اوپیک ممالک ذرا سوچیں

متحدہ عرب امارات بھی ”اوپیک ممالک” میں شامل۔ 59سال بعد اب متحدہ عرب امارات”اوپیک” سے نکل چکا ہے۔ اس کے محرکات اور مضمرات پر روشنی ڈالنے سے قبل اوپیک کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ اس کی اہمیت کا کماحقہ اندازہ ہوسکے۔ 1959ء میں وینزویلا نے ایران، عراق، کویت اور سعودی عرب کی مدد سے ایک تنظیم اوپیک تشکیل دی۔ ستمبر 1960ء میں ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینزویلا نے بغداد میں ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں اپنے اپنے ملک میں ہونے والی تیل کی پیداوار کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اوپیک نے مزید ممالک کو بھی اپنی تنظیم کا ممبر بنایا جن میں قطر کو 1961ء میں، انڈونیشیا اور لیبیا کو 1962ء میں، ایکواڈور کو 1963ء میں، متحدہ عرب امارات کو 1967ء میں، الجیریا کو 1969ء میں جبکہ نائیجیریا کو 1971ء اور گیبون کو 1975ء میں شامل کیا گیا لیکن ان ممالک میں سے ایکواڈور کو 31دسمبر 1992ء اور گیبون کو جنوری 1996ء کو نکال دیا گیا تاہم ایکواڈور کو نومبر 2007ء میں دوبارہ رکنیت دے دی گئی ہے۔

مارچ 1998ء سے عراق اوپیک تنظیم کے کوٹے کے مطابق تیل کی پیداوار نہیں کررہا ہے لیکن اس کے باوجود اوپیک تنظیم نے عراق کو ابھی تک ممبر بنایا ہوا ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے 12ممالک سعودی عرب، ایران، وینزویلا، امارات، نائیجیریا، کویت، لیبیا، انڈونیشیا، الجزائر، قطر، عراق اور ایکواڈور کے ممبر ہیں۔ اوپیک کا 90فیصد تیل امریکا، یورپ اور جاپان خریدتے ہیں۔ 1985ء کے تخمینے کے مطابق اوپیک ممالک کے پاس دنیا کے تیل کے کل ذخائر کا دوتہائی تیل موجود ہے۔ جس وقت میں اس تنظیم سے متعلق ریسرچ کر رہا تھا تو بعض باتیں مجھے بہت ہی عجیب معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ دنیا میں تیل پیدا کرنے والے سات بڑے ممالک ہیں لیکن ان کے تیل کی ترسیل اور فروخت کرنے والی سات بڑی کمپنیاں غیرمسلم ہیں جو براہِ راست یہودی سرمایہ داروں کے کنٹرول میں ہیں۔ امریکا کی ایکس موبائل۔ ہالینڈ کی ”رائل ڈچ شیل”۔ برطانیہ کی ”بی پی اموکو”۔ فرانس کی ”ٹوٹل فینا”۔ امریکا کی ”شیورون ٹیکساکو”۔ اٹلی کی ”ای این آئی”۔ روس کی ”یوکوس اور سیبنفٹ”۔ یہی درجن بھر یہودی کمپنیوں کا ٹولہ ہے جو امریکا کو کبھی عراق میں کھینچ لاتا ہے تو کبھی ایران پر شب خون کے لیے تیار کرتا ہے۔میرے سامنے اس وقت بھی تبوک کے قریب واقع ایک یہودی کمپنی ”آرامکو” کی تصاویر ہیں جو مسلمانوں کی سرزمین سے کشید کردہ آبِ حیات امریکا منتقل کرتی ہے۔ بعدازاں یہ تیل سامراجی ممالک میں پہنچ کر ان طیاروں میں بھرا جاتا ہے جس سے عالمِ اسلام کے مظلوم مسلمانوں پر بارود برسایا جاتا ہے۔ جب میں کسی تصویر میں دیکھتا ہوں کسی مسلمان ملک کی بندرگاہ پر موجود استعماری ممالک کے ٹینکروں میں کوڑیوں کے دام خریدا ہوا تیل بھرا جارہا ہے تو بے ساختہ میری زبان پر یہ جملے آجاتے ہیں ”امریکا عالمِ اسلام میں تیل کے بدلے خون کی سیاست کر رہا ہے۔” جس وقت میں کسی یہودی کا ترتیب دیا ہوا ایسا نقشہ اور خاکہ دیکھتا ہوں جس میں مسلمان علاقوں کے حصے بخرے کیے ہوتے ہیں تو میرے ذہن میں فوراً جنگِ عظیم دوم کے بعد کے حالات آجاتے ہیں اور یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد جزیرة العرب کو 12حصوں میں کیوں تقسیم کیا گیا تھا؟ عالمی حالات کو مدنظر رکھ کر ذرا سوچیے!

کیا اب عالمِ اسلام کے مزید ٹکڑے ہونے والے ہیں؟ کیا مسلمان یونہی لوٹے جاتے رہیں گے؟ کیا عالمِ اسلام مغلوب ہی رہے گا؟ کیا یونہی امریکا کے تمام صدور ”فرینکلن روز ویلٹ” کا روپ دھار دھار کر مشرقِ وسطیٰ میں تیل کے ذخائر کی بو سونگھتے رہیں گے؟ کیا یونہی تیل صاف کرنے اور ترسیل کے لیے ٹھیکے یہودی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس رہیں گے؟ کیا یونہی سیکیورٹی کے نام پر سامراجی فوجیں عالمِ اسلام کے تیل کی دولت سے لبالب بھرے کنوئوں کا حصار کیے رکھیں گی؟ کیا یونہی امریکی صدر کے اردگرد منڈلاتا 32یہودیوں کا ٹولہ عالمِ اسلام کے ایک ایک ملک پر حملے کے لیے کان بھرتا رہے گا؟ کیا عالمِ اسلام یونہی بے حسی، بے توجہی اور خانہ جنگی کی کیفیت سے دوچار رہے گا؟ یہ اور اس طرح کے بیسیوں تشنہ سوالات میرے ذہن کلبلانے لگتے ہیں۔امریکا کی ہوس اور لالچ کی انتہا تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں خواہ وہ مشرقِ وسطیٰ ہو یا افریقہ کے ممالک، جہاں کہیں بھی معدنی ذخائر، ہیرے جواہرات اور سونے کی کانوں کی بو بھی آتی ہے تو یہ حریص طاقتیں اس خطے کی حکومتوں کو جکڑنے کے لیے ہر طرح کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیتی ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا 2002ء میں امریکی صدر بش نے افریقہ کے پانچ ممالک کا دورہ فلاحی مقاصد کی آڑ میں کیا تھا۔ اس وقت عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے غیرجانبدار مبصرین نے کہا تھا: ”صدر بش کا یہ دورہ تیل کے حصول کے لیے ہی ہے”۔ امریکا کی حرص وہوس کی حالت یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ملک ذرا بھی چوں چرا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کبھی خوفناک ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر خاک وخون میں تڑپادیتا ہے تو کبھی نائن الیون جیسے خود ساختہ ڈرامے کے ذریعے۔ تیل کی دولت پر قبضے کے لیے سامراج کبھی انسانوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے والے ہتھیاروں اور کبھی دہشت گردوں کی آماجگاہ کے بہانے حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی جمہوریت کا خون کرکے آمریت کو شہ دیتا ہے تو کہیں بادشاہت کو ختم کرکے اپنے کٹھ پتلی حکمران کو شوپیس کی طرح سجاتا ہے۔ کبھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اسلحہ تقسیم کروا کر خانہ جنگی کرواتا ہے تو کبھی اس کے عوام کو بغاوت پر اُکساتا ہے۔ 1975ء میں شاہ فیصل کا قتل ہو یا 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کا۔ یاسر عرفات کی پُراسرار موت ہو یا ضیاء الحق کو منظر سے ہٹانے کا معمہ۔ ان سب کے پیچھے یہی صنم نظر آتا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے مسلم ممالک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا کرنے میں استعماری قوتیں اس لیے ملوث نظر آتی ہیں کہ انہیں مداخلت کا موقع ہاتھ آسکے۔ عراق میں صدام حسین کو تھپکی دے کر کویت پر حملہ کروانے کے لیے امریکا نے اُکسایا۔ پھر کویت اور سعودی عرب کے دفاع کا بہانہ بناکر وہاں اپنی فوجیں داخل کردیں۔ وسیع پیمانے پر امریکا کو تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ ایک طرف تو یہ صورتِ حال ہے جبکہ دوسری طرف تیل برآمد کرنے والے ممالک کی اتنی پتلی حالت ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نہ تو قیمت بڑھاسکتے ہیں اور نہ ہی تیل زیادہ نکال سکتے ہیں۔ یعنی مقدار اور معیار دونوں کے پابند ہیں۔ اگر اوپیک ممالک تیل کی مقدار اور قیمت پر کسی عالمی طاقت کے دبائو میں نہ آئیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دو تہائی دولت مسلمان ملکوں میں رکھی ہے، اس کے باوجود وہ ہر جگہ پٹ رہے ہیں۔ بیش بہا خزانوں کے باوجود اکثر مسلم ممالک پسماندہ ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو تیل کی دولت اپنے عوام کی تعلیم اور صحت کے ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول پر خرچ کرنی چاہیے۔ اپنے ممالک میں جدید ترین انفارمیشن اور سائنسی علوم پر مشتمل یونیورسٹیاں قائم کرنی چاہییں۔ انسانی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے نئی نئی تحقیقات اور ایجادات کے ساتھ عسکری قوت تیار کرنے پر خرچ کرنی چاہیے۔ صرف یہی نہیں برادر پڑوسی ممالک میں غربت اور جہالت کے خاتمے کے لیے بھی صرف کی جانی چاہیے لیکن سب سے افسوس ناک صورتِ حال تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی وہ دولت جو عالمِ اسلام کی کایا پلٹ سکتی تھی آج وہ دشمنوں کے گھر روشن کررہی ہے۔ مسلمانوں کو تیل کی تلچھٹ کے علاوہ چونکہ کچھ ہاتھ نہیں آرہا اسی لیے وہ ناخوندگی اور پسماندگی کا شکار ہیں اور ان کے دست ِنگر ہیں۔ عالم اسلام کی تعلیمی حالت تو یہ ہے کہ دنیا کی 200بہترین یونیورسٹیز میں عالمِ اسلام کی کسی ایک بھی یونیورسٹی کا نام شامل نہیں۔