شام کے لاپتہ بچے اور معصوم جانوں کی خاموش نسل کشی کا نوحہ

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
’ میّ عثمان السباعی‘ کہاں گئی؟ یہ سوال صرف ایک بچی کا نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی گمشدگی کا نوحہ ہے۔ کیا آپ اس معصوم فرشتے کو جانتے ہیں؟
کتنی پیاری، کتنی معصوم بچی جیسے زمین پر اتری ہوئی روشنی ہو یا پھول پر بیٹھی تتلی۔ وہ شامی بچی جس کا نام میّ عثمان السباعی ہے۔ شہر حمص کے محلے الخالدیہ کی رہنے والی یہ ننھی کلی 29 دسمبر 2011ء کو اسکول سے اپنے گھر لوٹ رہی تھی۔ وہ بچوں کی بس میں سوار تھی، شاید تھکی ہوئی اور گھر پہنچ کر ماں کی گود میں سر رکھنے کے خواب دیکھ رہی تھی مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ ایک انجان منزل کا گمنام سفر ہوگا۔جب بس حمص کے علاقے الغوطہ سے گزری تو اچانک ایک کار مزدا زوم 6 نے راستہ روکا۔ اس میں سے انسان کے بھیس میں درندے نکلے، فوجی انٹیلی جنس اور ایئر فورس انٹیلی جنس کے اہلکار۔ وہ بس میں داخل ہوئے، بچوں کو گھورا اور پھر اس معصوم بچی کو ان کے درمیان سے چن لیا صرف اس لیے کہ وہ سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔ اسے ماں کی آغوش سے، زندگی سے، روشنی سے چھین کر اغوا کر لیا گیا۔ پھر وہ یوں غائب ہوئی جیسے زمین نگل گئی ہو یا آسمان نے اچک لیا ہو۔ آج تک میّ کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کا نام ان ہزاروں بچوں کی فہرست میں شامل ہو گیا جو جبرا لاپتہ کردیے گئے اُن زندانوں میں جہاں چیخیں بھی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی ہیں۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس بڑے المیے کی ایک جھلک ہے جو شام کی سرزمین پر گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری رہا۔ بشار الاسد کے دور حکومت میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک جنگ نہیں تھی بلکہ ایک منظم انسانی سانحہ تھا جس میں بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ 2011 ءمیں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے لاکھوں افراد کو قتل اور بے گھر کیا مگر اس کے سائے میں ہزاروں بچے ایسے بھی تھے جو اچانک گھروں، گلیوں، پناہ گزین کیمپوں یا جیلوں سے غائب ہو گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق مارچ 2011 ءسے نومبر 2024 ءتک 30,293 بچے قتل کیے گئے جبکہ 5,298 اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں اور 225 ایسے بھی ہیں جو جیلوں میں تشدد سہتے ہوئے دم توڑ گئے۔ یہ المیہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہا۔ دارالحکومت دمشق کی گلیوں سے لے کر حلب کے کھنڈرات تک، حماہ کے محلوں سے لے کر ادلب کے کیمپوں تک، ہر جگہ ایک ہی سوال گونجتا ہے: ہمارا بچہ کہاں ہے؟ کئی خاندانوں کے بچے اس وقت لاپتہ ہوئے جب سیکورٹی فورسز نے گھروں پر چھاپے مارے، بعض کو چیک پوسٹوں سے اٹھایا گیا اور کچھ اپنے والدین کے ساتھ گرفتار ہو کر ایسے حراستی مراکز میں لے جائے گئے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔
اسد حکومت نے جبری گمشدگی کو بطور ہتھیار استعمال کیا تاکہ عوام میں خوف پیدا ہو اور ہر آواز کو خاموش کیا جا سکے۔ ہزاروں بچوں کو قید کیا گیا مگر ان کے بارے میں کوئی سرکاری ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا اور کئی کیسز میں برسوں بعد اچانک یہ اطلاع دی گئی کہ وہ مر چکے ہیں بغیر لاش، بغیر وضاحت۔اس ظلم کا ایک اور تاریک پہلو یتیم خانوں اور سرکاری اداروں کا کردار ہے۔ متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بچوں کو والدین سے جدا کر کے ایسے اداروں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت بدل دی گئی۔ ان کے نام تبدیل کیے گئے، خاندانی ریکارڈ مٹا دیا گیا اور یوں ایک بچے سے اس کی پوری پہچان چھین لی گئی۔ یہ صرف جسمانی قید نہیں تھی بلکہ ایک ایسی سماجی موت تھی جس میں بچہ زندہ ہوتے ہوئے بھی اپنی اصل سے کٹ جاتا ہے۔ بعض خاندانوں نے برسوں بعد اپنے بچوں کی جھلک دیکھی مگر اس وقت تک وہ انہیں پہچاننے کے قابل بھی نہ رہے۔تاہم یہ المیہ صرف بشار کی حکومتی فورسز تک محدود نہیں رہا۔ شام کی جنگ میں شامل مختلف ملیشیاو¿ں نے بھی بچوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا۔ داعش نے بچوں کو اغوا کر کے انہیں جنگجو بنانے کی منظم مہم چلائی جبکہ دیگر مسلح گروہوں پر بھی بچوں کی جبری بھرتی اور حراست کے الزامات عائد ہوئے۔ ملیشیاو¿ں نے بھی اغوا اور گمشدگی کے واقعات میں حصہ ڈالا جس کے نتیجے میں پورا ملک ایک ایسی جگہ بن گیا جہاں کوئی بھی بچہ محفوظ نہیں رہا۔
یوں شام کے ہر خطے میں بچوں کی گمشدگی ایک مشترکہ سانحہ بن گئی۔جنگ سے فرار ہونے والے خاندانوں کی داستان بھی کم اذیت ناک نہیں۔ ہزاروں بچے اپنے والدین کے ساتھ بحیرہ روم کے خطرناک راستوں سے یورپ جانے کی کوشش میں لاپتہ ہو گئے۔ کچھ کشتیاں ڈوب گئیں۔ ایلان کردی جیسی داستانوں نے ہر آنکھ کو اشکبار کردیا۔ کچھ بچوں کو انسانی اسمگلروں نے بیچ دیا اور کچھ راستوں میں ہی بچھڑ گئے۔ ان بچوں کا کوئی ریکارڈ نہیں، کوئی قبر نہیں اور نہ ہی کوئی سراغ، وہ گویا زمین نے نگل لیے ہوں۔2024 ءکے بعد جب بشارالاسد کا اقتدار ختم ہوا اور ایک نئی حکومت سامنے آئی تو امید کی ایک کرن پیدا ہوئی۔ نئی قیادت نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان کیا، جیلیں کھولی گئیں اور قیدی رہا کیے گئے۔
بعض خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات ملیں اور کچھ بچوں کا سراغ بھی ملا مگر یہ کامیابیاں محدود رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں کیسز اب بھی ایسے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، کئی قبریں اجتماعی ہیں جن کی شناخت ممکن نہیں اور بہت سے گواہ یا تو مارے جا چکے ہیں یا خوف کے باعث خاموش ہیں۔اس تمام صورتحال میں سب سے اذیت ناک پہلو وہ نفسیاتی کرب ہے جو ان خاندانوں پر گزرتا ہے جن کے بچے لاپتہ ہیں۔ یہ ایسا غم ہے جسے نامکمل سوگ کہا جاتا ہے، نہ موت کا یقین، نہ زندگی کی اُمید۔ ایک ماں ہر دروازے پر دستک دیتی ہے، ہر چہرے میں اپنے بچے کو تلاش کرتی ہے اور ہر خبر پر دل تھام کر بیٹھ جاتی ہے۔ ایک باپ اپنی بے بسی کو چھپاتے ہوئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے مگر وقت کے ساتھ امید اور مایوسی کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔میّ کہاں ہے؟ یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ یہ صرف ایک بچی کا نام نہیں بلکہ شام کے ہزاروں لاپتہ بچوں کی مشترکہ آواز ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو اگر زندہ ہوتے تو آج اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ ڈال رہے ہوتے مگر ان کی جگہ ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پُر نہیں ہوسکا۔ جب تک ان بچوں کا سراغ نہیں ملتا، جب تک ان کے خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا اور جب تک ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہوتا، تب تک شام کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ یہ زخم ابھی بھی رس رہا ہے اور انصاف ابھی بھی منتظر ہے۔ مظلوم والدین کا مطالبہ ہے کہ گرفتار مجرموں سے کسی نہ کسی طریقے سے سچ اگلوایا جائے تاکہ ان کے دل کو قرار آئے۔