پاکستان کی دفاعی کارروائیاں اور ترجیح

پاک فوج نے افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا انفرااسٹرکچر تباہ کردیا۔آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج نے انتہائی درست فضائی اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں 10 مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر تفصیلات میں بتایا کہ ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ڈرون لانچ کرنے اور انہیں ذخیرہ کرنے کیلیے استعمال ہونے والے مقامات کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔جاری کردہ ویڈیو کلپ میں ان فضائی اور ڈرون حملوں کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔

فارسی کا ایک معروف مقولہ ہے تنگ آمد، بہ جنگ آمد،یعنی جب کسی قوم یا فرد کو مسلسل تنگ کیا جائے، اس کی برداشت کی ہر حد آزمائی جائے اور مسائل کے حل کے تمام پرامن راستے بند کر دیے جائیں تو پھر اس کے پاس پلٹ کر وار کرنے اور جنگ کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ بدقسمتی سے آج پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی اسی نہج پر پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں دونوں برادر اسلامی ممالک ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔ یہ صورتحال صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کیلیے باعثِ تشویش ہے۔کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان، جنہیں مذہب، تاریخ، ثقافت، جغرافیہ اور اخوت کے مضبوط رشتوں نے جوڑ رکھا ہے، ایک دوسرے کیخلاف ایسے خونریز حملوں پر مجبور ہو جائیں گے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ پاکستان افغانستان پر فضائی حملے کرے گا، وہ پاکستان جس نے چار دہائیوں میں چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر جگہ دی۔ انہیں تعلیم، صحت، کاروبار، روزگار اور عزت و احترام کے وہ مواقع فراہم کیے جو دنیا میں آج تک کسی دوسرے ملک نے انہیں نہیں دیے۔ پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں کے اسپتال افغان شہریوں کے لیے اپنے شہروں کے اسپتالوں کی مانند تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، رشتہ داریاں، آمدورفت اور باہمی تعلقات اس قدر مضبوط تھے کہ غیریت اور اجنبیت کا احساس تک نہیں تھا۔پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ یہ تعلقات دشمنی میں بدلتے گئے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں۔

امریکی مداخلت کے دور میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور شورش نے جنم لیا۔ اس آگ کو مختلف بیرونی قوتوں نے اپنے اپنے مفادات کے لیے بھڑکایا اور اسے مسلسل سلگاتے رہے۔ پاکستان نے طویل عرصے تک اس بیرونی فنڈڈ دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی، بے شمار جانوں کی قربانی دی، اپنی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور دنیا کے مشکل ترین حالات کا سامنا کیا۔ اس دوران توقع کی جا رہی تھی کہ افغانستان میں حالات معمول پر آنے کے بعد سرحد کے دونوں جانب امن قائم ہوگا اور دہشت گردی کا باب بند ہو جائے گا لیکن افسوس کہ یہ امید پوری نہ ہو سکی۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کو یہ توقع تھی کہ اس کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر اس کے برعکس سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں پہلے سے بڑھ کر اضافہ ہوا۔ غیر جانبدار عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ایک سال میں اتنے حملے ہوئے، جتنے پہلے کئی سالوں میں ہوتے تھے۔ پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کیے، مذاکرات کیے، وفود بھیجے، برادر ممالک بیج میں پڑے اور بارہا اپنی تشویش سے آگاہ کیا، مگر تمام کوششوں کے باوجود حملے جاری رہے اور اب بھی جاری ہیں۔ایسے میں کسی بھی ریاست کے لیے اپنی سالمیت کا دفاع اولین ذمہ داری بن جاتا ہے۔ پاکستان کی یہ کارروائیاں بھی اسی تناظر میں ہیں۔ان کارروائیوں کا ہدف عام آبادی ہرگز نہیں بلکہ وہ مخصوص مقامات ہیں جہاں خارجی دہشت گردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخائر اور ڈرون لانچنگ کی سہولتیں موجود ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان اسی حق دفاع کے تحت یہ جوابی کارروائیاں کرنے پر مجبور ہے۔

باوجود اس کے کہ پاکستان محض اپنے دفاع میں بہ امر مجبوری یہ کارروائیاں کر رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے لیے یہ امر کبھی ترجیح نہیں رہا۔ یہ بات بارہا کہی گئی ہے کہ پاکستان ان کارروائیوں میں پہل کار ہرگز نہیں ہے۔ افغان سرزمین سے پہل ہوئی ہے اور مسلسل ہوتی رہی ہے اور اب جب پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے تو پاکستان دفاعی کارروائیوں تک محدود ہے اور یہ طے کر رکھا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی ہر دہشت گردی کا جواب سرحد پار دہشت گردوں اور خارجیوں کے محفوظ ٹھکانوں کی تباہی کی صورت میں ہی دیا جائے گا، تاہم اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ پاکستان اور افغانستان دونوں مسلمان ممالک ہیں، دونوں کے عوام نے دہائیوں سے جنگ، غربت، بے گھری اور خونریزی دیکھی ہے، اب یہ سلسلہ موقوف ہوجانا چاہیے۔

اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری افغان حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ حملوں کو رکوائیں، یہی پاکستان کا واحد مطالبہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا حل صرف اور صرف سفارت کاری، اعتماد سازی اور مسلسل مذاکرات میں ہے۔خطے کے امن کا تقاضا یہی ہے کہ شدت پسند عناصر کو ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے۔ نوجوانوں کو اسلحہ اور نفرت کی بجائے تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ افغانستان اگر اپنے اندر موجود ایسے عناصر کو قابو میں لاتا ہے جو پڑوسی ممالک کیلیے خطرہ بن رہے ہیں تو ایک دن میں ہی امن ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی خواہش کبھی جنگ نہیں رہی۔ اس کی اولین ترجیح آج بھی اپنی سرحدوں کا تحفظ، اپنی سالمیت دفاع ہے۔ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونا بند ہو جائے تو دونوں ممالک دوبارہ اس برادرانہ تعلق کی طرف لوٹ سکتے ہیں جس کی بنیاد مذہب، تاریخ اور مشترکہ تہذیب و ثقافت پر قائم ہے۔آج ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں کی ہے۔ آگ اگلتی بندوقیں خاموش ہونی چاہئیں، سرحدیں امن کی علامت بننی چاہئیں اور دوسنوں ممالک اپنی توانائیاں جنگ کی بجائے تعلیم، معیشت، تجارت اور عوامی خوشحالی پر صرف کریں۔ یہی دونوں قوموں کے بہتر مستقبل اور پورے خطے کے امن کی ضمانت ہے۔