دائیوں کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں

مڈ وائف جسے عرفِ عام میں ہمارے ہاں دائی کہا جاتا ہے ماں اور بچے کی صحت کا خاموش مگر مضبوط ستون ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 5مئی کو دائیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دن ہے جو بظاہر تقویم کا ایک عام سا ورق محسوس ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ ان گمنام خدمت گزاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو نئی زندگی کو محفوظ انداز میں اس دنیا میں لانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ماں اور بچے کی صحت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کو مستحکم کرنے میں دائیوں کی خدمات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ دائی کا کام صرف دورانِ زچگی زچہ کی دیکھ بھال، مدد اور پیدائش کے مرحلے سے گزارنا نہیں ہوتا بلکہ اس کا کام حمل کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے۔ وہ حاملہ کو اس کی اپنی اور آنے والی زندگی کی صحت سے متعلق مفید مشورے دیتی ہے۔ اسے پرہیز بتاتی ہے۔ اس کے لیے مناسب غذا تجویز کرتی ہے۔ کسی پیچیدگی کی شکل میں اس کی مدد کرتی ہے اور اگر ضرورت پڑے تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتی ہے۔

دائی کی خدمات کے اعتراف کا دن پہلی بار 1992ء میں انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف مڈ وائیوز کے زیرِ اہتمام منایا گیا جس کا مقصد دائیوں کے کردار کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور ماں و بچے کی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔ ابتدا میں چند ممالک تک محدود یہ اقدام آج 100سے زائد ممالک میں ایک منظم عالمی مہم کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس دن سیمینارز، آگاہی پروگرامز اور تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے اس پیشے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ دائی یا مڈ وائف دراصل وہ تربیت یافتہ فرد ہوتی ہے (عموماً خاتون) جو حمل کے دوران دیکھ بھال، زچگی کے عمل میں معاونت اور پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی صحت کا خیال رکھتی ہے۔ تاہم اس کا کردار محض طبی خدمات تک محدود نہیں ہوتا؛ وہ ایک ماں کے لیے جذباتی سہارا، حوصلہ افزائی کا ذریعہ اور ایک نازک مرحلے میں رہنمائی فراہم کرنے والی ساتھی بھی ہوتی ہے۔ خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کی سہولیات ناپید ہوتی ہیں، وہاں یہی دائی اُمید کی کرن بن کر سامنے آتی ہے۔

اگرچہ یہ پیشہ بظاہر سادہ دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے اندر بے شمار چیلنجز پوشیدہ ہیں۔ محدود وسائل، بنیادی طبی آلات کی کمی، طویل اور غیرمتعین اوقاتِ کار، جسمانی و ذہنی دباؤ اور سب سے بڑھ کر معاشرتی عدم پذیرائی، یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا سامنا ایک دائی کو روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔ کئی مواقع پر انہیں خطرناک حالات میں بھی اپنی خدمات سرانجام دینا پڑتی ہیں مگر اس کے باوجود انہیں نہ تو مناسب معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی وہ سماجی عزت انہیں ملتی ہے جو اس خدمت کے شایانِ شان ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں دائی کے پیشے کو ابھی تک وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا جس کا یہ پیشہ حق دار ہے۔ حالانکہ ایک دائی نہ صرف ایک بچے کی پیدائش میں مدد دیتی ہے بلکہ ایک پورے خاندان کی خوشیوں کی بنیاد رکھتی ہے۔ اس کے ہاتھوں سے جنم لینے والی زندگی دراصل معاشرے کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں دائیوں کو درپیش مسائل اور بھی سنگین ہیں۔ تربیتی مراکز کی کمی، جدید طبی آلات تک محدود رسائی، محفوظ کام کے ماحول کا فقدان اور ناکافی تنخواہیں جیسے عوامل اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ کچھ سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی بہت سا سفر طے ہونا باقی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دائیوں کی مؤثر موجودگی زچگی کے دوران اموات کی شرح میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیشہ خواتین کے لیے باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے اور کمیونٹی سطح پر صحت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی تربیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس سمت میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی جائے۔ اس سلسلے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تربیت دے کر انہیں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ دائیوں کی خدمات کا اعتراف کرے اور ان کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اپنائے۔ میڈیا اور تعلیمی نصاب میں ان کے کردار کو نمایاں کیا جائے۔ کمیونٹی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں ایک محفوظ و باوقار ماحول فراہم کیا جائے۔ حکومتی سطح پر بھی فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ جدید تربیتی پروگرامز کا اجرائ، دیہی علاقوں میں دائیوں کی تعیناتی، مناسب تنخواہوں اور مراعات کی فراہمی، زچگی مراکز کا قیام اور انہیں قومی ہیلتھ سسٹم کا باقاعدہ حصہ بنانا، ایسے اقدامات ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

5 مئی کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک صحت مند اور محفوظ معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب ماں اور بچے کی صحت کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس مشن کی تکمیل میں دائیوں کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن محض ایک یاد دہانی نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد ہے، ان گمنام محافظوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد جو خاموشی سے زندگی کے چراغ روشن کرنے میں مصروف ہیں۔