وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دو روز قبل اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی مانے یا نہ مانے موجودہ سسٹم بیٹھ چکا ہے اور اگر اس کو ٹھیک نہیں کیا گیا اور نئے انتظامی یونٹ نہیں بنائے گئے تو دس سال بعد بھی ہم اسی جگہ پر کھڑے ہوں گے اور انہی مسائل کا رونا رورہے ہوں گے۔ وزیر داخلہ کے اس بیان کو مختلف سیاسی و صحافتی حلقوں نے اپنے اپنے زاویہ نظر سے دیکھا اور ایک عام تاثر یہ لیا گیا کہ شاید یہ مقتدر حلقوں کی جانب سے موجودہ سیاسی بندوبست سے وابستہ شخصیات کے لیے ایک پیغام ہے جس میں ملک میں ممکنہ انتظامی تبدیلی یا آئینی ترمیم کا عندیہ چھپا ہوا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پیر کے روز کی پریس بریفنگ اگرچہ بنیادی طور پر سیکیورٹی امور سے متعلق تھی جس میں پاک فوج کے ترجمان نے ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے حالیہ تخریب کاری کے واقعات اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے اقدامات پر تفصیلا روشنی ڈالی تاہم صحافیوں کے سوال پر انہوں نے موجودہ سسٹم کی ناکامی سے متعلق وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کو ان ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے تبصرے سے گریز کیا البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی اور خوشحالی کے لیے گڈ گورننس بہت ضروری ہے، گڈگورننس کے بغیر معاملات حل نہیں ہوسکتے،اس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔اگر مسائل حل نہیں ہو رہے توانتظامی ری سیٹ کیا جانا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو طریقہ کار طے کرنا چاہیے، اور اس پر عوام کی رائے بھی لینی چاہیے،ریاست ہو گی تو سیاست، شناخت اور تمام ادارے قائم رہیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان پر مبصرین کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے ملک کے موجودہ سسٹم سے متعلق کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ملک میں اچھی حکمرانی کی ضرورت کا احساس پاکستان کی مسلح افواج سے زیادہ کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ موجودہ وقت میں پاکستان کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جس امر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اچھی حکمرانی کا قیام ہی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سلامتی اور داخلی سا لمیت کو جہاں جہاں بھی اور جس جس شکل میں بھی کوئی خطرہ درپیش ہے تو اس کی بنیادی وجہ وہ مسائل ہی ہیں جو اچھی حکمرانی کے فقدان کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ لوگوں کو جب ریاستی بندوبست کے اندر رہتے ہوئے حقوق نہیں ملتے،انصاف میسر نہیں آتا اور ان کے مسائل حل نہیں ہوتے تو ان میں محرومی کا حساس پیدا ہوتا ہے جو رفتہ رفتہ بغاوت اور شورش پسندی کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔بلوچستان میں یہی کچھ ہوا ہے اور اب آزاد کشمیر میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ظاہر ہے کہ ان مسائل کو حل کرنا سیاسی قیادت،سول حکومتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے مگر جب یہ سب اپنی اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام رہتے ہیں تو سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ملک کے سیکیورٹی ادارے ان مسائل سے اپنے پیشہ وارانہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں مگر مسائل کی بنیادی وجوہ و علل اپنی جگہ موجود ہونے کی وجہ سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوپاتیں بلکہ بسا اوقات الٹا اثر دکھاتی ہیں۔اس وقت میں بلوچستان،خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ہمیں اسی المیے کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیںملک بھر میں شدید مہنگائی، حددرجے گرانی، ہوش ربا افراطِ زر، تنگ دستی و ناداری، سماجی بد نظمی اور انتشار عام ہے، جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ذہنی و نفسیاتی امراض میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں نوجوان ملک کے مستقبل سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیںیا ان کی توجہ اپنی صلاحیتیں بیرونِ ملک وقف کرنے پر مرکوز ہے۔
ان حالات میں یہ امر بہر حال ناگزیرہے کہ تمام قومی حلقے اور محب وطن سیاسی و مذہبی رہنما سرجوڑ کر بیٹھیں اور اس امر پر غور کیا جائے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارا سفر آگے بڑھنے کی بجائے ترقی معکوس کا شکار ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے ملک کے بنیادی انتظامی ڈھانچے اورآئینی بندوبست میں ہی کچھ مسائل ہوں؟یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے عوام کو ان کے بنیادی حقو ق دینے سے قاصر ہیں،یہاں تک کہ ملک کے وزیر داخلہ تک کو یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ نظام بیٹھ چکا ہے۔ ملک کی کوئی بھی اکائی دوسری اکائی سے ہم آہنگ اور مطمئن کیوں نہیں ہے؟اس گزارش کا مقصد ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی کسی کی تجویز کی حمایت یا مخالفت ہر گز نہیں ہے،کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب ملک کا سسٹم درست طریقے سے کام نہیں کررہا تو اس سسٹم کا از سر نو جائزہ لینے اور اس کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے وسیع تر قومی مشاورت سے اہم فیصلے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تاہم کسی بھی تبدیلی اور ترمیم کا بنیادی ہدف ملکی نظام کی حقیقی اصلاح اور ملک کے غریب عوام کی فوز و فلاح ہونا چاہیے۔ یہ بات کئی مرتبہ کی جاچکی ہے کہ ملک کے عام آدمی نے ہمیشہ قربانی دی ہے اور اپنے مفادات پر قومی مفاد کو وہ ترجیح دیتا چلا آرہاہے لیکن خوش حالی، استحکام، امن و سلامتی اور ترقی کے ثمرات سے وہ محروم ہے، اب وقت آچکاہے کہ اشرافیہ، مقتدر اور بالا دست طبقات بھی قربانی دیں تاکہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے عام آدمی کا یقین بحال ہوسکے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ پالیسیاں کون سی ہوسکتی ہیں جن سے عام آدمی کو معاشی و اقتصادی طورپر تحفظ حاصل ہواور یہ ملک محض اشرافیہ کی چراہ گاہ کی حیثیت کو تبدیل کرکے حقیقی معنوں میں ایک فلاحی ریاست میں تبدیل ہوسکے۔ ہماری نظر میں اس حوالے سے سب سے اہم امر اسلامی تناظر میں درست معاشی پالیسی کی تشکیل ہے جس میں عدل، امانت اور دولت کے عدمِ ارتکاز کو بنیادی حیثیت دی گئی ہو۔ سرمایہ کاری کو غیر سودی اسلامی بنیادوں پر مستحکم کیا جائے اور زراعت، صنعت اور ہنر کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی دی جائے۔ مالیاتی امور کو ہر شعبے میں درست کیا جائے اور اسراف، تبذیر، نمود و نمائش اور وسائل کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔ ان اصولوں کو بنیادی اقدار کا حصہ بنائے بغیر ملک میں معاشی ترقی اور اقتصادی خود مختاری کا بیانیہ ادھورا ہی سمجھا جائے گا۔ قومی قیادت کو اس امر پر توجہ دینا چاہیے کہ قوم کے تمام عناصر کو ایک مشترکہ بیانیے اور متفقہ سوچ پر لانے کے لیے اس کے مقاصد و اہداف کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔ امن و امان، معاشی خود مختاری اور اقتصادی ترقی کی مشترکہ سوچ اور متفقہ قومی بیانیہ ملک میں استحکام لانے اور سیاسی انارکی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتاہے۔

