ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، امریکا نے 10 ہزار فوجی اور درجنوں طیارے تعینات کردیے

امریکی سینٹرل کمانڈ  نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے یا وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں پر بحری محاصرہ نافذ کرنے کی کارروائی میں میرینز اور فضائیہ کے 10 ہزار سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ اس مہم میں 12 سے زائد جنگی جہاز اور درجنوں طیارے بھی شامل ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق سینٹ کام نے وضاحت کی ہے کہ کارروائی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی جہاز کو محاصرہ توڑ کر گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ 6 تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خلیج عمان میں واقع ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب واپسی اختیار کی۔امریکی کمانڈ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محاصرہ خلیج عرب اور خلیج عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں آنے جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر بلا امتیاز نافذ ہے۔دوسری جانب کمانڈ نے واضح کیا کہ امریکی افواج غیرایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے جانے والے ان جہازوں کے لیے جہاز رانی کی آزادی کی حمایت جاری رکھیں گی جو آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔


یاد رہے کہ ایران پر امریکی بحری محاصرہ تیسرے دن میں داخل ہو چکا ہے جبکہ بعض اندازوں کے مطابق اس سے ایرانی حکام کو یومیہ تقریبا 435 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس میں 276 ملین ڈالر کا نقصان برآمدات کی مد میں ہے جن میں زیادہ تر خام تیل اور پیٹرو کیمیکلز شامل ہیں۔ طویل محاصرے کے نتیجے میں ایران کی برآمدی آمدنی میں سالانہ 100 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو سکتی ہے جو کہ اس کی کل جی ڈی پی کے چوتھائی حصے کے برابر ہے۔ اس صورتحال سے زرمبادلہ کی کمی پیدا ہو سکتی ہے جس کے باعث شرح مبادلہ میں ہوش ربا اضافہ اور بجٹ خسارے میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: دوسرے مرحلے میں بھی امریکی وفد کی سربراہی کون کرے گا؟
امریکی فوج نے گذشتہ پیر کو واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا محاصرہ مشرق کی جانب خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلا دیا جائے گا۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ محاصرہ نافذ ہوتے ہی آبنائے ہرمز میں دو جہازوں نے اپنا رخ واپس موڑ لیا تھا۔ اس کے برعکس ایران نے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں فریقین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ تھا جو 28 فروری سنہ 2026ء کو شروع ہوئی اور 40 دن تک جاری رہنے کے بعد 8 اپریل سنہ 2026ء کو پاکستانی ثالثی سے دو ہفتوں کے لیے رکی تھی۔