خلیج کی اس سرزمین پر، جہاں تیزی سے بلند ہوتی عمارتیں ترقی کا استعارہ سمجھی جاتی ہیں، وہیں کچھ قیادتیں ایسی بھی ہیں جو انسان، اس کے شعور اور اس کی تاریخ کو اپنی ترجیحات کا مرکز بناتی ہیں۔
شارجہ (الشارقہ) کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی حفظہ اللہ اسی طرزِ فکر کے نمائندہ ہیں، جن کے ہاں ترقی کا مفہوم محض مادی نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی بھی ہے اور علم و فضل بھی ہے۔ چنانچہ عربی اخبارات کے مطابق چند روز قبل انہوں نے شارجہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگرام الخط المباشر میں ایک دلچسپ اور بامعنی انکشاف کرتے ہوئے نہ صرف شارجہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے پردہ اٹھایا اور تفصیل سے جاری منصوبوں پر روشنی ڈالی، بلکہ اپنے ایک غیر معمولی علمی منصوبے کا بھی انکشاف کیا۔
یہ اندازِ حکمرانی کتنا عظیم ہے کہ حکمران براہِ راست عوام سے مخاطب ہو کر ملک کی تعمیرو ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اپنے وژن کو بیان کرتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان بن محمد کی اس گفتگو میں ایک طرف شہرِ کلباء کے لیے جاری اور مستقبل کے ترقیاتی اور تفریحی منصوبوں کا ذکر تھا، تو دوسری طرف ایک ایسے علمی منصوبے کا اعلان بھی تھا، جو اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہے۔
اگر ہم ترقیاتی منصوبوں کی بات کریں تو شہر کلباء میں قدرتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے جدید سہولیات کی فراہمی، جھیلوں، پہاڑوں اور سبزہ زاروں کو انسان کے قریب لانے کی کوشش۔ یہ سب اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہری زندگی صرف چند یوٹیلٹی سہولیات کی فراہمی کا نام نہیں بلکہ سکون کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ سمندری سیروسیاحت کے لیے”بحیرة الحیار” جیسے منصوبے اور شہرمیں ”متحف کلباء التراثی” (کلباء کلچرل میوزیم) کی تشکیل اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں تفریح اور ثقافت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا جاتا۔ زیرِ آب طرز پر قائم ہونے والا ”مسرح المحارہ” (المحارہ امیوزمنٹ پارک) امیر شارجہ کے اس تخلیقی وژن کی علامت ہے جو روایت اور جدت کو ایک ہی دھارے میں بہاتا ہے۔
لیکن ان سب کے درمیان جو اعلان سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے، وہ ایک سو جلدوں پر مشتمل کتاب ”الکون و اناسی کثیرا” ہے۔ ایک ایسا علمی منصوبہ جو تاریخِ کائنات کو حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کے ادوار سے لے کر تمام انبیاء کے حالات تک بیان کرے گا اور وہ بھی اس احتیاط کے ساتھ کہ بیان قرآن کی حدود سے باہر نہ جائے۔
کتاب کے نام کا ایک حصہ اناسی کثیرا (بہت سے لوگ) میں اناسی انسان کی جمع ہے جو سورہ فرقان کی آیت نمبر 49 سے لیا گیا ہے، جو بارش کے حوالے سے اظہار تشکر کے تناظر میں آیا ہے۔ اس کا مقصد انسانی تاریخ کے گم کشتہ اوراق کو تخیل کی دنیا سے اٹھاکر محسوسات کی بساط میں بچھانا ہے تاکہ آج کی نسل یہ جان سکے کہ عالم انسانیت کن کن ادوار سے گزر کر اپنے ارتقائی سفر کے موجودہ زمانے تک پہنچا ہے۔
مندرجہ بالا اعلان محض ایک حکمران کا نہیں، بلکہ ایک دانشور، مفکر و مصنف کا ہے، جو جانتا ہے کہ آج کا انسان معلومات کے ہجوم میں گھرا ہوا ہے مگر مستند علم سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ایک منظم، قابلِ اعتماد اور دینی بنیادوں پر قائم علمی کام نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ایک فکری خدمت بھی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو محض ماضی کے بیان تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے ایک وسیع تر شعور سے جوڑا گیا ہے۔ ایسا شعور جو انسان کو اپنے گرد و پیش سے آگاہ رکھے اور دنیا کے دیگر خطوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی صلاحیت دے۔
اگر ان تمام پہلوں کو یکجا کیا جائے تو ایک واضح تصویر ابھرتی ہے۔ یعنی ایک ایسا ماڈل جہاں حکمرانی کا مقصد صرف ترقیاتی منصوبے مکمل کرنا نہیں بلکہ ایک باشعور، متوازن اور اپنی تاریخ سے جڑا ہوا انسان تیار کرنا ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں اکثر ترقی کا پیمانہ صرف معاشی اشاریے بن چکے ہیں، وہاں شارجہ ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ ایک ایسی کہانی جو ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام سے شروع ہو کر کتاب کے سو جلدوں تک پھیل جاتی ہے، اور انسان کو اس کے ماضی، حال اور مستقبل سے جوڑ دیتی ہے اور شاید یہی وہ نقطہ ہے جہاں ترقی ایک تہذیب اور تعلیم کے جہاں میں بدل جاتی ہے۔

