بھارتی فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندور کے دوران ہونے والی ہزیمت اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ ایسے بیانات دیے ہیں جنہیں دفاعی ماہرین شکست کا برملا اعتراف قرار دے رہے ہیں۔
جنرل انیل چوہان نے ایک حالیہ تقریب میں اپنی گفتگو کے دوران لڑکھڑاتی آواز میں کہا کہ آنے والے وقت کے چیلنجز ماضی سے مختلف ہوں گے، اس لیے ہمیں پچھلے سندور کو بھول کر اب اگلے سندور کی تیاری کرنی چاہیے۔
ان کے اس بیان سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ بھارتی عسکری قیادت ماضی کی رسوائی کو پسِ پشت ڈال کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندور میں بھارتی فوج کی غیر مؤثر کارکردگی کا ذمہ دار ٹیکنالوجی کی کمی کو ٹھہرایا اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو ہی واحد حل قرار دیا۔
تاہم ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ شکست کا ملبہ صرف ٹیکنالوجی پر ڈالنا حقیقت پسندانہ موقف نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارتی بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان ہم آہنگی کا شدید فقدان ہی اس تاریخی رسوائی کا اصل سبب بنا۔
اب بھارتی چیف کی جانب سے تینوں مسلح افواج کے درمیان اشتراکِ عمل کو بہتر بنانے کی بات کرنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ آپریشن کے دوران بھارتی فورسز ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بٹھانے میں مکمل ناکام رہی تھیں۔
دفاعی ماہرین نے ان بیانات کو غیر پیشہ ورانہ اور بزدلانہ طرزِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تکنیکی پہلوؤں کی آڑ میں اپنی نااہلی کو چھپانا کسی بھی فوج کے لیے شرمناک بات ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، اس لیے اس نوعیت کے بیانات دے کر خود کو حالات کے مطابق موزوں دکھانے کی ایک ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ’اگلے سندور‘ کی بات کرنا صرف اس مقصد کے لیے ہے تاکہ ماضی میں ہونے والی عبرتناک شکست سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
ان بیانات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بھارتی قیادت نے آپریشن سندور کی ناکامی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
تاہم پاکستانی دفاعی حلقوں کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بھارت کی کسی بھی نئی مہم جوئی یا اشتعال انگیزی کا جواب انتہائی سخت، مؤثر اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔

