نائن الیون کے پچیس سال بعد دنیا کتنی محفوظ ہے؟

امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کی 25ویں برسی منائی گئی، جس کے موقع پر نیویارک، واشنگٹن اور پنسلوانیا سمیت مختلف مقامات پر یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں۔حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس واقعے نے امریکی سیاست، سلامتی اور خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔11 ستمبر 2001ء کو حملہ آوروں نے چار مسافر طیارے ہائی جیک کیے تھے۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، ایک پینٹاگون سے ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔25ویں برسی کے موقع پر نیویارک کے گراؤنڈ زیرو، پینٹاگون اور فلائٹ 93 کے مقام پر خاموشی کے لمحات، پھولوں کی چادریں چڑھانے اور متاثرین کے نام پڑھنے کی تقریبات ہوئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پینٹاگون میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نیویارک میں 9/11 میموریل کی تقریب میں شریک ہوئے۔

نائن الیون بلاشبہ انسانی تاریخ کے ان اہم واقعات میں سے ہے جن کے اثرات عشروں تک دنیا کو متاثر کرتے رہیں گے۔ نائن الیون کے حملوں کے فوراً بعد امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے جو پہلا بیان جاری کیا تھا اس میں ان حملوں کو امریکا کی مشرق وسطیٰ سے متعلق (غیر منصفانہ) پالیسیوں سے خلاف ناراض عرب نوجوانوں کی کارروائی قرار دیا گیا تھا ۔یہ دراصل وہ بے احساس جرم تھا جس کا ابتدائی بیان میں بے ساختہ اظہار کیا گیا، اگر امریکی قیادت اپنے اس بیانیے پر قائم رہتی اور نائن الیون سے سبق حاصل کرکے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنی پالیسیوں میں اعتدال لانے پر توجہ دیتی تو شاید آج دنیا کا منظر نامہ کچھ اور ہوتامگربدقسمتی سے نائن الیون کے دوچار روز بعد ہی صہیونی لابی کے پروپیگنڈے کے زیر اثر اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے نائن الیون کو امریکی ومغربی طرز زندگی پر حملہ قرار دے کر اس کے جواب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالم گیر جنگ کا آغاز کردیا، دیگر یورپی و مغربی ممالک کو بھی ساتھ ملانے کی خاطر انہوں نے باقاعدہ” صلیبی جنگ” لڑنے کا اعلان کردیا جس کو بعد میں بربنائے مصلحت جوش خطابت کا شاخسانہ اور سبقت لسانی قرار دیا گیا۔البتہ عملی طور پر اس جنگ کو بالکل تاریخ کی صلیبی جنگوں کی طرز پر ہی لڑا گیا، دنیا کے چالیس سے زائد ممالک جن کی غالب اکثریت صلیبی عقائد رکھنے والی تھے، اپنے تمام تر لاؤ لشکر اور جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانستان جیسے مفلوک ا لحال اور پہلے سے جنگ زدہ ملک پر حملہ آور ہوگئے۔افغانستان کی بستیوں پر بی باون طیاروں سے کارپٹ بمباری شروع کی گئی اور دسیوں ہزار افغان شہریوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔اس پر بھی بھڑاس نہیں نکلی تو2003ء میں عراق پر بھی حملہ کیا گیا، اس حملے کے جواز کے لیے صدام حسین کی حکومت پر خطرناک کیمیائی ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کیا گیا جو بعد میں خود امریکی و برطانوی حکومتوں کے اعتراف کے مطابق بوگس نکلا۔عراق میں لاکھوں افراد قتل، تشدد، خانماں بربادی اور تباہی کا شکار ہوگئے۔

دل چسپ بات یہ ہوئی کی افغانستان اور عراق دونوں محاذوں پر طاقت کے انتہائی اندھے اور وحشیانہ استعمال اور اربوں ڈالرز کے وسائل جھونک دینے کے باوجود وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، عراق میں تقریبا ً ایک عشرے اور افغانستان میں پورے دوعشروں تک اپنے ہزاروں فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالرز پھونک دینے کے بعد آخر کارامریکا اور اس کے اتحادیوں کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا اس ہزیمت اور خفت آمیز انداز سے ہوا کہ آج بھی امریکی صدر ٹرمپ اس پر شرمندگی کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔ آج جبکہ امریکی نائن الیون کے مقتولین کی25 ویں برسی منارہے ہیں تو کابل میں انہی طالبان کی حکومت ہے جن کو ھٹانے کے لیے امریکا نے بیس برس تک جنگ لڑی ۔فرق یہ ہے کہ نائن الیون سے پہلے طالبان کی حکومت افغانستان کے 80فیصد حصے پر تھی، اب پورا افغانستان ان کی قلمرو میں داخل ہے۔ عراق میں ایران مخالف اور سیکولر نظریات کے حامل صدام حسین کو ہٹانے اور پھانسی دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عراق ایران کی جھولی میں جاگرا جس کو امریکا آج اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ آج دنیا میں یہ سوال آج بھی زیر بحث ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکا کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ سے دنیا پہلے سے کتنی محفوظ ہوئی؟بہت سے مبصرین کے مطابق نائن الیون کے پچیس برس گزرنے کے بعد دنیا میں دہشت گردی کے خطرات میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہوا ہے۔اس کی بنیادی وجہ عالمی قوتوں کی غلط سوچ اور یکطرفہ پالیساں ہیں۔مشرق وسطیٰ کا مسئلہ جو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ابتدائی بیان کے مطابق نائن الیون کی اصل وجہ تھی، آج بھی اپنی جگہ موجود ہے اور بد قسمتی سے امریکا اس وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا ہے۔جتنا سرمایہ امریکا اور مغربی ممالک نے نائن الیون کے بعد جوش انتقام میں آکر افغانستان اور عراق کی لاحاصل اور ناکام جنگوں میں ضائع کیا، اس کا نصف بھی اگر دنیا سے غربت کے خاتمے اور تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں لگادیا جاتا تو آج شاید دنیا کا نقشہ مختلف ہوتا۔

وزیر اعظم کی جانب سے لوڈشیڈنگ کا نوٹس

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کوکسی بھی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی کی ترسیل میں تعطل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور تمام موجود وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور کسی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ وزیر اعظم کی جانب سے بجلی ساز کمپنیوں کو کسی بھی علاقے میں دوگھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت خوش آیند ہے اگراس پر عمل درآمد بھی ہوتا ہوا نظر آئے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک سے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی سمیت بیشتر شہروں اور دیہات میں بعض مقامات پر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں بجلی کا پورا نظام ہی بیٹھ گیا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس صوررت حال پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے اور بجلی بنانے والی کمپنیوں کی من مانیوں سے قوم کو نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات ہونے چاہئیں۔