بھارت اور اسرائیل کے اتحادی فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کی جانب سے مسلمانانِ عالم کے سب سے مضبوط عسکری مرکز مملکتِ خداداد پاکستان پر دہشت گردانہ حملے اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہم پر ایک بڑی جنگ مسلط ہے جس کے مقابلے کے لیے پوری قوم کو سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہونا پڑے گا۔ کوہاٹ میں پولیس لائن مسجد پر خودکش حملے کے بعد افواجِ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف تیزی سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ان کارروائیوں میں جہاں متعدد دہشت گرد جہنم واصل ہوئے ہیں وہاں ہنگو میں ہمارے بہادر سپاہیوں کو کیپٹن ابوذر فاروق، لیفٹیننٹ شیراز بابر اور شکیل، حمزہ، عثمان اور سجاد جیسے قیمتی جوانوں کی شہادتوں کا دکھ بھی اٹھانا پڑا ہے۔ قوم کے ان بہادر سپوتوںکو صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام نے خراجِ تحسین پیش کیا۔ یقینا ان شہدا نے قوم کی آزادی، ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں ہیں۔ پوری قوم ان شہدا کی سرفروشی، ایثار و قربانی اور احساسِ ذمہ داری پر ان کی احسان مند ہے۔ توقع رکھنی چاہیے کہ ان شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاکستان کے تحفظ کے لیے افواجِ پاکستان مکمل طورپر کمر بستہ ہیں۔ امید ہے کہ بہت جلد شہیدوں، غازیوں اور دینِ اسلام سے محبت رکھنے والے پاکستانیوں کی دھرتی ان فسادی عناصر کے وجود سے بالکل پاک ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ کوہاٹ مسجد میں نمازیوں کو بم دھماکے سے اڑانے والے دہشت گرد کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا تھا۔ چنانچہ اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ بھارتی اتحادی افغان حکومت کی جانب سے اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے جس میں درجنوں دہشت گرد کیفرِ کردار کو پہنچے ہیں۔
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے خلاف بھارت، اسرائیل اور افغانستان نے مشترکہ طورپر پراکسی وار جار ی رکھی ہوئی ہے جیسا کہ پاکستان پر ہونے والے ہر حملے کا سرا آخرکار افغانستان سے جا ملتا ہے۔ افغانستان کے علاوہ ایران کے شدت پسند گروہ بھی پاکستان مخالف پراکسی وار کا حصہ ہیں۔ فتنۂ ہندوستان کے مرکزی لیڈر کی پاسدارانِ انقلاب کے پاس بحفاظت موجودگی کا اس کے سوا اور کیا معنیٰ ہو سکتا ہے کہ امریکا، ایران جنگ ختم ہوتے ہی یہ انتہا پسند گروہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کی از سرِنو سرپرستی شروع کر دے گا۔ ان انتہاپسندوں سے ایران کے عوام کا بڑا حصہ بھی عاجز آچکا ہے جو اپنے لیڈروں، اہم سائنس دانوں اور قومی اثاثوں کی حفاظت تو نہ کر سکے لیکن انقلاب کے نام پر تمام عالمِ عرب کے ساتھ تصادم مول لینے کے لیے کمر بستہ ہیں۔ پاکستان کو صرف بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ ہی سے خطرات لاحق نہیں بلکہ کسی بھی وقت ایرانی پراکسی اور قومی اداروں میں موجود ان کے سرپرست اور ہمدرد بھی ملکی سلامتی کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ سیاسی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر انتشار برپا کرنے والے گروہوں کی سرگرمیاں بھی قابلِ گرفت ہیں۔
عالمی حالات، جغرافیائی کشمکش اور ملک میں پھیلے ہوئے فتنہ و فساد کو ایک ہی تصویر میں دیکھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان دراصل چاروں اطراف سے مختلف النوع حملوں کی زد میں ہے۔ بیرونی یلغار، پراکسی وار، داخلی فساد اور معاشی انحطاط ہمارے دفاع، سلامتی اور آزادی و خود مختاری سے متعلق عزم و ثبات کے لیے ایک کڑے امتحان کی مانند ہے۔ یہ آزمائشیں اور مسلسل امتحانات ہمیں مزید حوصلہ، صبر و استقامت اور اپنے دین و وطن کی خاطر مزید مضبوط رہنے کا سبق سکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی صورت میں رحمتِ خداوندی نے برِصغیر کے مسلمانوںکو ایک ایسا قلعہ عطا کیا ہے جو کہ ایک طرف مشرکانہ تہذیب کو خطے پر بزروِ قوت مسلط کرنے والے بھارت کے سیلابِ آتشیں کے بالمقابل سدِ سکندری ثابت ہو رہا ہے تو دوسری جانب افغان اور ایرانی انتہا پسندوں، فتنۂ خوارج کے دہشت گردوں، فتنۂ ہندوستان کے ملحدوں اور دین دشمنوں اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف مسلمانانِ عالم کی مضبوط پناہ گاہ بھی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ نے پاکستان کی حربی مہارت اور عسکری کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ہی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے جیسے اقدام کی منظوری دی ہے۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کو حاصل ہوا ہے کہ وہ حرمین شریفین کا محافظ قرار پایا ہے۔ اس اعزاز کے ہوتے ہوئے پاکستان کے وجود کی سلامتی، اس کے تحفظ اور اس کے بقا کی ضرورت کے لیے کسی دوسری دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ دراصل دشمن نے عقائد ونظریات کے پرتو میں ایسی ذہنیت پیدا کر دی ہے جوکہ اپنے نقصان کے سوا کسی چیز پر رضا مند نہیں ہے۔ تخریب، تشدد، انتشار اور خون خرابے کو دینِ اسلام کا اصل چہرہ دکھانے والے اس قدر احمق ہیں کہ انھیں مسلمانانِ عالم کو درپیش ان سنگین خطرات کا کوئی اندازہ تک نہیں جوکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم، گریٹر اسرائیل اور وسیع تر فارسی سلطنت کے مجوزہ منصوبوں کی صورت میں درپیش ہیں۔ پاکستان کا نقصان صرف ایک جغرافیائی خطے کی تباہی نہیں بلکہ یہ عالمِ اسلام کے اس بازوئے شمشیر زن پر حملہ ہے جو آج جنوبی ایشیا سے لے کر خلیج فارس اور بحرِ احمر کے پانیوں تک مسلم ریاستوں کے تحفظ کی کوشش میں مصروف ہے۔ پاکستان نے امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے ممکنہ حد تک ایران اور عرب جنگ کو روکنے کے لیے کردار ادا کیا لیکن ایران کے انتہا پسند طبقات ہر صورت میں عربوں بالخصوص سعودی عرب کی تباہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب یہی رویہ افغان حکومت اور ان کی سرپرستی اور پشت پناہی میں سرگرم ان دہشت گردوں، خارجیوں، فسادیوں اوردین و دانش سے تہی دست گروہوں کا ہے جو کہ اپنے تئیں اسلام کا پرچم سر بلند کرنے نکلے ہیں لیکن ان کی گزشتہ دو دہائیوں کی تمام سرگرمیاں محض مسلمانوں کے خلاف ہی رہی ہیں۔
غور کرنا چاہیے کہ عالمِ اسلام کو ان تکفیری فسادیوں کے وجود سے آخر کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟ مسلم ممالک کو فتنہ و فساد، انارکی، خانہ جنگی اور تشدد کا گڑھ بنانے کے علاوہ ان عقل و خرد سے محروم گروہوں نے کوئی خاطر خواہ اور تعمیری کام انجام نہیں دیا۔ اس کے برعکس بھارتی، اسرائیلی اور امریکی امداد کے ذریعے یہ گروہ پاکستان کو توڑنے کی ناپاک سازشوں میں ملوث ہیں۔ عوامی سطح پر ایسے گروہوں کے نظریاتی حامیوں، پشت پناہوں اور ہمدردوں کے خلاف نظریاتی جدوجہد وقت کا تقاضا ہے۔ یہی رویہ ایرانی پراکسی کا حصہ بننے والے ان گروہوں کے خلاف بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو کہ گلگت کے فسادات سمیت ملک میں ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی میں شریک ہیں اور ریاست کی پالیسیوں کے برخلاف سعودی عرب کی مخالفت میں نیز یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ مقامی سہولت کاری کے بغیر افواجِ پاکستان پر حملے ممکن نہیں ہو سکتے۔ پاکستان مخالف سہولت کاری اور پراکسی وار کے مقابلے میں پوری قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے تا کہ اس خونی فتنے اور ہمہ گیر فساد کا جلد از جلد خاتمہ ممکن ہو سکے۔
