رپورٹ: علی ہلال
اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والی غزہ جنگ ہو ،لبنان پر اسرائیلی جارحیت ہو یا اٹھائیس فروری کا ایران پر امریکا اسرائیل حملہ، ان تمام واقعات نے عالمی سطح پر دنیا کی حالیہ نظام پر عوام کا عقیدہ متزلزل کردیا ہے۔ بالخصوص حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی پیش رفت اور اس کے ساتھ آنے والے جیوپولیٹیکل جھٹکوں اور معاشی مشکلات نے اس ڈھانچے کی کمزوری کو بے نقاب کردیا ہے جس نے کئی دہائیوں تک بین الاقوامی تعلقات کو کنٹرول کیا۔
ایک موقر معاصر عرب جریدے نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اب بحران الگ الگ نہیں رہے اور نہ ہی روایتی طریقوں سے قابو میں آرہے ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے سے جڑ کر ایسا اثر پیدا کررہے ہیں جو جغرافیائی حدود سے نکل کر پورے عالمی نظام کو متاثر کررہا ہے۔ اس تناظر میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ ہم ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کثیر قطبی (متعدد ممالک پر مشتمل) نظام بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور شاید ایک زیادہ بے ترتیبی اور عالمی انتشار کا زمانہ شروع ہورہا ہے۔

اس تبدیلی کے دوران ’کثیر قطبیت‘ کے تصور پر بحث ناگزیر ہوگئی ہے۔ کیا یہ صرف بین الاقوامی تعلقات کی ایک نظریاتی تعبیر ہے یا ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی بنیاد؟ حقیقت یہ ہے کہ اس تصور کی کوئی متفقہ تعریف موجود نہیں حتیٰ کہ ان ممالک کے درمیان بھی نہیں جو اس کے حامی ہیں، جو مختلف نقطہ نظر اور مفادات کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکا جو 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد واحد عالمی طاقت رہا، کثیر قطبیت کو اپنی اسٹریٹجک برتری کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس روس اور چین اسے امریکی اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، تاہم دونوں کے طریقہ کار مختلف ہیں: روس تیز تبدیلی چاہتا ہے جبکہ چین تدریجی راستہ اپناتا ہے۔ بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ جیسی طاقتیں اسے اپنی خارجہ پالیسی کے دائرہ کار کو بڑھانے اور عالمی نظام میں اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھتی ہیں۔ یورپ اس تصور کو مسترد کرنے کے بجائے اس کی نئی تشریح کی ضرورت محسوس کرتا ہے، خاص طور پر بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں کے درمیان تجارتی اور یوکرین جنگ کے حوالے سے بڑھتے اختلافات کے بعد۔
یہ بھی پڑھیں:
کثیر قطبیت ایک فکری فریم ورک تو فراہم کرتی ہے لیکن یہ مختلف سیاسی اور اقتصادی مفادات سے بھی بھری ہوئی ہے، جس سے اس کے نتائج غیریقینی ہوجاتے ہیں۔ اس لیے صرف نظری بحث کافی نہیں بلکہ تجارت، صحت، توانائی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں عملی اصلاحات ضروری ہیں۔ عالمی نظام میں تبدیلی کے لیے نئے مذاکراتی میکانزم کی ضرورت ہے۔دنیا میں امیر اور غریب معاشروں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج عالمی نظام کی پیچیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے جہاں درمیانی طبقات اوپر جانے کی کوشش اور نیچے گرنے کے خوف کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔صنعتی اور تکنیکی تبدیلیوں کے باعث دنیا تیزی سے بدل رہی ہے لیکن اس بارے میں اتفاق نہیں کہ یہ تبدیلی کس سمت جا رہی ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا پہلے ہی کثیر قطبی ہو چکی ہے جبکہ بعض دیگر کا خیال ہے یہ اس طرف بڑھ رہی ہے،جبکہ کچھ اسے ایک غیریقینی عبوری دور سمجھتے ہیں۔
روس اور چین اس تصور کو عالمی طاقت کے توازن کو بدلنے اور امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ چین کے مطابق دنیا ’ایک صدی کی سب سے بڑی تبدیلی‘ سے گزر رہی ہے۔روس کے مطابق مغرب کی برتری کمزور ہو رہی ہے اور ایک نیا کثیر قطبی نظام ابھر رہا ہے۔ ان دونوں ممالک کے برعکس امریکا سرکاری سطح پر کثیر قطبیت کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے اور قیادت یا برتری جیسے الفاظ کو ترجیح دیتا ہے، اگرچہ بعض حلقے اس تبدیلی کو تسلیم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انسانی معاشرہ جو تقریباً آٹھ ارب افراد پر مشتمل ہے ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ وہ بین الاقوامی نظام جو دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پایا تھا اور جس کا مقصد پائیدار امن قائم کرنا تھا، اب بتدریج اپنی ہم آہنگی کھو رہا ہے۔
کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ 1945ء کے بعد بعض ممالک نے ایک ایسا عالمی نظام قائم کرنے کی کوشش کی جو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مبنی ہو۔ یہ قانون مختلف معاہدات، چارٹرز، روایات اور عمومی اصولوں پر مشتمل ہے جس کا مقصد جنگوں کو روکنا اور طاقت و دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو محدود کرنا تھا۔ اگر اس نظام کا احترام کیا جاتا تو یہ ایک ایسے عالمی نظام کی ضمانت دیتا جہاں انصاف اور مساوات غالب ہوتے اور حقوق کی حفاظت کی جاتی، نہ کہ ان کی خلاف ورزی۔تاہم حالیہ برسوں خصوصاً موجودہ دور میں یہ صورتحال تیزی سے بگڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اب صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی بلکہ بعض طاقتیں کھل کر اس نظام کو چیلنج کر رہی ہیں اور دنیا کو مکمل غلبے اور غیرمحدود توسیع کے منطق کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یوکرین سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک جاری تنازعات اس قانونی ڈھانچے پر پڑنے والے دباو کو واضح کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان اداروں کے وجود اور مو¿ثریت کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے جو اس نظام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
یہ صورت حال بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ بین الاقوامی قانون اب براہِ راست ہدف کیوں بن گیا ہے؟ بڑی طاقتیں اس سے کیا خوف رکھتی ہیں؟ اور اس کے دفاع کی ضرورت اس وقت کیوں زیادہ شدت اختیار کر گئی ہے؟اس کا جواب واضح ہے۔ بین الاقوامی قانون طاقت کے بے لگام استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ یہ توسیع کو محدود کرتا ہے، وسائل پر غیرقانونی قبضے کو روکتا ہے اور احتساب کے ذرائع فراہم کرتا ہے خواہ وہ ابھی مکمل طور پر موثر نہ بھی ہوں یا یکساں طور پر نافذ نہ کیے جاتے ہوں۔اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی قانون آج بھی زندہ ہے بلکہ شاید پہلے سے زیادہ عالمی مباحث میں موجود ہے۔ تمام تر بحرانوں اور خلاف ورزیوں کے باوجود بین الاقوامی قانون اور خصوصاً 1948ء میں منظور ہونے والے عالمی اعلامیہ برائے حقوقِ انسانی کے احترام کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اصولی دستاویزات میں دوبارہ روح پھونکی جائے تاکہ یہ ایک ایسی مضبوط رکاوٹ بن سکیں جو دنیا کو مکمل انارکی یا طاقتور کی حکمرانی کی طرف جانے سے روک سکیں۔لیکن صرف بین الاقوامی قانون سے وابستگی کافی نہیں، اگر اس کے ساتھ ایک نئے عالمی نظام کے قیام کے لیے عملی اور مسلسل کوشش نہ کی جائے۔ بصورت دیگر دنیا ایک ایسے نظام میں قید رہے گی جہاں قواعد کمزور ہوتے جارہے ہیں اور سیاست ایک کھلے اور بے ضابطہ تصادم میں بدل رہی ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ دنیا اس وقت نو ایٹمی طاقتوں کے سائے میں موجود ہے۔ فرانسیسی ماہر قانون آنییس کالامار، جو انسانی حقوق کے دفاع میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ہیں، کہتی ہیں: ’اگرچہ یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ موجودہ عالمی نظام ابھی تک اپنے وعدے پورے نہیں کرسکا لیکن ان لوگوں کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے محض ایک وہم قرار دیں جو خود اپنے وعدوں سے پھر گئے ہیں‘۔ اس لیے مثالی ضرورت یہ نہیں کہ صرف ایک کثیر قطبی دنیا ہو بلکہ ایک کثیر فریقی (multilateral) عالمی نظام ہو جہاں ہر ملک، چاہے اس کا حجم کچھ بھی ہو، محفوظ وجود اور اپنے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھتا ہو۔ رپورٹ کے مطابق دنیا صرف طاقت کے توازن کی تبدیلی سے نہیں گزر رہی بلکہ اس تبدیلی کی تشریح پر بھی ایک شدید فکری اور سیاسی کشمکش جاری ہے۔ مستقبل کا عالمی نظام اس بات پر منحصر ہوگا کہ ممالک اس تبدیلی کو کس طرح سمجھتے اور اس کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں، کیونکہ اب کوئی ایک مشترکہ عالمی بیانیہ موجود نہیں۔

