دوسری قسط:
مغربی فلسفہ آج ہمارے معاشرے میں کس حد تک دخیل ہے اور اس کے پیروکار اسلامی فلسفہ حیات کو اجتماعی نظام سے بے دخل کرنے کے لیے کن کن مورچوں سے ہم پر حملہ آور ہیں؟ اس کے عملی نقشہ پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لیے واقعات کی ایک ترتیب پیش خدمت کی جا رہی ہے جس سے اس نقشہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
٭پاکستان کے دینی حلقوں کی جدوجہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کا اعلان کرنے والی قرارداد مقاصد، اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے کی دفعہ اور تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دستور پاکستان میں شامل ہے۔ لیکن ان کے باوجود نوآبادیاتی نظام ملک میں تسلسل کے ساتھ موجود ہے اور اسے نہ صرف آ ئینی تحفظ حاصل ہے بلکہ جب بھی اس نظام کے کسی بنیادی حصہ کو اپنی جگہ سے ہلانے کی کوشش ہوتی ہے پورا اجتماعی نظام اس کی حفاظت کے لیے مستعد ہوجاتا ہے۔
٭ 1987ء میں امریکا نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے جو شرائط پیش کیں اور جن کے پورا نہ ہونے کے باعث یہ امداد بدستور بند چلی آرہی ہے، ان میں ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور منشیات کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے منافی قوانین نافذ نہ کرنے، اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین ختم کرنے اور قادیانیوں کے جداگانہ تشخص کے لیے کیے گئے اقدامات کو رول بیک کرنا بھی شامل ہے۔ انسانی حقوق کے منافی قوانین سے مراد مغرب کی نظر میں سنگسار کرنے، ہاتھ کاٹنے، کوڑے لگانے اور مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کے قرآنی احکام ہیں جس کی قانونی تشریح کی ایک جھلک ہم پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں گزشتہ دو سال کے دوران ہونے والی اس بحث کے حوالہ سے دیکھ چکے ہیں کہ مجرم کو کھلے بندوں سزا دینا انسانی حقوق کے منافی ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین سے مراد جداگانہ الیکشن کا قانون ہے جسے ختم کرانے کے لیے مغربی لابیاں اس وقت اپنا پورا زور صرف کر رہی ہیں۔
٭قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کے لیے ”شریعت بل” کے عنوان سے ملک گیر تحریک چلی۔ اس کے لیے تمام مکاتب فکر نے مشترکہ مہم کا اہتمام کیا، سینٹ آف پاکستان نے ایک مرحلہ پر اسے منظور بھی کر لیا لیکن قومی اسمبلی میں منظوری کے فیصلہ کن مرحلہ میں اس کا کیا حشر ہوا؟ یہ اسلامائزیشن کی تاریخ کا ایک دلخراش باب ہے۔ قرآن و سنت کی بالادستی کو سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کے متاثر نہ ہونے کی شرط کے ساتھ مشروط کر کے مغربی فلسفہ کی جے (بالادستی) کا اعلان کر دیا گیا اور پاکستان میں متعین امریکی سفیر نے اس پر کھلے بندوں اطمینان کا اظہار کر کے ان زیر زمین کہانیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی جو شریعت بل کو سبوتاژ کرنے کے حوالہ سے امریکی سفارت خانہ کی درون خانہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
٭قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئی امت کی حیثیت دے کر ان کے جداگانہ تشخص کے تعین کے لیے کیے گئے آ ئینی و قانونی اقدامات پر مغربی لابیوں نے انسانی حقوق کے نام سے الگ شور مچا رکھا ہے اور جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے ان اقدامات کو قادیانیوں کے انسانی حقوق کے منافی قرار دینے کے علاوہ یہ مسئلہ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ایجنڈے پر اس وقت بھی موجود ہے۔
٭شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ دستور پاکستان کے بعض بنیادی فیصلوں کا ناگزیر تقاضہ ہے لیکن مغرب کے مسلسل دباؤ نے اس کا راستہ روک رکھا ہے۔
٭وفاقی شرعی عدالت نے سود سے تعلق رکھنے والے قوانین کو غیرشرعی قرار دے کر ان کے خاتمہ کے لیے وفاق پاکستان کو ایک متعین وقت دے دیا مگر یہ مغربی ممالک اور لابیوں اور ذرائع ابلاغ کا مسلسل پراپیگنڈا اور دباؤ ہی تھا جس نے حکومت پاکستان کو اس فیصلہ پر عملدرآمد سے روکا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے پر مجبور کر دیا۔
٭توہین رسالت دنیا کے ہر مذہب میں ناقابل معافی جرم ہے۔ خود بائبل میں مذہبی پیشوا کی توہین پر موت کی سزا کا حکم ہے اور اسلام بھی گستاخ رسولۖ کے لیے موت کی سزا کا قانون پیش کرتا ہے۔ لیکن جب سے پاکستان میں یہ قانون نافذ ہوا ہے مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیاں اس کے خلاف مسلسل حرکت میں ہیں اور اسے انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مغربی ممالک کا دورہ کرنے والے پاکستانی راہ نماؤں کے وفد کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تحریری طور پر جو مطالبات دیے ہیں ان میں آٹھویں آ ئینی ترمیم، جداگانہ انتخاب اور گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کے قانون کا خاتمہ شامل ہے بلکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان شرائط و مطالبات کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کر کے اس سلسلہ میں اپنے دباؤ کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
٭آٹھویں آئینی ترمیم کا خاتمہ مغربی لابیوں کی محنت کا ایک مستقل موضوع ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ آئینی ترمیم وفاقی شرعی عدالت، جداگانہ الیکشن کے قانون، امتناع قادیانیت آرڈیننس، حدود آرڈیننس اور دیگر اسلامی قوانین کو دستوری تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس ترمیم کے خاتمہ سے ان تمام امور کے خاتمہ کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
٭ذمہ دار حلقوں کا یہ انکشاف بھی صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چند سال قبل ملک میں شروع کی جانے والی مسجد مکتب اسکیم کا تعلیمی پروگرام بھی امریکی دباؤ کے تحت ختم کیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس طرح نئی نسل مولوی کے زیر اثر آ کر بنیاد پرست ہو جائے گی۔
یہ ہے اس مسلسل اور مربوط محنت کی ایک جھلک جو ہمارے معاشرہ پر مغربی فلسفہ کی گرفت کو قائم رکھنے اور مستحکم کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے۔ اس محنت کے پیچھے امریکا ہے، پورا مغرب ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ہیں۔ انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں ہیں، پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے محافظ طبقے ہیں، اسلامی نظام کے نفاذ سے اپنے مفادات کو خطرہ محسوس کرنے والے طاقتور گروہ ہیں اور قومی زندگی کے مختلف اجتماعی شعبوں میں اہم حیثیت رکھنے والے افراد ہیں۔ ان سب کی مشترکہ تگ و دو کے اس نتیجہ کو ایک واقعی حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ دینی حلقے جو 1947ء کے بعد سے 1984ء تک اسلامائزیشن کے محاذ پر سست رفتار سہی مگر کچھ نہ کچھ پیش رفت کرتے دکھائی دے رہے تھے اب دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں اور اس دفاعی لائن کے پیچھے بھی ان کی صفوں میں اشتراک و اتحاد نہیں ہے، ترتیب نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہے، مسائل کے ادراک و تجزیہ کا ذوق نہیں ہے اور ترجیحات کو درست کرنے کا احساس نہیں ہے۔ (جاری ہے)

