پاکستان کا استحکام عالم اسلام کی ضرورت

پاک فوج نے کرم سیکٹر سے فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ناکامی کے بعد کرم سیکٹر میں افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ شدید جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان متعدد پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

ایک ایسے وقت میں جب عالم اسلام غزہ، مشرقِ وسطی، افریقہ اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات، جنگوں، سیاسی عدم استحکام اور انسانی المیوں سے گزر رہا ہے، پاکستان جیسے اہم اسلامی ملک کو اندرونی و بیرونی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہونا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔ پاکستان صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت، مضبوط عسکری صلاحیتوں کا حامل ملک اور اسلامی دنیا کے اجتماعی دفاع کی امیدوں کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا امن، استحکام اور مضبوطی عالم اسلام کے وسیع تر مفادات سے براہِ راست وابستہ ہے۔ کرم سیکٹر میں دراندازی کی حالیہ کوشش اور سرحدی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کو مسلسل ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا مقصد صرف سرحدی بے چینی پیدا کرنا نہیں بلکہ ملک کو داخلی طور پر مصروف، کمزور اور غیر مستحکم رکھنا بھی ہے۔ تاہم پاکستان کی بہادر سیکورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے سرحدوں کا دفاع کیا اور دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ وطن کے دفاع پر مامور افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیاں پوری قوم کیلیے باعثِ اطمینان اور قابلِ فخر ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران دہشت گردی کیخلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان میں بیرونی افواج کی موجودگی کے دوران پاکستان نے جس طویل اور خونریز دور کا سامنا کیا، اس کی مثال خطے کی جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ دہشت گردی کے پے در پے حملوں نے نہ صرف ہزاروں شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں لیں بلکہ ملکی معیشت، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سماجی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان خود ایک جنگ زدہ ملک کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان میں یہ امید پیدا ہوئی تھی اور اس کی ایک جائز وجہ بھی موجود تھی کہ سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہوگا، دونوں ہمسایہ اسلامی ممالک امن، تجارت، ترقی اور باہمی تعاون کے نئے دور میں داخل ہوں گے، لیکن بدقسمتی سے یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ سرحد پار سے دہشت گردی کی کارروائیاں دوبارہ شدت اختیار کرتی گئیں اور اب جدید ہتھیاروں سے لیس خارجی فکر کے دہشت گرد عناصرپاکستان کی سلامتی کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان پر حملوں میں سب سے نمایاں کردار ان عناصر کا ہے جنہیں ریاست پاکستان بجا طور پر فتنہ الخوارج قرار دیتی ہے۔ یہ گروہ بدقسمتی سے اپنے گمراہ کن نظریات کی بنیاد پر ریاست پاکستان اور اس کے عوام کیخلاف مسلح کارروائیوں کو جائز سمجھتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات امن، عدل، انسانی جان کے احترام اور فساد سے اجتناب کا درس دیتی ہیں، جبکہ قتل و غارت، دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا اسلامی اصولوں سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا۔ اختلافات کو بندوق اور بارود سے حل کرنے کا راستہ ہمیشہ مزید تباہی کو جنم دیتا ہے، مگر اس گروہ پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ پاکستان نے بارہا مذاکرات، سفارتی روابط اور برادر اسلامی ممالک کی ثالثی کے ذریعے یہ مسئلہ کے حل کی کوشش کی۔ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں، مگر بدقسمتی سے یہ گروہ اور ان کے سرپرست افغان طالبان اپنی خو بدلنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

بہرحال خون بہت بہ چکا، یہ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق طاقت کی بجائے اب تدبر، حکمت، مذاکرات اور باہمی اعتماد سازی کو ترجیح دیں، کیونکہ جنگ کبھی بھی امن کی ضمانت نہیں ہوتی۔ آج عالم اسلام میں پاکستان کی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ دفاعی میدان میں پاکستان کی مہارت، عسکری تربیت، دفاعی پیداوار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا، جبکہ متعدد دیگر اسلامی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان اور کویت سمیت کئی برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون بھی پہلے ہی موجود ہے۔ یہ سب اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اسلامی دنیا پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار سمجھتی ہے۔ اگر پاکستان اندرونی انتشار، دہشت گردی، معاشی کمزوری اور مسلسل سلامتی کے بحرانوں میں الجھا رہے گا تو وہ اپنی توانائیاں داخلی دفاع پر صرف کرنے پر مجبور ہوگا۔ ایسی صورت میں نہ صرف اس کی اپنی ترقی متاثر ہوگی بلکہ وہ عالم اسلام کے اجتماعی دفاع اور استحکام میں بھی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے گا۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے پاکستان کے دشمن بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن پاکستان نہ صرف اپنے عوام کی ترقی کا ضامن ہوگا بلکہ مسلم دنیا کی اجتماعی قوت میں بھی نمایاں اضافہ کرے گا۔ اس لیے پاکستان کے استحکام کو صرف قومی تناظر میں نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس لیے داخلی اتحاد، سیاسی استحکام، معاشی مضبوطی، مؤثر سفارت کاری، سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کو بھی یہ ادراک کرنا ہوگا کہ مسلسل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ممالک کے عوام امن، تجارت، تعلیم، خوشحالی اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں، نہ کہ دائمی جنگ اور خونریزی کے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ نفرت کی بجائے اعتماد، تصادم کی جگہ تعاون اور جنگ کی بجائے امن کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کا مضبوط، پرامن اور مستحکم ہونا صرف پاکستانی عوام کی ضرورت نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی مشترکہ ضرورت ہے۔