ہرمز، ایک عظیم عرب مملکت کی کہانی جسے پرتگالیوں نے ختم کیا

رپورٹ: علی ہلال
اٹھائیس فروری کو امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عالمی میڈیا کا اہم ترین موضوع بن چکا ہے۔ بحر عرب سے دائیں مشرق میں ایران اور مغرب میں سلطنت عمان کے درمیان واقع سمندر میں تنگ گزرگاہ کو آبنائے ہرمز کہاجاتاہے، جس میں ایران کے ساتھ سلطنت عمان کا بھی حصہ ہے لیکن جنگ کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول عائد کرکے ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کیا ہے؟ کم لوگ جانتے ہیں کہ ہرمز خلیج کے مشرقی کنارے واقع ایک قدیم عرب سلطنت تھی جس کے نام سے یہ جگہ موسوم ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج کے اہم تجارتی راستے پر واقع صرف ایک سمندری گزرگاہ ہی نہیں تھی جہاں سے دنیا بھر کے لیے سامان لے جانے والے جہاز گزرتے تھے، بلکہ ہرمز ایک طاقتور اور خوشحال عرب مملکت کا مرکز بھی تھا۔ اس مملکت نے اپنے دور میں غیرمعمولی ترقی اور مذہبی رواداری کی مثال قائم کی، جس نے مسلمان اور مغربی سیاحوں کو یکساں طور پر متاثر کیا۔ تاہم، پندرہویں صدی عیسوی میں پرتگالیوں کے ہاتھوں اس کا خاتمہ ہوگیا۔مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفر کے دوران ہرمز کے نام سے دو مختلف شہروں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایک ’پرانا ہرمز‘ تھا جو سمندر کے کنارے واقع تھا اور اسے موغستان بھی کہا جاتا تھا جبکہ دوسرا ’نیا ہرمز‘ سمندر میں ایک جزیرے پر قائم تھا۔ دونوں کے درمیان تقریباً تین فرسخ کا فاصلہ تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق ہرمز کے حکمران عرب النسل تھے۔ ایک روایت جو ہرمز کے حکمران توران شاہ سے منسوب ہے بیان کرتی ہے کہ اس مملکت کی بنیاد ایک عرب حکمران ’محمد‘ نے رکھی جو عمان پر حکمرانی کرتا تھا۔ ابتدائی دور میں اس حکمران نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے کا اِرادہ کیا۔ اس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا اور بتایا کہ فارس کے ساحلی علاقے اس کے آباو¿ اجداد کی ملکیت تھے جو وقت کے ساتھ ضائع ہوگئے۔ چنانچہ اس نے انہیں دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ روایت کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک بڑی مہم تیار کی گئی۔ حکمران اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمان سے روانہ ہوا اور سب سے پہلے قلہات پہنچا جو ایک اہم بندرگاہ تھی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کو وہاں تعینات کیا اور خود مزید فوج کے ساتھ سمندر کے راستے فارس کے ساحل کی طرف روانہ ہوا۔ آخرکار وہ اس مقام پر پہنچے جہاں بعد میں ہرمز کی مملکت قائم ہوئی۔ یہاں انہوں نے قیام کیا، مکانات تعمیر کیے اور ایک منظم اور خوشحال ریاست کی بنیاد رکھی جو بعد میں خطے کی ایک بڑی تجارتی طاقت بن گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر و نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار سے ملاقات
مختلف روایات کے مطابق اس بادشاہ کا تعلق یا تو یمن کے قدیم حکمرانوں سے تھا یا جزیرہ عرب کے کسی شاہی خاندان سے تاہم مملکت کے قیام کی درست تاریخ واضح نہیں۔ مسلسل بدو حملوں، قزاقی اور منگول (تتار) یلغاروں کے باعث پرانا ہرمز غیرمحفوظ ہوگیا جس کے نتیجے میں حکمران شہاب الدین نے آبادی کو ایک قریبی جزیرے منتقل کردیا جہاں نئے ہرمز کی بنیاد رکھی گئی۔ چودہویں صدی میں قائم ہونے والی یہ نئی ریاست محدود وسائل کے باوجود اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے عالمی تجارت کا اہم مرکز بن گئی۔ یہاں سے تجارت دو بڑے راستوں سے گزرتی تھی۔ ایک بحیرہ احمر کے ذریعے مصر تک اور دوسرا خلیج کے راستے بصرہ، حلب اور شام تک۔وقت کے ساتھ مملکتِ ہرمز نے عملی طور پر خودمختاری حاصل کرلی، اگرچہ وہ فارس کو سالانہ خراج ادا کرتی تھی۔ اس کا اثر و رسوخ بحرین، قطیف اور عمان کے بعض علاقوں تک پھیل گیا۔جزیرے کی آبادی تقریباً چالیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی جس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، یہودی اور عیسائی بھی شامل تھے جو اس کے تجارتی اور کثیر الثقافتی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ ابن بطوطہ نے ہرمز کو ایک بڑی اور خوبصورت تجارتی منڈی قرار دیا جہاں سے ہندوستان اور سندھ کی اشیا عراق، فارس اور خراسان تک پہنچتی تھیں۔ پندرہویں صدی میں شاہی خاندان کے اندرونی اختلافات نے مملکت کو کمزور کردیا۔ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبائل اور مقامی طاقتیں خصوصاً بنوجبر، ہرمز کی عملداری سے نکلنے لگیں اور بحرین، احساءاور قطیف جیسے اہم علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اسی دوران مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان کشمکش بڑھ گئی جس نے مملکت کی بنیادیں مزید ہلا دیں۔
مزید پڑھیں: شام سے امریکی افواج کا تاریخی انخلا
پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کے آغاز میں پرتگالی خلیج میں داخل ہوئے۔ پرتگالی کمانڈر ’الفونسو دی البوکیرک‘ نے مسقط اور دیگر بندرگاہوں پر حملے کیے اور بالآخر ہرمز کا محاصرہ کرلیا۔ ابتدا میں مذاکرات ہوئے مگر بعد میں پرتگالیوں نے طاقت کے ذریعے اپنی شرائط منوا لیں جن میں خراج اور جزیرے پر قلعہ تعمیر کرنا شامل تھا۔ کمزور حکمران سیف الدین اس مزاحمت کے قابل نہ تھا اور اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ بعدازاں پرتگالیوں نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کی اور مختلف مقامات پر قلعے قائم کیے جبکہ مقامی آبادی پر سخت ٹیکس عائد کیے گئے۔ پرتگالی قبضے کے دوران سختیاں اور بدانتظامی بڑھتی گئیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی نے بغاوت کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہی۔ اس کے بعد ہرمز کی مقامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور لوگ بڑی تعداد میں جزیرہ چھوڑ کر دیگر علاقوں میں منتقل ہو گئے۔ پرتگالی حکمرانی کے دوران وہ شاندار تجارتی نظام بھی تباہ ہوگیا جس نے ہرمز کو دو صدیوں تک ایک عظیم اقتصادی مرکز بنائے رکھا تھا۔ بعدازاں ایران کے صفوی حکمران اسماعیل نے پرتگالیوں کے ساتھ معاہدہ کرکے دونوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف ہرمز اور گوادر کا تبادلہ کیا، یوں ہرمز ایران کے قبضے میں چلا گیا۔ہر مز کی کہانی ایک ایسی عرب مملکت کی داستان ہے جو اپنے محلِ وقوع، تجارت اور رواداری کے باعث عروج پر پہنچی مگر اندرونی اختلافات اور بیرونی حملوں کے باعث بالآخر تاریخ کا حصہ بن گئی۔