مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور یمن میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکومت نے ستمبر میں لگاتار سات مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 12 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت پانچ روپے اضافے کے بعد اب 375 روپے 82 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ملکی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر فیصلہ نہ صرف معاشی اشاریوں بلکہ عوام کی نفسیات، کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاروں کی سوچ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ بنیاد پر رد و بدل کا فارمولا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے اور یہی حکومت کا تاثر بھی ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق فوری ردعمل کی ناگزیر راہ اختیار کی جا رہی ہے، لیکن عملی طور پر اس کے اثرات معیشت کو استحکام دینے کی بجائے شدید بے یقینی اور اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ ایران جنگ سے پہلے تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پندرہ روزہ بنیاد پر کیا جاتا تھا۔ اگرچہ اس نظام میں بھی بڑے اضافے پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا تھا، مگر کم از کم کاروباری طبقے، ٹرانسپورٹ سیکٹر، صنعتوں اور عام شہریوں کو ایک محدود مدت کیلئے قیمتوں کے استحکام کا یقین حاصل رہتا تھا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اسی پندرہ روزہ فارمولے کی کسر نکالنے کیلئے روزانہ رد و بدل کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ پہلے جو اضافہ ایک ہی بار کیا جاتا تھا، اب وہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں روزانہ کیا جا رہا ہے، شاید اس خیال کے تحت کہ عوام کو اس کا احساس کم ہوگالیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہو یا پچاس روپے کا، اس کے اثرات پورے معاشرے میں فوری طور پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی پٹرول یا ڈیزل مہنگا ہوتا ہے، کرائے بڑھا دیے جاتے ہیں، اشیائے خور و نوش کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے، صنعتکار اپنی لاگت بڑھا دیتے ہیں، دکاندار قیمتیں ازسرنو مقرر کر دیتے ہیں اور یوں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب قیمت کم ہو جائے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عموماً اپنی سابقہ سطح پر واپس نہیں آتیں۔
روزانہ قیمتوں میں رد و بدل کا سب سے بڑا نقصان اس کا نفسیاتی اثر ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ نہیں رہتا کہ آج اضافہ صرف ایک یا دو روپے کا ہوا ہے، بلکہ ان کے احساسات پر یہ بات حاوی ہو جاتی ہے کہ قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں۔ یہی احساس لوگوں میں بے چینی، مایوسی اور غیر یقینی کیفیت کو جنم دیتا ہے۔ جب ہر صبح یہ خدشہ ہو کہ آج پھر پٹرول مہنگا ہوگا تو لوگ اپنی خریداری، سرمایہ کاری اور روزمرہ منصوبہ بندی میں بھی غیر معمولی احتیاط برتنے لگتے ہیں۔ یہ کیفیت کسی بھی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔ معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد استحکام، پیش گوئی اور اعتماد پر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار، صنعتکار اور تاجر اس ماحول میں سرمایہ لگاتے ہیں جہاں انہیں آئندہ چند ماہ کی لاگت اور پالیسیوں کا اندازہ ہو۔ اگر ایندھن جیسی بنیادی شے کی قیمت ہر روز تبدیل ہونے لگے تو کاروباری منصوبہ بندی ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں اور نئی سرمایہ کاری مؤخر کر دیتے ہیں۔ حکومت ایک طرف معیشت کی بحالی کے دعوے کر رہی ہے، بیرونی سرمایہ کاری کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) قائم کی جا چکی ہے، مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی جا رہی ہے، لیکن دوسری طرف اندرونی معاشی ماحول مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی سرمایہ کار ایسے ملک میں طویل المدتی سرمایہ کاری کیوں کرے گا جہاں بنیادی توانائی کی قیمت کا بھی روزانہ یقین نہ ہو؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ معیشت کی مشکلات صرف عالمی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے نہیں ہیں۔ ملک کو امن و امان کے مسائل، پیچیدہ سرکاری نظام، سست بیوروکریسی، کرپشن، رشوت ستانی، غیر ضروری ضابطوں اور پالیسیوں کے عدم تسلسل جیسے مشکل چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ جب ان تمام مسائل کے ساتھ روزانہ پٹرولیم قیمتوں میں رد و بدل کا عنصر بھی شامل ہو جائے تو کاروباری ماحول مزید غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عوام صرف قیمت کے اضافے سے نہیں، بلکہ مسلسل بے یقینی سے بھی پریشان ہوتے ہیں۔ معاشی پالیسیوں کا مقصد صرف ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر پالیسیوں سے عوام اور کاروباری طبقے کا اعتماد مجروح ہو جائے تو اس کا نقصان کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت اس کی قیمت چکاتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں، معاشی ماہرین، صنعتکاروں، تاجر تنظیموں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک ایسا جامع اور طویل المدتی معاشی فریم ورک تشکیل دے جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو۔ ساتھ ہی پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا ایسا نظام وضع کیا جائے جو عالمی منڈی کی حقیقتوں کو بھی مدنظر رکھے اور ملکی معیشت کو استحکام بھی فراہم کرے۔ عوام کو پیشگی علم ہو کہ کن اصولوں کے تحت قیمتیں بڑھیں گی یا کم ہوں گی، تاکہ غیر ضروری افواہوں، بے یقینی اور نفسیاتی دباؤ کا خاتمہ ہو سکے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ استحکام، اعتماد اور مستقل مزاج معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اگر روزانہ قیمتوں کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف مہنگائی مزید بے قابو ہوگی بلکہ سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وقتی انتظامی سہولت کی بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو ترجیح دے، کیونکہ مضبوط معیشت روزانہ بدلتی قیمتوں سے نہیں بلکہ مستقل، قابلِ اعتماد اور متوازن پالیسیوں سے وجود میں آتی ہے۔ بصورت دیگر معاشی ابتری مزید گہری ہوگی اور اس کے اثرات صرف اقتصادی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا سماج اس کی بھاری قیمت ادا کرے گا۔

