکی افواج کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ بھی بتائی جا رہی ہے جس میں دستیاب اسلحے کے ذخائر میں قلت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق جنگ بندی کی جانب پیش رفت میں پاکستان اور دیگر ممالک کا پس پردہ کردار بھی شامل ہے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کا اچانک اعلا ن ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی افواج ترکیہ اور پاکستان کی مدد سے اس وقت حوثی باغیوںکے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں۔ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی معاہدے کی پیش رفت سامنے آتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عرب اتحادیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے فاصلوں کی فکر دامن گیر ہونا، سیاسی و سفارتی اعتبار سے اہم معاملہ ہے۔ قبل ازیں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان وضاحت کر چکے ہیں کہ مملکت کے تحفظ اور دفاع کے لیے سعودی عرب صرف امریکا پر انحصار نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ یہ امریکا کے لیے واضح اشارہ ہے۔ امریکا کسی بھی صورت مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں اپنے اثر ورسوخ میں کمی کو قبول نہیں کر سکتا۔ اس خطے سے توانائی اور تیل کی عالمی تجارت اور ڈالر کا استحکام وابستہ ہے۔ علاقائی سطح پر طاقت کے توازن کو امریکا اپنے حق میں رکھنا چاہتا ہے اور یہی ایران کی بھی سوچ ہے جس کی خاطر ایران نے متعدد بالواسطہ جنگیں لڑی ہیں اور اپنے زرخرید اور نظریاتی لحاظ سے شریک گروہوں کو تنظیموں اور تحریکوں کی شکل میں علاقائی ممالک کے لیے دردِ سر کے طور پر قائم رکھا ہوا ہے۔ عرب ریاستوں نے ایران اور اسرائیل کے خطرے کے پیشِ نظر ہی امریکا کو بے پناہ مراعات کے ساتھ خطے میں اڈے دے رکھے ہیں۔ گو کہ اس کا ایک بڑا سبب کویت پر عراق کی جارحیت تھی لیکن بعد ازاں ایران اس سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ گویا خطے میں بالادستی اور اجارہ داری کے حوالے سے امریکا اور ایران بالمقابل بھی ہیں لیکن دونوں ہی ریاستوں کو اپنے حریف کی موجودگی سے فائدے بھی حاصل ہیں۔ ان حالات میں ایک تیسری ریاست اگر عرب ممالک کے لیے دفاع کا ذریعہ ثابت ہو جائے تو جہاں امریکی افادیت کم ہو جائے گی وہاں ایران کی علاقائی توسیع پسندی بھی تھم جائے گی۔
موجودہ منظرنامے میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس وقت ایران کا رخ اسرائیل سے زیادہ عرب ریاستوں کی جانب ہے اور جنگ کا دائرہ وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے میں سعودی عرب یا کویت جیسے ممالک کے لیے امریکا پر انحصار کی کوئی منطقی وجہ باقی نہیں رہتی۔ دوسری جانب خود ایران بھی پچھلے قدموں پر جانے پر مجبور ہو چکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہی ترکیہ بھی سعودی عرب کے ہمراہ دکھائی دے رہا ہے۔ حوثی باغیوں کے ٹھکانوں، اسلحہ کے مراکز، گشت کرتی گاڑیوں اور قافلوں پر درست نشانوں نے آرمینیا اور شام کے قصاب بشار الاسد کی شکست کے مناظر تازہ کر دیے ہیں۔ ایران کو واضح طورپر محسوس ہو چکا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے گا تو اس ایرانی پراکسی کے لیے قدم جمانا ممکن نہیں رہے گا۔ حوثیوں کے خلاف جنگ میں ترکیہ اور پاکستان کی شمولیت یمن کے سنی قبائل، فوج اور حکومت کے لیے اس حد تک حوصلہ افزا ثابت ہوئی ہے کہ یہ سب متفق ہوکر یمن کے دفاع کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔ حوثیوں کی شکست اور سقوط دراصل باب المندب اور بحراحمر پر سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کی بالادستی کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنے گی جبکہ ایران اس اہم پراکسی کے خاتمے کے بعد علاقائی طورپر کمزور ہو جائے گا۔ یہ وہ اسباب و عوامل ہیں جو امریکا اور ایران کے درمیان یکلخت جنگ بندی کا سبب بنے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اور دیگر ممالک نے جنگ بندی اور امن کے لیے پس پردہ کوششوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہو لیکن جنگ بندی کا عمل مذاکرات سے زیادہ پاکستان، کویت دفاعی معاہدے اور حوثیوں کے اکھڑتے قدموں کا نتیجہ دکھائی دے رہا ہے جس نے خود اس جنگ پر ہی متعدد سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ بات متعدد ذرائع سے سامنے آ رہی ہے کہ اس جنگ میں ایرانی شدت پسند طبقات کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل کی خفیہ حمایت حاصل رہی ہے جس کا نتیجہ عرب ریاستوں کو ہدف بنانا جبکہ اپنے قریب ترین عراق اور سمندروں میں موجود امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے سے گریز ہے۔ حوثی باغی ایران سے دو جوتے آگے بڑھ کر سعودی عرب کے شہروں اور اقتصادی مراکز کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یعنی امریکا، ایران جنگ کا پھیلاؤ صرف اور صرف عرب ریاستوںکی تباہی کا راستہ ہے جوکہ اسرائیل کی عین منشا ہے۔
ان حالات میں عالمِ اسلام کے دفاع اور تحفظ کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا کردار بنیادی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کو یقینا اس امر کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹکراؤ اس کے لیے کس حد تک بھیانک ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا اسرائیل کے عین مفاد کے مطابق بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو سبق سکھانے کی گیدڑ بھبکیاں دی جانے لگی ہیں۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈا شدت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں بھارت کے زرخرید اور ہم فکر گروہ ریاست کے خلاف متحرک ہیں۔ افغانستان کی پشت پناہی رکھنے والے دہشت گرد بھی ریاست کے خلاف سرتوڑ کاوشیں کر رہے ہیں لیکن بفضلہ تعالیٰ پاکستان کے عوام اور افواجِ پاکستان کے عزم اور اتحاد سے یہ تمام سازشیں ناکام ثابت ہوں گی۔ پراکسی گروہوں نے جس طرح پاکستان کے لیے سلامتی کے سنگین مسائل پیدا کیے اسی طرح عرب ریاستوں کو بھی ان گروہوں سے شدید تحفظات لاحق ہیں اور ان کا حل یہی ہے کہ ایسے گروہوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی اسی وجہ سے ضروری ہے جس وجہ سے فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے خلاف اقدامات لازم ہیں۔ کوئی بھی ریاست اپنی سلامتی کو چند گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنتا نہیں دیکھ سکتی۔ پراکسی گروہوں کے علاج اور جنگوں کے خاتمے سے مسلم ریاستوں میں امن بحال ہو سکتا ہے۔

