امریکا ایران پس پردہ بات چیت کی تفصیلات سامنے آگئیں

امریکا اور ایران کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں، جس کا مقصد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جو جنگ کا مکمل خاتمہ کر سکے۔
عرب میڈیا کے مطابق دو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے گذشتہ روز  ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کی ہے، جس نے انہیں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے کے قریب کر دیا ہے۔ پاکستان، مصر اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والے ثالثوں نے 21 اپریل کو عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے باقی ماندہ اختلافات کو ختم کرنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی۔
دریں اثنا، ایک امریکی اہل کار نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وائٹ ہاؤس کے مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، انھوں نے گذشتہ روز ایرانیوں اور ثالثوں کے ساتھ رابطے اور تجاویز کے مسودوں کا تبادلہ جاری رکھا۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی مدینہ منورہ آمد، روضہ رسولؐ پر حاضری
مزید بتایا گیا کہ “وہ فون پر تمام ممالک اور ثالثوں کے ساتھ پس پردہ رابطے کر رہے تھے اور وہ (معاہدے کے) مزید قریب ہو رہے ہیں۔” ایک دوسرے امریکی اہل کار نے بھی پیش رفت ہونے کی تصدیق کی ہے۔ایک تیسرے امریکی اہل کار نے کہا کہ “واشنگٹن معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ایرانی حکومت کے اندر بھی ایسے فریق موجود ہیں جو ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔” تاہم ان کا خیال تھا کہ “اب چیلنج پوری حکومت کو اس سودے پر راضی کرنا ہے۔”
اسی طرح امریکی حکام اور ثالثی کی کوششوں سے واقف ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات کے پیش نظر معاہدے تک پہنچنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ علاوہ ازیں “روئٹرز” کو ایک ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی توقع رکھتا ہے جبکہ ایک اور ذریعے نے ایجنسی “بلومبرگ” کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع پر بات کر رہے ہیں۔
یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران میں ہیں تاکہ امریکا کا پیغام پہنچائیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ طے کی جا سکے۔ یہ بات ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتائی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذریعے نے واضح کیا کہ پاکستانی آرمی چیف کا دورہ ایران اور امریکا کے درمیان “فاصلہ کم کرنے” اور دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کو اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا، تاہم اس کا کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکلا جو دونوں فریق کے لیے اطمینان بخش ہو جبکہ آٹھ اپریل کو اعلان کردہ دو ہفتوں کی عارضی مہلت اب بھی برقرار ہے۔